صوابی ‘ سی پیک میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز نہیں کیاگیا ۔ احسن اقبال
تازہ ترین : 1

صوابی ‘ سی پیک میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز نہیں کیاگیا ۔ احسن اقبال

دیگر صوبوں کی طرح کے پی میں بھی انڈسٹریل زون قائم ہونگے ‘گیم چینجر سی پیک منصوبہ ہاتھ نکلنے کی صورت میں آئندہ نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگی ‘ فوجی عدالتوں میں توسیع اپوزیشن کی مشاورت سے کی جائیگی ‘ ہائر ایجوکیشن کو ترجیح دینے کے باعث آج ملک تعلیمی میدان میں آگے ہے ‘ 1998ء میں سائنس و ٹیکنالوجی کے 350 پی ایچ ڈی کے مقابلے میں آج مسلم لیگ (ن) کے دور میں 7500 پی ایچ ڈیز موجود ہیں ۔ صوابی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء)وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ سی پیک منصوبے میںکسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ اصلی مغربی روٹ بحال ہے ،مغربی روٹ کیلئے جو منصوبہ بندی کی گئی ہے اس میں کے پی کے کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا گیا۔ دیگر صوبوں کی طرح یہاں بھی انڈسٹریل زونز قائم ہونے کے علاوہ یہاں سرکلر ریلوے ٹریک بچھانے کے منصوبے بھی شامل ہیں ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے یونیورسٹی آف صوابی میںمختلف بلاکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا ۔ا نہوں نے ایم این اے عاقب اللہ کے ہمراہ ایڈ منسٹریشن ،ایگزا مینشن ، لیبارٹریز اور دیگر بلاکس کا افتتاح کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ گذشتہ ماہ چین میں سی پیک کے حوالے سے جو اجلاس ہو ا تھا اس میں وزیر اعلی کے پی کے پرویز خٹک نے بھی شرکت کی اس اجلاس میں سی پیک کے حوالے سے خیبر پختونخوا سمیت تمام صوبوں کے تحفظات دور کر لئے گئے تاہم اگر اس کے باوجود بھی کسی کے تحفظات ہوں تو ہم اس کو اس حوالے سے مطمئن کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان میں تبدیلی اور ترقی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے اور اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو آنے والے نسلیں ہمیں معاف نہیں کرینگی۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کے چیر مین بلاول بھٹو زرداری کہ پیش کیے گئے چار مطالبات میں سے جو بھی جائز مطالبات ہیںانہیں مل کر حل کرینگے ، مطالبات اور احتجاج ہر دور میں اپوزیشن کا حق ہے پی پی پی پہلے مرکز میں پاکستان مسلم لیگ (ن )کی حکومت کو تسلیم کرے کیونکہ ہم نے کے پی کے میں پی ٹی آئی اور سندھ میں پی پی پی کی حکومتوں کو کھلے دل سے تسلیم کیاہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع اپوزیشن کی مشاورت سے کی جائیگی ۔ فوجی عدالتوں کے قیام سے دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے ۔ احسن اقبال نے یونیورسٹی آف صوابی کے لئے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک ارب روپے گرانٹ کاا علان کر تے ہوئے کہا کہ افرادی قوت کے بغیر کوئی بھی ملک معاشی ترقی نہیں کر سکتا ہے آج کے دور میں اعلیٰ تعلیم ہر پاکستانی نوجوان کا بنیادی حق ہے اور موجودہ حکومت اس وژن کو پورا کر کے رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے اقتدار میں آکر سب سے زیادہ کام ہائیر ایجو کیشن کے شعبے میں کیا جس کی وجہ سے آج ملک تعلیم کے حوالے سے سب سے آگے ہے اور اس کاواضح ثبوت یہ ہے کہ 1998میں ملک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں 350پی ایچ ڈی تھے اور اب ہمارے دور میں 7500پی ایچ ڈیز موجود ہیں، اسی طرح حکومت پاکستان میں مزید 3ہزار نئے پی ایچ ڈیز تیار کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ آج دنیا میں ایک سُپر پائور ہے تو یہ وہاںپر موجود یونیورسٹیوں کی وجہ سے ہے ماضی میں جنرل ایوب خان اور مشرف اور دیگر حکومتوں میں اگر چہ امریکہ کے ساتھ ہمارے بہتر تعلقات تھے اس کے باوجود وہاں کی یونیورسٹیوں سے افرادی قو ت کے حصول کے لئے رابطہ نہیں کیا گیا تھااوراقتدار میںآنے کے بعد وزیر اعظم محمد نواز شریف نے امریکہ جاکر افرادی قوت کے حصول کے لئے امریکی یونیورسٹیوں سے رابطہ کیا اور وہاں دس ہزار پاکستانیوں کے پی ایچ ڈیز کے حوالے سے معاہدے پر دستخط بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک کے ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں وہاں کی حکومت اور وزیر اعلی شہباشریف کی جانب سے طلبہ میں لیپ ٹاپس کی تقسیم پر اپوزیشن نے کڑی تنقید کی لیکن اس کا نتیجہ آج یہ نکلا کہ آج دنیا میں ان لیپ ٹاپس کی بدولت پاکستان ایک اہم مقام حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دُنیا میں آج ترقی کی رفتار میں میڈیا نے پاکستان کو سب سے تیز ملک قرار دیا ہے اور یہ پاکستان میں واضح تبدیلی ہے اسی طرح ہماری حکومت نے بجلی کے بحران پر قابو پالیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کی معیشت ، انفرا سٹرکچر اور توانائی کو مضبوط کر رہی ہے تاکہ ملک مزید ترقی کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہائیر ایجو کیشن سے مل کر ملک میں اعلیٰ اور جدید تعلیم کے حصول کے لئے یونیورسٹیاں اور کیمپس قائم کر رہی ہے تاکہ بہترین اور تخلیقی صلاحیتوں سے نوجوانوںکوآراستہ کرکے ملکی ترقی کے لئے کار آمد بنایا جائے ۔
وقت اشاعت : 11/01/2017 - 18:07:22

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں