محکمہ زراعت کا پھلوں کی مکھیوں اور کپاس کے کیڑوں کو تلف کرنے کا بڑا منصوبہ

اتوار 1 جنوری 2017 15:50

فیصل آباد۔یکم جنوری (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 جنوری2017ء)محکمہ زراعت نے زونیٹا اور ڈارسیلوز نامی خطر ناک مکھیوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بنا یا ہے کیونکہ یہ دونوں اقسام پھلوں سخت نقصان پہنچاتی ہیں اسی طرح سفید مکھی ،گلابی سنڈی اور ملی بگ اور دیگر کیڑوں کو تلف کرنے کے لئے بھی حکمت عملی مرتب کی جارہی ہے جبکہ ان تینوں کیڑوں کو ختم کرنے سے کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوگا نیز پھل کی مکھی کی سال میں 13نسلیں جنم لینے سے پھلوں کو نقصان پہنچنے کے امکانات میں غیر معمولی اضافہ روکنے کیلئے نیا لائحہ عمل ترتیب دے دیاگیا ہے ۔

محکمہ کے ترجمان نے بتایا کہ پھل کی مکھی نرم پھل پر ڈنگ مار کر اس کے اندر انڈے دیتی ہے جو بعد میں سنڈی اور پروانہ بن کر ظاہر ہوتے ہیں اور اگلی نسل تیار کرتے ہیںاسکی سال میں کم از کم اس کی 10 سے 13 نسلیں چلتی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس کی دو اقسام قابل ذکر ہیں جن میں زونیٹا اور ڈارسیلوز پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پسند کئے جانے والے پاکستان کے تین اہم ترین پھلوں کی برآمدات میں رکاوٹ ختم کرنے کے لئے 227.610 ملین روپے کا منصوبہ شروع ہوگیا ہے ، اس منصوبہ سے آم ،امردواورکینو کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے ، اس منصوبہ کی کل لاگت 227.610 ملین روپے ہے ۔

منصوبہ کے تحت 3 پھل آم، ترشاوہ ، امرود کے باغات کا چنائوں کیا گیا ہے۔ اس منصوبہ کا انعقاد صوبہ پنجاب کے 30 اضلاع میں ہوگا جس میں سے 15اضلاع میں Fruitfly Meterial (میتھائل یوجینال ، پروٹین ہائیڈرو لائسیٹ، میلاتھیان اور پلاسٹک ٹریپ) پر 50% سبسڈی دی جارہی ہے۔