16میں دنیا بھر میں 122،پاکستا ن میں پانچ صحافی مارے گئے
تازہ ترین : 1

16میں دنیا بھر میں 122،پاکستا ن میں پانچ صحافی مارے گئے

عراق صحافیوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک ثابت ہوا، افغانستان دوسرے ،میکسیکوکاتیسرانمبرہے،عالمی صحافتی تنظیم

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء)2016 میں دنیا بھر میں کٴْل ایک سو بائیس صحافی مارے گئے۔ ان میں سے ترانوے صحافی اور میڈیا کارکنوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا جبکہ انتیس صحافی دو مختلف فضائی حادثوں میں ہلاک ہوئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے ) نے سال 2016ء کے لیے جاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں بتائی۔

اس رپورٹ کے مطابق رواں برس دنیا کے مختلف ملکوں میں مارے جانے والے مجموعی طور پر 122 نامہ نگاروں، پریس فوٹو گرافروں اور ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے دیگر پیشہ ور کارکنوں میں سے 93 مختلف بم دھماکوں اور تنازعات کے شکار علاقوں میں متحارب فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آ کر ہلاک ہوئے جبکہ باقی 29 صحافی دو ہوائی جہازوں کی تباہی کے واقعات میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

آئی ایف جے کی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس باقاعدہ نشانہ بنا کر ہلاک کیے جانے والے صحافیوں کی مجموعی تعداد 112 رہی تھی جبکہ اس سال یہ تعداد 100 سے کم یعنی 93 رہی۔ عراق دنیا کا وہ واحد ملک تھا، جو صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا۔ 2016ء میں عراق میں کٴْل 15 صحافی مارے گئے۔اس رپورٹ کے مطابق عراق کے بعد افغانستان صحافیوں کے لیے دنیا کا دوسرا سب سے پرخطر ملک ثابت ہوا، جہاں اس سال مارے جانے والے صحافیوں کی تعداد 13 رہی۔

اس کے علاوہ میکسیکو میں بھی اس سال 11 صحافی مارے گئے۔اسی سال دنیا کے جن دیگر ممالک میں سب سے زیادہ صحافی مارے گئے، ان میں یمن، گوئٹے مالا، شام، پاکستان اور بھارت کے نام نمایاں ہیں۔ یمن، گوئٹے مالا اور شام میں آٹھ آٹھ صحافی جبکہ پاکستان اور بھارت میں پانچ پانچ صحافی مارے گئے۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کے صدر فیلیپ لرٴْوتھ کے مطابق اس سال ٹارگٹ بنا کر قتل کیے جانے والے صحافیوں کی تعداد اگرچہ گزشتہ برس کے دوران ایسی ہلاکتوں کے مقابلے میں کم رہی تاہم ’میڈیا کارکنوں کے خلاف تشدد کے ہلاکت خیز استعمال میں معمولی کمی‘ کے باوجود یہ حقیقت تاحال بہت پریشان کن ہے کہ ’میڈیا کارکنوں کی سلامتی کے حوالے سے موجودہ بحرانی حالات کے خاتمے کی مستقبل قریب میں بھی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

اس سال دو مختلف فضائی حادثات میں جو 29 دیگر صحافی مارے گئے، ان میں سے برازیل کے 20 صحافی کولمبیا میں تباہ ہونے والے ایک مسافر ہوائی جہاز میں سوار تھے جبکہ ایک دوسرے ایئر کریش میں نو روسی میڈیا کارکن اس وقت ہلاک ہو گئے جب وہ ایک طیارے میں سوار شام جا رہے تھے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 01/01/2017 - 11:30:29

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :