کیلے کے مہاجر بچوں کی برطانیہ کے خلاف قانونی کارروائی
تازہ ترین : 1

کیلے کے مہاجر بچوں کی برطانیہ کے خلاف قانونی کارروائی

فرانس کے جنگل میںکیمپ میں موجود بچوں کو برطانیہ نے پناہ دینے کا وعدہ کیامگر مکر گیا،وکیل دفاع

لندن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جنوری2017ء)برطانیہ کو شمالی فرانس کے ختم کر دیے گئے کیلے کے مہاجر کیمپ کے بچوں کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے، کیلے سے برطانیہ منتقل ہونے والے ان بچوں کی سیاسی پناہ کے لیے دائرکردہ درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔غیرملکی خربرساں ادارے کے مطابق رواں برس کے آغاز پر انتہائی خستہ حالی کے شکار کیلے کے مہاجر کیمپ سے ان 36 بچوں کو برطانیہ پہنچایا گیا تھا۔

برطانوی حکومت کی جانب سے ان کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دیے جانے کے بعد انہیں برطانیہ چھوڑنے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ان بچوں کے وکیل توفیق حسین اس معاملے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر چکے ہیں اور ان کی جانب سے ملک بدری کے حکومتی فیصلے پر نظرثانی کے لیے اپیل جمع کرائی گئی ہے۔حسین کا کہنا تھا کہ جنگل کے نام سے مشہور شمالی فرانس کی مہاجر بستی کی بندش کے وقت برطانیہ نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ لاوارث یا تنہا بچوں کو اپنے ہاں جگہ دے گا، تاہم اس نے اپنے وعدے ایفا نہیں کیے۔

کیلے کی مہاجر بستی رواں برس اکتوبر میں مکمل طور پر ختم کر دی گئی تھی۔ برطانوی حکومت کی جانب سے یہ وعدے کیمپ کی مکمل بندش سے قبل کیے گئے تھے۔اس کیمپ میں موجود بالغ مہاجرین اور تارکین وطن کو فرانس کے مختلف علاقوں میں قائم مہاجر مراکز میں منتقل کر دیا گیا تھا، تاہم برطانیہ نے یہاں موجود لاوارث اور تنہا بچوں کو اپنے ہاں سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرانے کی اجازت دی تھی۔

وکلاء کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت بچوں کے سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کر رہی ہے اور اب تک حکام اس بات پر اتفاق تک نہیں کر پائے ہیں کہ ان بچوں میں سے کسی برطانیہ میں قیام کی اجازت دی جانا چاہیے۔وکلا کے مطابق برطانوی حکام نے ان بچوں کو قیام کی اجازت دینے سے متعلق سخت ترین ضوابط متعارف کروا دیے ہیں، جن کے مطابق صرف انہی بچوں کو برطانیہ میں قیام کی اجازت ہے، جن کی عمریں 12 برس سے کم ہیں اور جنہیں جنسی استحصال کے خطرات کا سامنا ہے یا سوڈان اور شام سے تعلق رکھنے والے وہ بچے، جن کی عمریں 15 برس سے کم ہیں۔

حسین کے مطابق ان کے موکل بچوں میں سے 28 اپنی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کیے جانے کی تحریری وجوہات جاننا چاہتے ہیں، جب کہ آٹھ وہ ہیں، جو ابھی تک اپنی درخواستوں پر فیصلے کے منتظر ہیں۔بتایا گیا ہے کہ ان کے موکل نابالغ بچوں میں سے 14 تا 17 برس کی عمروں کے وہ نوجوان ہیں، جن کا تعلق اریٹریا، افغانستان اور سوڈان سے ہے

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 01/01/2017 - 11:30:28

اس خبر پر آپ کی رائے‎

متعلقہ عنوان :