پنجاب حکومت کا ڈرگ ایکٹ 1976 ء میں ترامیم کا فیصلہ

جعلی و غیر معیاری ادویات کی تیاری و فروخت کرنے والوں کیخلاف سزائیں سخت اور جرمانے بڑھائے جائیں گے جعلی ادویات تیار و فروخت کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے ، غیر معیاری ادویات تیار اور فروخت کرنے والوں کو نشان عبرت بنانا ہو گا، اس مکروہ کاروبار کوختم کر کے دم لیں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب اجلاس میں وزیر اعلیٰ کی پنجاب میں جدید ترین ڈرگ ٹیسٹنگ لیبزکو آئندہ سال جون تک فنکشنل کرنے کی ہدایت

منگل 13 دسمبر 2016 22:25

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آئی این پی۔ 13 دسمبر2016ء) وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منگل کویہاں تین گھنٹے طویل اجلاس منعقد ہواجس میں صوبے میں صحت عامہ کے اصلاحاتی پروگرام خصوصا جعلی و غیر معیاری ادویات کے خاتمے کیلئے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میںڈرگ ایکٹ 1976ء میں ترامیم کا فیصلہ کیا گیا جس کے تحت جعلی و غیر معیاری ادویات کی تیاری و فروخت کرنے والوں کے خلاف سزائیں سخت کی جائیں گی اورایسے عناصر کی بیخ کنی کیلئے جرمانوں میںاضافہ کیا جائے گا،اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی بھی منظوری دی گئی-وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کا خاتمہ کر کے دم لیں گے -جعلی اور غیر معیاری ادویات کے گھناؤنے کاروبار میں ملوث عناصر موت کے سوداگر ہیں اس لئے جعلی اور غیر معیاری ادویات تیار اور فروخت کرنے والوں کو نشان عبرت بنانا ہو گا، انہوںنے کہاکہ جعلی اور غیر معیاری ادویات تیار و فروخت کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی اور اس مکروہ کاروبار کا صوبے سے مکمل خاتمہ کر دیں گے -انہوںنے کہا کہ معیاری ادویات ہر مریض کا حق ہے اور یہ حق اسے ہرصورت پہنچائیں گے - وزیر اعلی نے لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر چار بڑے شہروں میں جدید ترین ڈرگ ٹیسٹنگ لیبزکو آئندہ سال جون تک فنکشنل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جدید ترین ڈرگ ٹیسٹنگ لیبز کا قیام معیاری ادویات کی فراہمی کی جانب اہم قدم ہے - اس لئے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبز کے قیام کے منصوبے پر تیز رفتاری سے کام کیا جائی- وزیراعلی نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ یہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی مکمل طور پر خود مختار ادارہ ہو گا- وزیر اعلی نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چیف ڈرگ کنٹرولر کے آفس کی تنظیم نو کا عمل جلد سے جلد مکمل کیا جائی-انہوںنے کہا کہ مجھے جعلی و غیر معیاری ادویات کے خلاف مہم میں نتائج چاہیئں- صوبائی وزراء خواجہ سلمان رفیق ، خواجہ عمران نذیر ، مشیر ڈاکٹر عمر سیف، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹری قانون، سیکرٹری پراسیکیوشن، طبی ماہرین اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔