وزیراعظم اور ترک صدر مابین ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط تذویراتی شراکت داری ..
تازہ ترین : 1

وزیراعظم اور ترک صدر مابین ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط تذویراتی شراکت داری میں تبدیلی ، اہم ایشوز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے اور اعلیٰ سطح تذویراتی کونسل کے تحت جاری منصوبوں پر عمل درآمد پر اطمینان کا اظہار

ونوں ملکوں کی قیادت نے ترکی میں ناکام بغاوت کے خلاف ترک عوام کی بہادری کو سلام کیا، دونوں ممالک مابین توانائی اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوںمیں تعاون کو فروغ پر اتفاق کیا گیا، ترک صدر اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقاتوں کامشترکہ اعلامیہ جاری

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء)وزیراعظم نوازشریف اور ترکی کے صدر کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط تذویراتی شراکت داری میں تبدیلی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا،دونوں ملکوں کا اہم ایشوز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے اور اعلیٰ سطح تذویراتی کونسل کے تحت جاری منصوبوں پر عمل درآمد پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

جمعرات کو پاکستان اور ترکی کی تذویراتی شراکت داری کیلئے اقدامات کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق وزیراعظم نوازشریف اور ترک صدر کی ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی گئی ، اس دوران دونوں ملکوں کے قریبی تعلقات کی مضبوط تذویراتی شراکت داری میں تبدیلی پر اطمینان کا اظہار اور دونوں ملکوں کی قیادت نے ترکی میں ناکام بغاوت کے خلاف ترک عوام کی بہادری کو سلام کیا،پاکستان اور ترکی نے اہم ایشوز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے کا عزم کا اعاد ہ کیا گیا اور اعلیٰ سطح تذویراتی کونسل کے تحت جاری منصوبوں پر عملدرآمد پر بھی اطمینان کااظہار کیا گیا،توانائی اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوںمیں تعاون کو فروغ پر اتفاق کیا گیا،ثقافت،سیاحت اور تعلیمی وفود کے ذریعے عوامی روابط کے مزید فروغ کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

دونوںملکوں نے آزادانہ تجارت کے معاہدے کیلئے ہونیوالی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار اور آزادانہ تجارت کے معاہدے کیلئے مذاکرات رواںسال مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا،دفاعی شعبے میں تعاون کیلئے طویل المدتی جامع فریم ورک پر اتفاق اور وزارت خارجہ کی سطح پر دونوں ملکوں کا مشاورتی عمل کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور ترکی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا،عالمی برادری مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ملکوں سے تعاون کرے۔(خ م)

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/11/2016 - 20:15:59

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں