کراچی میں عوام کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کررہے ..
تازہ ترین : 1

کراچی میں عوام کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کررہے ہیں ،ناصر حسین شاہ

گرین لائن منصوبے کی لمبائی 17 کلو میٹر ہے ،منصوبے کے تحت یومیہ چار لاکھ افراد سفر کر سکیں گے،سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات پر جواب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء) سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ صوبے خصوصاً کراچی میں عوام کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے ۔ سپر ہائی وے پر ٹول پلازہ کے قریب ایک بڑے بس ٹرمینل کے لیے 100 ایکڑ اراضی مختص کر دی گئی ہے ۔ مستقبل کی جدید سفری سہولیات میں بزرگ شہریوں اور معذور افراد کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے ۔

وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف سوالوں کے جوابات دے رہے تھے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ سندھ ماس ٹرانزٹ بل 18 ماہ تک مجلس قائمہ کے سامنے زیر غور رہنے کے بعد سندھ اسمبلی نے منظور کر لیا ہے ۔ بل کی منظوری میں تاخیر سے ٹرانسپورٹ کے کئی منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گرین لائن منصوبہ وفاقی حکومت کا اور اورینج لائن سندھ حکومت کا منصوبہ ہے ، دونوں پر اب تیزی سے کام جاری ہے ۔

کراچی میں لائٹ ٹرین کا بھی منصوبہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گرین لائن منصوبے کی لمبائی 17 کلو میٹر ہے اور اس منصوبے کے تحت یومیہ چار لاکھ افراد سفر کر سکیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لائن کا منصوبہ پہلے سرجانی سے جمعہ گوٹھ اور پھر محمد علی جناح تک تھا ۔ اب اسے وسعت دے کر اب اسے گرومندر سے ٹاور تک بڑھا دیا گیا ہے ۔ اس لیے یہ منصوبہ جون 2017 کے بجائے اب 2018 میں مکمل ہوگا ۔

سید ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ اورینج لائن سندھ حکومت کا منصوبہ ہے ، جو پنجاب حکومت جیسا ہے ۔ پنجاب اس منصوبے کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں ۔ اس کے بعد سندھ میں اس منصوبے کا نام تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں ۔ اس منصوبے کے تحت اورنگی ٹاؤن سے میٹرک بورڈ آفس تک ٹرانسپورٹ سروس شروع کی جائے گی اور اس کی لمبائی 3.9 کلو میٹر ہے ۔ اس منصوبے کے تحت 8 اسٹیشن قائم کیے جائیں گے اور روزانہ چار لاکھ افراد کو آرام دہ سفر سہولت مل سکے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اور منصوبہ یلو لائن کا ہے جو داؤد چورنگی سے لکی اسٹار تک ہے ۔ اس کی لمبائی 22 کلو میٹر اور منصوبے کے تحت 41 اسٹیشن قائم ہوں گے ۔ اس منصوبے کے تحت ساڑھے 6 سے 7 لاکھ افراد سفر کر سکیں گے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ ایک اور منصوبے پرپل لائن کے نام سے زیر غور ہے ، جو بلدیہ ٹاؤن سے شیرشاہ براستہ حب ہو گا ۔ 9.7 کلو میٹر طویل اس منصوبے کے تحت 19 اسٹیشن قائم کیے جائیں گے اور ایک سے ڈیڑھ لاکھ افراد کو سفری سہولت حاصل ہو گی ۔

ایم کیو ایم کی خاتون رکن ہیر اسماعیل سوہو ، تحریک انصاف کے خرم شیر زمان اور ڈاکٹر سیما ضیاء کے مختلف ضمنی سوالوں کے جواب میں وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ حکومت سندھ نے سپر ہائی وے پر ایک بڑے بس ٹرمینل کی تعمیر کے لیے 100 ایکڑ اراضی مختص کر دی ہے ، جس پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں ماس ٹرانزٹ پروگرام کے تحت لوگوں کو جو جدید سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ، ان میں سینئر سٹی زن اور معذور افراد کی ضروریات کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا ہے اور اس سلسلے میں ماہرین سے مشاورت بھی کی گئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اور بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ نظام کی بہتری کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ نے 500 بسیں لانے کی منظوری دے دی ہے ۔ حکومت کا 4 ہزار بسیں لانے کا منصوبہ ہے اور یہ 500 بسیں منصوبے کا پہلا مرحلہ ہوں گی ۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن غزالہ سیال کے ایک سوال کے جواب میں وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ سپر ہائی وے پر جو بین الاقوامی معیار کا بس ٹرمینل بنایا جا رہا ہے ۔

وہاں لوگوں کو شہر سے ٹرمینل تک پہنچانے اور ٹرمینل سے شہر کے مختلف حصوں تک لانے کے لیے شٹل سروس کا منصوبہ بھی زیر غور ہے ۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ حکومت سندھ نے 6 ہزار رکشے لوگوں میں مفت تسیق کیے ہیں تاکہ عام شہریوں کی سفری سہولیات بہتر ہو سکیں ۔ ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی محدود عبدالرزاق کے ایک سوال کے جواب میں وزیر ٹرانسپورٹ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ موٹر وے پولیس کی جانب سے یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کے ڈرائیورز کو ٹریننگ دے گی ۔

اس سلسلے میں موٹر وے پولیس کے ساتھ بات چیت جاری ہے ۔ لیکن ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے ۔ ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی ہیر اسماعیل سوہو کے ایک سوال کے جواب میں وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ ٹھٹھہ ، بدین اور میرو خان میں بس ٹرمینلوں کی ایک اسکیم زیر تکمیل ہے اور اس منصوبے کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام 2013-14 میں فنڈز بھی مختص کر دیئے گئے تھے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/11/2016 - 19:49:37

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں