حکومت ٹیکسٹائل کے بند مگربحالی کے قابل اداروں پر توجہ دیتے ہوئے ہنگامی اقدامات ..
تازہ ترین : 1

حکومت ٹیکسٹائل کے بند مگربحالی کے قابل اداروں پر توجہ دیتے ہوئے ہنگامی اقدامات کرے، صدر ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد

فیصل آباد۔17 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء)ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کے صدر انجینئرمحمد سعید شیخ نے کہا ہے کہ حکومت کو ٹیکسٹائل کے بند مگربحالی کے قابل اداروں پر توجہ دیتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے چاہیئں تاکہ برآمدات متاثر نہ ہوں اور ان میں کام کرنے والے محنت کشوں کے سر سے بیروزگاری کی لٹکتی تلوار ختم ہو۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران فیصل آباد کے 20 سے زائد بڑے ایکسپورٹ اورینٹڈادارے بند ہونے سے زرمبادلہ میں 1.5ارب ڈالر کی کمی ہوئی ہے جبکہ بڑے پیمانے پر مزدور بھی بے روز گار ہوگئے ہیںنیز عالمی مندے کی وجہ سے تمام ملکوں کی برآمدات کم ہوئی ہیں۔ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ کی ریسرچ اینالسٹ سماویہ بتول اور ریسرچ فیلو ڈاکٹر فہد سعید سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کپاس کی پیداوارمیں کمی کی وجہ یقینا گزشتہ سیلاب بھی تھے جن کی وجہ سے کئی کسانوں کی ساری جمع پونجی ہی ختم ہو گئی تاہم حکومت نے ان کی بحالی کیلئے اقدامات کئے مگر وہ محض اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں، انہوں نے کہا کہ فیصل آباد اس حوالہ سے خوش قسمت علاقہ ہے کہ یہاں زرعی یونیورسٹی اور کئی دوسرے اہم زرعی تحقیقی ادارے موجودہیں جہاں پر کلائمیٹ چینج پر بھی کام ہو رہا ہے، انہوں نے بتایا کہ جامعہ کے ماہرین ایسی فصلوں کی تیاری میں مصروف ہیں جو شدید گرمی میں بھی اچھی پیداوار دے سکتی ہیں،انہوں نے کہا کہ قومی زراعت اور زراعت سے وابستہ صنعتوں پر ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت کو طویل المدتی پالیسیاں اور فوکسڈ حکمت عملی وضع کرنا ہوگی ، انہوں نے کہا کہ تاجروں اور بالخصوص برآمد کنندگان کو اپنے کاروبار سے متعلقہ مارکیٹ کی صورتحال اور آنے والے حالات سے بھی باخبر رہنا پڑتا ہے تاہم جب تک انہیں اپنی صنعتوں کیلئے خام مال آسانی سے ملتا رہتا ہے وہ خاموش رہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ زیادہ تر صنعتکار اس وقت آواز اٹھاتے ہیں جب انہیں خام مال کی حصول یا اس کی کمی کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کا عذاب برداشت کرنا پڑتا ہے، انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں نیاب 78 کی کپاس کی ورائٹی کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات 14 ملین گانٹھوں تک پہنچ گئی تھی مگر اس کے بعد مختلف بیماریوں موسمی تبدیلیوں اور دیگر وجوہات کی وجہ سے اس میں بتدریج کمی ہوتی گئی جس کی وجہ سے اب ہماری پیداوار 10 ملین بیل پر آگئی ہے ، انہوں نے کہا کہ بہت سے مقامی برآمد کنندگان اپنے غیر ملکی خریداروں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے لمبے ریشے والی کپاس دوسرے ملکوں سے درآمدبھی کرتے ہیں کیونکہ ہماری کپاس کا ریشہ چھوٹا ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ہماری غیر ملکی ترسیلات میں زبردست کمی ہوئی ہے جس سے درآمدات اور برآمدات کا خسارہ مزید بڑھ گیا ہے لہٰذا اس پر قابو پانے کاواحد اور فوری طور پر دستیاب ذریعہ صرف اور صرف ٹیکسٹائل سیکٹر ہے لہٰذا حکومت کی پوری توجہ اس سیکٹر کی فوری بحالی پر ہونی چاہئے ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو پہلے مرحلے میں ٹیکسٹائل کے بند مگربحالی کے قابل اداروں پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ صرف فیصل آباد کے ان یونٹوں کی بحالی سے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر کااضافی زرمبادلہ کمایا جا سکتا اوربڑے پیمانے پر لوگوںکو روزگار بھی مہیا کیا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو پہلی فرصت میں ٹیکسٹائل کی وزارت کیلئے مکمل وزیر مقرر کرنا چاہئے ، انہوں نے ٹیکسٹائل پیکج کے فوری اعلان کا بھی مطالبہ کیا ۔

وقت اشاعت : 17/11/2016 - 15:01:47

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں