ْپاکستان اور ترکی کا 2017 کے آخر تک آزادانہ تجارتی معاہدے پر بات چیت مکمل کر نے ..
تازہ ترین : 1
ْپاکستان اور ترکی کا 2017 کے آخر تک آزادانہ تجارتی معاہدے پر بات چیت ..

ْپاکستان اور ترکی کا 2017 کے آخر تک آزادانہ تجارتی معاہدے پر بات چیت مکمل کر نے پر اتفاق

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء)پاکستان اور ترکی نے 2017 کے آخر تک آزادانہ تجارتی معاہدے پر بات چیت مکمل کر نے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک تعلقات کو مزید فروغ دینے کیساتھ مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا جائیگاجبکہ ترک صدر طیب اردوان نے نیو کلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی باعث تشویش ہے ،ْ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے ،ْپاکستان، بھارت کوکشمیرسمیت تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے ہوں گے ،ْپاکستان اورترکی مشکل وقت میں ایک ساتھ رہے ،ْ پاکستان کی دوستی اورساتھ کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ،ْبغاوت کی کوشش کے دور ان ،ْصدر ،ْ وزیر اعظم کے فون آئے ،ْ ترکی پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مکمل تعاون کریگا ،ْپاکستان، افغانستان اورترکی دوست ہیں ،ْ پاک افغان تعلقات بہتربنانے کیلئے کردار ادا کریں گے ،ْ ترک باغی گروہ سے تعلق رکھنے والے گروپ کو بیدخل کرنے کا پاکستانی فیصلہ خوش آئند ہے ،ْ امید ہے پاکستان ترکی میں ہونے والی بغاوت میں ملوث افراد کو کسی صورت پاکستان میں پناہ نہیں لینے دیگا۔

جمعرات کو ترک صدر رجب طیب اردوان وزیر اعظم ہائوس پہنچے تو وزیر اعظم محمد نواز شریف نے مرکزی دروازے پر معزز مہمان کا استقبال کیادونوں رہنما سلامی کے چبوترے تک گئے ،ْ جہاں پاک فوج کے چا ق چوبند دستے نے ترک صدر کو سلامی پیش کی۔اس موقع پر دونو ںممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کابینہ کے ارکان کا معزز مہمان سے تعارف کروایا جبکہ ترک صدر نے اپنے وفد کا تعارف کرایا۔

بعد میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیرا عظم محمد نوازشریف سے ون آن ون ملاقات کی جس میں دو طرفہ تعلقات،علاقائی اور خطے کی صورتحال پہ تبادلہ خیال کیا گیا ون آن ون ملاقات کے بعد دونوں سربراہان کے درمیان وفود کی شکل میں مذاکرات ہوئے ۔مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے کہا کہ ترک صدر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکوں کو دوسرا گھر ہے ،ْترکی میں بغاوت کی ہونے والی کوشش سے پاکستان کو دھکچہ پہنچا ،ْپاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کہاکہ ترک عوام نے بغاوت کی کوشش ناکام بناکر نئی تاریخ رقم کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں، ترکی صدر اردوان کی قیادت میں ترقی کے منازل طے کررہا ہے۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ میں مسئلہ کشمیر پر امن حل پر زور دینے پر صدر اردوان کا مشکور ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ ترک صدر کیساتھ ملاقات میں دونوں ممالک نے 2017 کے آخر تک آزادانہ تجارت کے معاہدے پر بات چیت مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم نواز شریف نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کے حوالے سے پاکستان کی حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہوئی۔انہوںنے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاک ترک دوستی خطے میں استحکام کا ایک اہم عنصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترک صدر سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید فروغ دیا جائیگا اور اسے مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کیا جائیگا۔نواز شریف نے کہا کہ 2017 میں پاک ترک سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہوجائیں گے اور اس سنگ میل کو بھرپور طریقے سے منایا جائیگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اورترکی کے تعلقات منفرد ہیں اور ترکی کے ساتھ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں ،ْ مشکلات کے ماحول میں پاکستان اورترکی کے تعلقات اوربھی مضبوط ہوں گے اور یقین ہے امن اورخوشحالی کے لئے ترکی اپناکردارجاری رکھے گا۔

انہوںنے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت اورسرمایہ کاری میں اضافہ ہوناچاہیے ۔اس موقع پر ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ پاکستان کیساتھ ترکی کے دیرینہ تعلقات ہیں ،ْشانداراستقبال کرنے پر پاکستان کاشکرگزار ہوں۔ترک صدر نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف سے مفید مذاکرات ہوئے ملاقات میں عالمی اور علاقائی امور پر بھی بات چیت ہوئی ،ْ2017 دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کا سال ہے۔

انہوںنے کہاکہ پاکستان کی دوستی اورساتھ کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے، پاکستان اورترکی مشکل وقت میں ایک ساتھ رہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی میں بغاوت کے فوراً بعد مجھے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف ، صدر ممنون حسین اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے فون آئے ،ْ ہم پاکستان اور یہاں کے عوام کا اخلاص کبھی بھول نہیں سکتے۔ترک صدر نے کہا کہ پاک افغان تعلقات بہتربنانے کیلئے کردار ادا کریں گے ،ْ پاکستان، افغانستان اورترکی دوست ہیں ،ْ خطے میں امن کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون نا گزیر ہے ۔

ترک صدر نے کہاکہ سیاسی، عسکری، تجارتی، ثقافتی اور معاشی تعلقات کو مزیدوسعت دینے کاعزم رکھتے ہیں ،ْترکی پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مکمل تعاون کریگا۔ طیب اردوان نے کہا کہ کنٹرول لائن پر حالیہ کشیدگی بھی باعث تشویش ہے اور ہم اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کافوری اوربامعنی حل چاہتے ہیں ،ْ مسئلہ کشمیرکواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرناہوگاانہوںنے کہاکہ پاکستان، بھارت کوکشمیرسمیت تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے ہوں گے۔

طیب اردوان نے پاکستان کی جانب سے ترک باغی گروہ سے تعلق رکھنے والے گروپ کو بیدخل کرنے کا فیصلے کو خوش اذئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترک باغیوں سے تعلق رکھنے والا کا ایک گروہ پاکستان میں موجود تھا انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ بغاوت کرنے والے دہشت گرد ہیں اور انہیں کھبی معاف نہیں کیا جاسکتا انہوںنے کہاکہ ہم دہشت گردتنظیموں کاخاتمہ کریں گے اور امید ہے ہماری مخالف دہشت گردتنظیم کو پاکستان میں بھی جگہ نہیں ملے گی۔

انہوںنے کہاکہ امید کرتا ہوں کہ پاکستان ترکی میں ہونے والی بغاوت میں ملوث افراد کو کسی صورت پاکستان میں پناہ نہیں لینے دیگا۔ترک صدر نے کہا کہ فتح اللہ گولن کی تنظیم پاکستان کی سلامتی کیلئے بھی خطرہ ہے اور اس سے منسلک ادارے کے خلاف پاکستانی حکومت کے اقدامات دیگر ممالک کیلئے ایک مثال ہیں-پاکستان اس تنظیم کے خلاف لڑائی میں ہمارے ساتھ ہی-ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان تعلیمی اداروں کے ترک طلباء کا خیال رکھا جائے گا ہم پاکستان کی وزارت تعلیم اور معارف فائونڈیشن کے درمیان تعاون اور کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں-فتح اللہ گولن سے منسلک ادارے کے معاملے پر ترک حکومت سے یکجہتی کا مظاہرہ کئے جانے پر وہ پاکستانی حکام کے شکرگزار ہیں-انہوں نے کہا کہ اس وقت شیطانی نیٹ ورک اور قاتلوںکے گروہ کے خاتمے کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے کے عمل سے گزر رہے ہیں اور کوشش کریں گے کہ اس تنظیم کو پاکستان میں چھپنے کیلئے کوئی جگہ نہ ملی-

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 17/11/2016 - 14:54:15

اپنی رائے کا اظہار کریں