آپ کوشش کر رہے ہیں کہ کیس آگے نہ چلے؟ کسی شخص کی پوری زندگی کی سکروٹنی نہیں کی جا ..
تازہ ترین : 1
آپ کوشش کر رہے ہیں کہ کیس آگے نہ چلے؟ کسی شخص کی پوری زندگی کی سکروٹنی ..

آپ کوشش کر رہے ہیں کہ کیس آگے نہ چلے؟ کسی شخص کی پوری زندگی کی سکروٹنی نہیں کی جا سکتی۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا پی ٹی‌آئی کے وکیل حامد خان سے مکالمہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17نومبر 2016ء): سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت جاری تھی ۔ پانامہ لیکس کیس کی آج کی سماعت میں پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے دلائل پیش کیے۔ جس پر جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ کیا آپ کوشش کر رہے ہیں کہ کیس آگے نہ چلے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ کسی شخص کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کی جا سکتی کیا۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ وزیر اعظم کے بیانات پر ہم حتمی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کے مابین مکالمہ ہوا جس میں حامد خان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نوازشریف کے دوبیٹوں کے کاروبار کی تفصیل نہیں دی گئیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ دو بیٹے بیرون ملک ہیں جہاں کاروبار کرتے ہیں لیکن دستاویزمیں جون2005میں اسٹیل مل بیچنےکی تاریخ تو ہے پرخریدنےکی تاریخ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ازسر نو شریف فیملی کی صنعتی ریاست کیسے زندہ ہوگئی؟ بھٹو کی جانب سے صنعتوں کوقومیانے کے بعد رقم کہاں سے آئی؟۔

دستاویزات میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ دبئی کی پراپرٹی کیسے خریدی اور کہاں سے پیسہ دبئی منتقل ہوا۔ دبئی پراپرٹی کی فروخت اورجدہ فیکٹری کی خریداری میں 21 سال کا وقفہ ہے۔ جس پر جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ ذرا اس تقریر کو اور آگے پڑھیں کہانی پھر بدلے گی۔

اس خبر نوں پنجابی وچ پڑھو
وقت اشاعت : 17/11/2016 - 13:45:22

اپنی رائے کا اظہار کریں