وزیر اعظم نواز شریف اور ترک صدر طیب اردگان کی مشترکہ نیوز کانفرنس
تازہ ترین : 1
وزیر اعظم نواز شریف اور ترک صدر طیب اردگان کی مشترکہ نیوز کانفرنس

وزیر اعظم نواز شریف اور ترک صدر طیب اردگان کی مشترکہ نیوز کانفرنس

پاکستان اور ترکی کے مابین اچھے تعلقات ہیں، پاکستان ترکوں کا دوسرا گھر ہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف لائن آف کنٹرول پر کشیدگی پر تشویش ہے ، مسئلہ کشمیر کا بامعنی اور جلد حل چاہتے ہیں، شاندار استقبال پر شکر گزار ہوں، مختلف شعبوں میں پاکستان سے تعاون کریں گے ۔ ترک صدر طیب اردگان

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17نومبر 2016ء): وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور ترک صدر طیب اردگان نے مشترکہ نیو کانفرنس سے خطاب کیا ۔ تفصیلات کے مطابق نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ترک صدر اور ان کے وفد کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے تعلقات منفرد ہیں۔ ترکی کے عوام نے جمہوریت پر حملہ ناکام بنا دیا ، ترکی میں بغاوت کی کوشش پر پاکستان کو دھچکا لگا۔

ترک قوم نے جمہوریت کی سربلندی کےلیےنئی تاریخ رقم کی، پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کیخلاف بغاوت کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکوں کا دوسرا گھر ہے۔ دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات اور محبت ہے ، ہم غمی اور خوشی میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ این ایس جی میں پاکستان کی رکنیت کیلیے ترکی کی حمایت قابل تعریف ہے،2017ء دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کی 70ویں سالگرہ کا سال ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کےدرمیان تجارت اورسرمایہ کاری میں اضافہ ہوناچاہیے۔ ترک صدر طیب اردگان کا کہنا تھا کہ پاکستان کےساتھ ترکی کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ شانداراستقبال کرنے پر پاکستان کاشکرگزارہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان،بھارت کوکشمیرسمیت تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے ہوں گے۔ ترکی معاشی،اقتصادی،تجارتی اور عسکری سمیت دیگر شعبوں میں بھی پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا۔

ترک صدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیرکواقوام متحدہ کی قراردادوں کےمطابق حل کرناہوگا۔ مسئلہ کشمیر کافوری اوربامعنی حل چاہتےہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف سے مفید مذاکرات ہوئے، وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات میں عالمی اور علاقائی امور پر بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پرکشیدگی کی صورتحال پرتشویش ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

اس خبر نوں پنجابی وچ پڑھو
وقت اشاعت : 17/11/2016 - 13:01:24

اپنی رائے کا اظہار کریں