تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رائے ونڈ میں حکومتی فنڈز جاری نہ ہونے پر ادویات کا سٹاک ..
تازہ ترین : 1

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رائے ونڈ میں حکومتی فنڈز جاری نہ ہونے پر ادویات کا سٹاک ختم ہونے لگا

ایک ہفتے بعد ہسپتال میں شائد سردرد کی ایک گولی تک نہیں بچے گی ادویات کے پرائیوئٹ ٹھیکیداروں نے ایک کروڑ سے زائد کے بقایاجات کلیئر نہ کرنے پر مزید دوائیاں ادھار دینے سے انکار کردیا

رائے ونڈ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء)تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رائے ونڈ میں حکومتی فنڈز جاری نہ ہونے پر ادویات کا سٹاک ختم ہونے لگا،ایک ہفتے بعد ہسپتال میں شائد سردرد کی ایک گولی تک نہیں بچے گی ، ادویات کے پرائیوئٹ ٹھیکیداروں نے ایک کروڑ روپے سے زائد کے بقایاجات کلیئر نہ کرنے پر مزید دوائیاں ادھار دینے سے انکار کردیا ہے ، صورت حال کا علم ہونے پرمریضوں میں تشویش کی لہر دوڑگئی ،وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف رائے ونڈ کو دئیے جانے والے عظیم تحفہ کی خود حفاظت کریں ،بصورت دیگرناقص مینجمنٹ کی وجہ سے مریضوں کو ہنگامی حالات میں کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا ، مریض دہائی دیتے رہے، رائے ونڈ میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال چند مہینوں بعد ہی مسائل کا شکار ہوچکا ہے ، ہسپتال کونسل کے ماہانہ اجلاس میں ہسپتال کو ادویات ،سٹیشنری ،مشینری ،فرنیچر اور دیگر سامان جراحی فراہم کرنے والا ٹھیکیدار امانت علی اور لوکل پرچیز ادویات فراہم کرنے والا ٹھیکیدار سجاد مہر ہیلتھ کونسل کے ممبران ایم پی اے چودھری گلزار گجر اور اسسٹنٹ کمشنر رائے ونڈ علی شہزاد کے سامنے پھٹ پڑے ،انہوں نے کہا کہ وہ ہسپتال کونسل کو ملنے والے 50لاکھ روپے کے نئے فنڈ سے ان کو ادائیگی کریں ،اسسٹنٹ کمشنر علی شہزادکا کہنا تھا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے ،متاثرین سیکرٹری ہیلتھ اور سیکرٹری فنانس سے رابطہ کریں ، سراپا احتجاج ٹھیکیداران نے بتایا کہ وہ ہسپتال کو پہلے روز سے سپلائی دے رہے ہیں لیکن ان کو آج تک ایک پیسے کی ادائیگی نہیں کی گئی ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دوبار ہسپتال کو وزٹ کرچکے ہیں لیکن ان کو بوجوہ یہ مسئلہ بتایا نہیں گیا ، چودھری امانت علی نے ہسپتال سے 92لاکھ لینا ہیں جبکہ سجاد مہر کا 12لاکھ روپیہ بقایا ہے اور دونوں مالی صدمہ کا شکار ہوچکے ہیں ،ہسپتال میں ادویات کا سٹاک ختم ہونے کے باعث آپریشن میں استعمال ہونے والے خاص دھاگے تک موجود نہیں ،مذکورہ تشویش ناک صورت حال سے ہسپتال کے سب سے مصروف شعبہ گائنی میں بیٹھی حاملہ خواتین پریشان ہیں جو کہتی ہیں کہ اگلے ہفتے ڈلیوری کے دوران ہنگامی حالات میں ان کاکیا بنے گا ،تحصیل ہسپتال کونسل نے تشویش ناک صورت حال کی فوری اصلاح کا مطالبہ کرتے ہوئے ہسپتال کو ادویات اور دوسرا سامان فراہم کرنے والے ٹھیکیداروں کو جلد ادائیگی کرنے کی اپیل کی ہے ۔

وقت اشاعت : 16/11/2016 - 23:09:47

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں