صدر مملکت اور ترک ہم منصب کا دوطرفہ تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کرنے، مسئلہ کشمیر ..
تازہ ترین : 1
صدر مملکت اور ترک ہم منصب کا دوطرفہ تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کرنے، ..

صدر مملکت اور ترک ہم منصب کا دوطرفہ تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کرنے، مسئلہ کشمیر کے حل کرانے اور بھارتی جارحیت کے خاتمے کے حوالے سے مشترکہ تعاون پر اتفا ق

ممنون حسین کا پاکستانی آبدوز کی اپ گریڈیشن میں ترکی کے تعاون اور پاکستان سے سپر مشتاق تربیتی طیاروں کے حصول پر اظہاراطمینان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے ، اقوام متحدہ کے تحت مظالم کی تحقیقات ہونی چاہئیں، پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکی کی بھر پور حمایت غیر مشروط طور پر جاری رکھے گا ، پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکی کی بھر پور حمایت غیر مشروط طور پر جاری رکھے گا،صدر کی طیب اردگان سے ملاقات میں گفتگو، سی پیک منصوبوں پیش رفت سے آگاہ کیا، ترک ہم منصب کا اظہار مسرت سفارتی تعلقات کی 70 سالہ تقریبات بھر پور طریقے منا نے ، اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں،مشترکہ آباد کاری ڈاک ٹکٹ جاری کرنے اور ثقافتی تعاون میں اضافے کا فیصلہ دونوں ممالک مابین تجارت میں اضافے کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے ،ترک سرمایہ کار پاکستان میں توانائی اور انفراسٹرکچر کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے، ترک صدر کانیو کلیئرسپلائرز گروپ میں رکنی کے حوالے سے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان، دونوں صدور کا دوطرفہ طویل المدتی دفاعی تعاون کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء)صدر مملکت ممنون حسین اورترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کرنے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اور خطے میں امن، ، لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کے خاتمے ، افغانستان میں دیرپا امن کے لیے مشترکہ کوششوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ تعاون پر اتفا ق کیا ہے جبکہ پاکستان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کے معاملے میں بھر پور حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔

دونوں عالمی رہنمائوں کے درمیان یہ اتفاق رائے ملاقات میں سامنے آیا۔ بدھ کو دونوں رہنمائوں نے پہلے تنہائی میں ملاقات کی اس کے بعد دونوں ملکوں کے وفود بھی اس میں شامل ہوگئے۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ میولٹ کاوس اولو، صدارتی ترجمان ابراہیم کا لان، ترک سفیر صدیق باربر گرگن، پاکستان سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔

صدر مملکت نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ پاکستان اور ترکی کو دونوں ملکوں کے درمیان طویل المدتی دفاعی تعاون کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینی چاہیے جس سے معز ز مہمان نے اتفاق کیا۔ صدر ممنون حسین نے پاکستانی آبدوز کو اپ گریڈ کرنے پر ترکی کے تعاون اور پاکستان سے سپر مشتاق تربیتی طیاروں کے حصول پر اطمینان کا اظہار کیا۔صدررجب طیب ایردوآن نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان آنے والے دنوں میں دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہو گا اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

دونوں رہنمائوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ صدر مملکت ممنون نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان مظالم کی تحقیقات اقوام متحدہ کے تحت ہونی چاہیے۔ صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر کے ضمن میں ترکی کی بھر پور حمایت پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا اور معزز مہمان کو یقین دلایا کہ پاکستان قبرص کے معاملے پر ترکی کی بھر پور حمایت غیر مشروط طور پر جاری رکھے گا۔

انھوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔جس پر ترک صدر نے صدر مملکت اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ پاک ترک تجارت میں گذشتہ چند برسوں کے دوران کچھ کمی آئی ہے، جس میں فوری اضافے کی ضرورت ہے۔ترک صدر نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے تجارت میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جلد ہی اس صورت ِ حال میں بہتری پیدا ہو گی۔

صدر رجب طیب ایردوآ ن نے کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان میں توانائی اور انفراسٹرکچر کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انھوں نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی ترک سرمایہ کاری پر اطمینان کا بھی اظہار کیا۔دونوں رہنمائوں نے دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور ترکی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔

صدر مملکت نے توقع ظاہر کی کہ ترک عوام اپنے عزم سے کرداور داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو بہت جلد شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ترک صدر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ ، پاکستانی عوام اور مسلم افواج کے عزم کی تعریف کی اور پاکستان بہت جلد امن کا گہوارا بن جائے گا۔ صدر مملکت ممنون حسین نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ دونوں ملکوں کو اپنے سفارتی تعلقات کی 70 سالہ تقریبات بھر پور طریقے منائیں اور اس سلسلے میں تجویز پیش کی کہ اس طرح کے اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں کے علاوہ مشترکہ آباد کاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا جانا چاہیے اور ثقافتی تعاون میں اضافہ کیا جائے۔

ترک صدر نے بھی اس تجویز سے اتفاق کیا۔صدر مملکت نے ترک ہم منصب کو پاکستان اقتصادی راہداری کے سلسلے میں ہونے والے پیش رفت سے آگاہ کیا او راس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بیشتر ممالک میں امن کے قیام اور توازن کا مساوی اندازہ فکر رکھتے ہیں لیکن بعض ممالک کے امتیازی طرز عمل سے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ترک صدرنے پاکستان چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں تیزی سے ہونے والی پیش رفت پر مسرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ منصوبہ عالمی امن وا ستحکام کا ذریعہ بنے گا۔

صدر مملکت نے نیو کلیئرسپلائیر گروپ میں پاکستان کی رکنیت کے معاملے پر ترکی کی حمایت پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کچھ ملکوں کی طرف سے بھارت کی غیر منصفانہ حمایت سے پاکستان کے مفادات متاثر ہو رہے ہیں۔ ترک صدر نے اس سلسلے میں پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ترک صدر کی آمد پر صدر مملکت ممنون حسین نے ایوان صدر کے مرکزی دروازے پر ان کا خیر مقدم کیا، دوبچوں نے انھیں پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔

بات چیت کے بعد صدر مملکت نے معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔ اس موقع کے وفاقی وزرا، ارکان پارلیمنٹ، پارلیمانی قائدین اور زندگی کے مختلف شعبوں کی نمایاں شخصیات بھی موجود تھیں۔ عشائیہ میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، سینیٹر راجہ ظفر الحق،وفاقی وزیر برائے سیفران عبدالقادر بلوچ، وفاقی وزیر دفاعی پیداواررانا تنویر،وفاقی وزیر مذہبی امور سردارمحمد یوسف ، وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری ،گورنر خیبر پختونخواہ سردارمہتاب عباسی ، سینیٹر اعتزاز احسن، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدراور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمٰن اور قائمقام گورنر بلوچستان راحیلہ درانی کی بھی شرکت۔

عشائیے کے بعد پاک فوج کے بینڈ نے دونوں ملکوں کی مقبول دھنیں بجائیں جس سے مہمان صدر اور دیگر مہمان محظوظ ہوئے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/11/2016 - 22:46:23

اپنی رائے کا اظہار کریں