سی پیک کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازع نہ بنایا جا ئے اتفاق رائے سے فیصلے کئے جائیں‘ ..
تازہ ترین : 1

سی پیک کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازع نہ بنایا جا ئے اتفاق رائے سے فیصلے کئے جائیں‘ لیاقت بلوچ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سی پیک کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازع نہ بنایا جا ئے اتفاق رائے سے فیصلے کئے جائیں امریکہ سی پیک کے خلاف ہے تجارتی ترجیحات کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں ہمارا مطالبہ کسی کو ہٹانا نہیں کرپشن کا مکمل طور پر خاتمہ ہے اور احتساب کے لئے سپریم کورٹ کی سطح پر عدالتی کمیشن بنانا ہے تاکہ لوٹی ہو ئی دولت واپس لائی جا ئے قومی ترجیحات پر ایجنڈا واضح ہو نا چاہیئے پاکستان کی زراعت،،تجارت،صنعت اور مقامی انرجی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے پن بجلی اہم زریعہ ہے جماعت اسلامی کا واضح اور دو ٹوک انداز میں موقف ہے کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیںورنہ احساس محرومی بڑھتا جائے گا سیاسی جماعتوں کے قائدین کا سرائیکی صوبے کا مطالبہ صرف نعروں تک محدود ہے وکلاء الگ صوبے کے قیام کے لئے تحریک چلائیں جماعت اسلامی ساتھ کھڑی ہو گی اس خطے کے 9ہزار وکلاء سے اعلی عدلیہ میں جج نہ لینا میرٹ کی پامالی ہے جس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ملتان میں وکلاء کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ جس کی صدارت صدر بار عظیم الحق پیرزادہ نے کی اس موقع پر جنرل سیکریٹری محمد عمران خان خاکوانی، امیرجماعت اسلامی سٹی ڈسٹرکٹ ملتان امیر آصف محموداخوانی، ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی، کلیم اکبر صدیقی، کنور محمد صدیق بھی موجود تھے۔ انہوںنے مزید کہا کہ وکلاء نے اگر الگ صوبے کے قیام کے لئے موئثر انداز میں تحریک چلائی تو پارلیمنٹ پر دبائو بڑھے گا اور سیاسی جماعتوں کی مجبوری بن جا ئے گی لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام تر مصلحتوں سے بالا تر ہو کر الگ صوبے کے قیام کی تحریک منظم کریں کوئی چلے نہ چلے جماعت اسلامی وکلاء کے شانہ بشانہ ہو گی انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا احترام کرتا ہوں لیکن جنوبی پنجاب سے کسی کو نہ لینا اس سے بڑی میرٹ کی پامالی نہیں ہے سرائیکی وسیب کو اس کا حق ملنا چاہیئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے دبائو کے اتحادی ایجنڈے کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں صورتحال یہ ہے کہ نہ تو خارجہ پالیسی ہے اور نہ ہی وزیر خارجہ ہے امریکہ پاکستان کو بائی پاس کرکے انڈیا کی سرپرستی کر رہا ہے اور دوسری طرف بھارت نے یوٹرن لیتے ہو ئے اسرائیلی قیادت کو دہلی میں بلا رکھا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ خود مختار خارجہ پالیسی بنائی جائے کشمیر میں 130دنوں سے کرفیو نافذ ہے مظلوم کشمیریوں پر ظلم ہو رہا ہے ایران،ترکی ،چائنا کے ساتھ آگے نہ بڑھے تو مشکلات بڑھتی رہیں گی اقتصادی راہداری ترقی کی شاہراہ ہے جس کی وجہ سے معیشت مستحکم ہو گی لیکن مستقل خارجہ پالیسی اپنائی جائے امریکہ کی ترجیحات چائنا کو روکنے کی ہے وہ اپنی نئی صف بندی کر رہا ہے سی پیک پر محض خوشیوں کے شادیانے نہ بجائیں قرضوں کی لعنت میں جکڑی قوم کو قرضوں سے نجات بھی دلائی جائے انہوں نے کہا کہ سول و ملٹری تعلقات خراب ہو نے سے آئین کا قتل ہو تا ہے آزاد عدلیہ کو بیڑیاں پہنائی جاتی ہیںجمہوریت پر شب خون مارا جاتا ہے احتساب کرنے والے اداروں کو سیاست سے پاک کر کے اعتماد کو بحال کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ کرپشن سے پاک نظام وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے لئے جماعت اسلامی نے یکم مارچ سے تحریک شروع کر رکھی ہے تاکہ کرپشن سے نجات ہو انہوں نے کہا کہ لاکھوں نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لیکر دھکے کھاتے پھر رہے ہیں اور ان کو روزگار میسر نہیں ہے انہوں نے کہا کہ قومی وسائل پر لوٹ مار کے لئے مقتدر طبقہ لوگوں کو مسلکی، مذہب، اقلیت و اکثریت ،مزارات و امام بارگاہوں کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے یہاں تک کہ لوگوں کو برادری کی بنیاد پر بھی تقسیم کیا جا تا ہے مٹھی بھر طبقہ اقتدار پر قابض ہے اور کرپشن و لوٹ مار میں ملوث ہے لیکن جماعت اسلامی کے ہر ذمہ دار اور کارکن کا پانامہ لیکس ہو یا وکی لیکس دامن صاف ہے ہر کرپشن سے ہمارا دامن صاف ہے کسی میگا سکینڈل میں جماعت اسلامی موجود نہیں ہے انہوں نے کہا کہ نیب ، ایف آئی اے اور انوسٹی گیشن کے اداروں کو سیاسی کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

وقت اشاعت : 16/11/2016 - 21:08:15

اپنی رائے کا اظہار کریں