آفات سماوی کو روکنا اگرچہ کسی کے بھی بس میںنہیں تاہم آفات سماوی، سیلاب‘ مون ..
تازہ ترین : 1

آفات سماوی کو روکنا اگرچہ کسی کے بھی بس میںنہیں تاہم آفات سماوی، سیلاب‘ مون سون بارشوں‘ آگ اور دیگر واقعات جن سے انسان اور جانداروں کو نقصانات پہنچ سکتا ہے بارے بیشتر حفاظتی انتظامات سے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے

ڈپٹی کمشنر انصر یعقوب اور ایس ڈی ایس سردار محمد نواز خان کا اجلاس سے خطاب

میرپور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء)ڈپٹی کمشنر انصر یعقوب اور ایس ڈی ایس سردار محمد نواز خان نے کہا ہے کہ آفات سماوی کو روکنا اگرچہ کسی کے بھی بس میںنہیں تاہم آفات سماوی، سیلاب، مون سون بارشوں، آگ اور دیگر ایسے واقعات جن سے بنی نوع انسان اور جانداروں کو شدید نقصانات پہنچ سکتا ہے کے بارے میںبیشتر حفاظتی انتظامات کے ہونے سے بہت سارے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے اس سلسلہ میں پیشگی پلاننگ اور ساز وسامان بھہ ہوناچاہیے اور تمام ممکنہ آفات سماوی کے بارے میں پہلے سے تیار رہنا ہوگا تب جاکر مشکل کی گھڑی میں انسانی جانوں کو کیسے بچایا جا سکتا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایس ڈی ایس کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سابق سیکرٹری حکومت CEO ایس ڈی ایس سردار محمد نواز خان ، ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنر جنرل راجہ محمد فاروق اکرم خان ، ڈی ایف او راجہ عمران شفیع ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ راجہ طاہر خالق ایکسین شاہرات چوہدری محمد حنیف ، انفارمیشن آفیسر محمد جاوید ملک ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر 1122 جاوید اقبال ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سماجی بہبود آفاق قریشی ، ایکسین بلدیہ امتیاز بٹ ، ڈرگ انسپکٹر ڈاکٹر وسیم احمد خان کے علاوہ دیگر افراد نے شرکت کی ۔

اجلاس میں ایس ڈی ایس کے محمد وسیم خان نے قدرتی آفات کے بارے میں مفصل بریفنگ دی اور ضلعی افسران سے کہا کہ وہ اپنے ضلع کے متعلق آفات سماوی کسے نمٹنے کے لیے الگ پلا ن مرتب کریں ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر انصر یعقوب نے کہا ہے کہ 2005 کے زلزلہ میں آزادکشمیر میں بہت سانقصان محض اس وجہ سے ہوا کہ اتنی بڑی آفات سے نمٹنے کے لیے ہماری پاس کوئی ساز و سامان نہ تھا ۔

انھوں نے کہا کہ زلزلہ ، سیلاب ، اندھیاں ، بارشوں، لینڈسلائیڈنگ، آگ ، روڈ ایکسیڈنٹ، دہشت گردی سمیت دیگر ایسے واقعات جن سے بہت بڑانقصان ہوسکتاہے سے نمٹنے کے لیے ہمیں پیشگی تیاری کرنی چاہیے اور ان کے لیے ہمارے پاس ضروری سامان ہوناچاہیے۔ انھوں نے بتایاکہ ضلع میرپور میں منگلا ڈیم کے باعث ہنگامی حالات میں سپل وے کے کھولنے کے باعث تحصیل میرپورکے گائوںمنگلا ، لہڑی،بیلہ ،افضلپور، پل منڈا، جاتلاں کے گائوں شدید متاثرہوسکتے ہیں۔

اس طرح شدید زلزلہ کے باعث پورا ضلع میرپور بھی متاثر ہوسکتاہے اگرچہ میرپورضلع میں تمام عمارتیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنائی گئی ہیں تاہم نقصانات کو خارج از امکان نہیں رکھاجاسکتا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق سیکرٹری حکومت CEOایس ڈی ایس سردار محمد نواز خان نے کہاکہ قدرتی آفات جن میں زلزلہ سیلاب ، آندھیاں، طوفان، طغیانی،لینڈ سلائیڈنگ، روڈ ایکسیڈنٹ، آگ۔

آسمانی بجلی، وبائی امراض، زمینی تباہ کاریوں سمیت دیگر ایسے واقعات جو انسانی جانوں اور املاک کو نقصان پہنچاسکتے ہیں کے لیے ہمیں تیار رہناچاہیے اس سلسلہ میں شہری دفاع ، ریسکیو1122 ، محکمہ صحت عامہ شاہرات، لوکل گورنمنٹ کا بنیادی رول ہے جبکہ دیگر محکموں کے موثر لیزان کے باعث اور پیشگی حفاظتی اقدامات سے ان کی جانوں کے نقصانات کو کم سے کم کیاجاسکتاہے۔
وقت اشاعت : 16/11/2016 - 15:15:09

اپنی رائے کا اظہار کریں