الیکشن تک شرح نمو چھ فیصد ہو جائے گی،محاصل میں اضافہ کیلئے کاروباری برادری کا ..
تازہ ترین : 1
الیکشن تک شرح نمو چھ فیصد ہو جائے گی،محاصل میں اضافہ کیلئے کاروباری ..

الیکشن تک شرح نمو چھ فیصد ہو جائے گی،محاصل میں اضافہ کیلئے کاروباری برادری کا تعاون درکار ہے،فعال ٹیکس سسٹم نے امریکہ کو سپر پاور بنایا، بزنس مین اپنے ملک میں سرمایہ لگائیں،وزیر اعظم کی مشیر خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان کاکاروباری برادری سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء)وزیر اعظم کی مشیر خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں اور اصلاحات کی وجہ سے معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ الیکشن تک شرح نمو کو چھ فیصد تک پہنچا دینگے۔ پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح انتہائی کم ہے جو ملکی ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ امریکہ سپر پاور اورمغربی ممالک اس لئے ترقیافتہ ہیں کہ وہاں لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔

ایف بی آر میں شفافیت بڑھ گئی ہے جبکہ حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے جس میں کاروباری برادری کا تعاون درکار ہے۔وزیر اعظم کی مشیر خصوصی برائے ریونیو ہارون اختر خان نے یہ بات ایف پی سی سی آئی کیپیٹل ہائوس کی نئی عمارت مین کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر چئیرمین ایف بی آر نثار محمد خان، دیگر اعلیٰ حکام، ایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرئوف عالم اور تاجر رہنما موجود تھے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ ٹیکس چوری کے بہت واقعات ہو رہے ہیں مگر ہم صرف ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرتے ہیں جو حد سے گزر جائیں۔ جوشخص یا ادارہ ٹیکس چوری پر گرفت میں آنے کے بعد بھی ٹیکس ادا کرنے کیلئے تیار ہو جائے اسے گرفتار نہیں کیا جاتا۔ حکومت اب بھی پراپرٹی کی ایک چوتھائی ویلیو پر ٹیکس لے رہی ہے جبکہ دیگر بہت سے شعبوں کو مراعات دی گئی ہیں ۔

کم شرح سود کی وجہ سے نجی شعبہ پہلے سے دگنے قرضے لے رہا ہے جبکہ دیگر اقدامات کی وجہ سے پاکستانی معیشت ترقی کر رہی ہے جسکے گواہ کئی بین الاقوامی ادارے ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک دو فیصد یا اس سے بھی کم شرح سود پر قرض دینے کو تیار ہے جو اس ادارے کا حکومت کی اقتصادیوں پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تیل کی قیمت جنوبی ایشیاء میں سب سے کم ہے، پانچ ماہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا گیا ہے جبکہ فرٹیلائیزر پر سیلز ٹیکس سترہ فیصد سے کم کر کے پانچ فیصد کر دیا گیا ہے جس سے قیمت کم ہوئی ہے جسکا نتیجہ زیادہ زرعی پیداوار ہو گا۔

اسی طرح زرعی ادویات سمیت متعدد اشیاء پر ٹیکس کم کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بیرون ملک سرمایہ رکھنا اور سرمایہ کاری مشکل ہوتی جا رہی ہے اسلئے پاکستانی تاجر اپنا سرمایہ ملک میں رکھیں اور سرمایہ کاری بھی ملک میں ہی کریں۔انھوں نے کہا کہ چار سال میں غیر ملکی قرضے ایک سو دس ارب ڈالر تک پہنچنے کا دعویٰ کرنے والے غلط بیانی کر رہے ہیں۔چار سال میںجی ڈی پی کا حجم ، سرمایہ کاری اور برامدات بھی بڑھیں گی جسے انھوں نے نظر انداز کیا ہے جبکہ قرضوں کی اوسط شرح سود تین فیصد ہے۔

پاکستان کا جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کا حجم صرف بیس فیصد ہے جو تشویشناک نہیں۔ہارون اختر خان نے ایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرئوف عالم کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ملک بھر کی کاروباری برادری کی نمائندگی کا حق ادا کر دیا ہے اور ایف پی سی سی آئی کیپیٹل ہائوس کا آپریشنل ہونے کا کریڈٹ ان کو جاتا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی معیار کا آفس ہے جہاں ہر قسم کی سہولیات موجود ہیں اور اس کی وجہ سے ایف بی آر اور کاروباری برادری میں قربت بڑھے گی جو ملکی ترقی کیلئے ضروری ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 16/11/2016 - 14:29:39

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں