عمران خان نے ایک مرتبہ پھر ملکی مفادات کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے ترکی کے منتخب صدر ..
تازہ ترین : 1
عمران خان نے ایک مرتبہ پھر ملکی مفادات کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے ترکی ..

عمران خان نے ایک مرتبہ پھر ملکی مفادات کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے ترکی کے منتخب صدر کی آمد پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ‘عمران خان کی سیاست انا ‘الزام تراشی ‘گالم گلوچ سے شروع ہوتی ہے اور وہی پر ختم ہوجاتی ہے‘ وزیراعظم محمد نواز شریف نے پانامہ کے معاملے کے بعد پارلیمنٹ میں جو موقف پیش کیا تھا ‘آج بھی اسی موقف پر قائم ہیں ‘قطر والی بات عدالتی کیس کے لئے محفوظ رکھی گئی تھی ‘اگر مخالفین ہماری بات سے اتفاق نہیں کرتے تو وہ ثبوت عدالت میں لے آئیں

پاکستان مسلم لیگ ن کے راہنمائوں کی پریس کانفرنس

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے راہنمائوں نے کہا ہے کہ عمران خان نے چینی صدر کا دورہ منسوخ کرانے ‘کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے مشترکہ اجلاس کے بعد ایک مرتبہ پھر ملکی مفادات کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے ترکی کے منتخب صدر کی آمد پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ‘عمران خان جو اپنے آپ کو لیڈر سمجتھے ہیں انھیں ابھی تک یہ پتہ نہیں چلا کہ کسی کی ذاتی دعوت اور پارلمینٹ کے مشترکہ اجلاس میں کیا فرق ہے ‘عمران خان کی سیاست انا ‘الزام تراشی ‘گالم گلوچ سے شروع ہوتی ہے اور وہی پر ختم ہوجاتی ہے‘ وزیراعظم محمد نواز شریف نے پانامہ کے معاملے کے بعد پارلیمنٹ میں جو موقف پیش کیا تھا ‘آج بھی اسی موقف پر قائم ہیں ‘قطر والی بات عدالتی کیس کے لئے محفوظ رکھی گئی تھی ‘شریف فیملی نے بیرون ممالک میں سرمایہ کاری کی اور اسے فروخت کیا گیا ‘ایک پیسہ بھی پاکستان سے باہر نہیں لے کر گئے ‘اگر مخالفین ہماری بات سے اتفاق نہیں کرتے تو وہ ثبوت عدالت میں لے آئیں ‘عمران خان نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکا ٹ کر کے ثابت کر دیا کہ ان کی سیاست میں کشمیر کاز شامل نہیں ہے ۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ‘وزیر مملکت انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان ‘وزیر مملکت کیپٹل ایڈمنٹسریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ڈویژن ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور ایم این اے دانیال عزیز نے منگل کی رات پی آئی ڈی کے میڈیا سینٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آج ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کا دوست ملک ترکی کے متنخب صدر پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں اورعمران خان نے اپنی عادت کے مطابق ناسمجھی ‘ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار رکھا ہے جوافسوسناک ہے‘عمران خان جب سے سیاست میں پیدا ہوئے جھوٹ کا کھیل کھیل رہے ہیں ‘پہلے بھی ان کے دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ منسوخ ہوا ‘سی پیک کے تمام منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر کا باعث بھی عمران خان ہی ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ سی پیک آنے والے نسلوں کا مستقبل ہیں، پتہ نہیں عمران خان کس کے کہنے پر اس منصوبے کو متنازعہ بنا رہے ہیں ‘ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ عمران خان ایسے فیصلے ناسمجھی میں کرتے ہیں یا وہ سوچ کی اس کیفیت میں چلے جاتے ہیں جس میںاچھے برے کی تمیز نہیں رہتی میں فیصلے کرتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان میں اگر تھوڑی سی بھی اخلاقی جرات اور شرم نام کی کوئی چیز ہوتی تو انتخابی دھاندلی پر کمیشن کے فیصلے ‘خواجہ آصف کے خلاف کیس کے فیصلے ‘ تحریک آزادی کو نقصان پہنچانے کے بعد اور لندن میئر الیکشن میں یہودی رشتہ دار کی انتخابی مہم چلانے پر معافی مانگ لیتے ۔

انہوں نے کہا کہ شریف فیملی نے بیرون ملک جو بھی کاروبار کیے اس کے لئے ایک پیسہ بھی پاکستان سے باہر نہیں گیا ‘پیپلز پارٹی کے دور میں شریف فیملی کا احتساب کیا گیا ‘مشرف دور میں شریف فیملی کا احتساب کیا گیا لیکن نکلا کچھ نہیں کیونکہ سب جھوٹ‘ الزامات اور مفروضات پر مشتمل تھا ۔انہوں نے کہا کہ میاں شریف نے قطر میں جو سرمایہ کاری کی تھی اس کے لئے انہوں نے اپنی زندگی میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ اس کا تمام سرمایہ اور منافع حسین نواز کو ملے گا ‘ان کے انتقال کے بعد اسی پر عمل کیا گیا ‘اس کے نتیجے میں حسین نواز کو اپارٹمنٹس ملے تھے ‘جو یہ کہتے ہیں ہمارے پاس شواہد ہیں وہ سامنے کیوں نہیں لاتے ‘شریف فیملی نے جو بھی دستاویزات عدالت میں جمع کرائیں ہیں وہ سوچ سمجھ کر اور حقائق کی بنیاد پر عدالت کو پیش کی گئیں ہیں ۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عمران خان اب بھا گ رہے ہیں لیکن انھیں ہم بھاگنے نہیں دیں گے ‘دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گا ۔وزیر مملکت انوشہ رحمان نے کہا کہ عمران خان اور اعتزاز احسن وزیراعظم پر الزامات کے حملے کرتے ہیں ‘حالانکہ نواز شریف کا نام پانامہ میں ہے اور نہ ہی ان کا فلیٹس سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی کوئی بچہ ان پر انحصار کرتا ہے ‘دراصل یہ حملے ‘حسد اور الزامات کی وجہ شارٹ کٹ کی تلاش کے لئے ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ‘انکے بچوں نے جو بھی جوابات داخل کیے ہیں وہ عدالت کے تمام سوالات کے جوابات پر مشتمل ہیں ۔وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ایک عدالتی اشتہاری اور مفرور عدالت عظمی میں بیٹھ کر کیسے فخر محسوس کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آج تک جتنے بھی الزامات لگائے وہ صرف الزامات کی حد تک ہی ہیں ۔ایم این اے دانیال عزیز نے کہا کہ آج عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف بھی ایک کیس کی سماعت تھی ‘لیکن اس کیس کو عمران خان اہمیت نہیں دے رہے ‘اکبر بابر کے الزامات آج بھی جواب مانگتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اب ثبوت عدالت میں لیکر آئیں ‘وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ میرے پاس بہت ثبوت ہیں ۔ایم این اے دانیا ل عزیز نے کہا کہ عمران خان نے وزیراعظم سے لیکر پاکستان کے تمام اداروں جن میں نادرا ‘الیکشن کمیشن ‘پارلیمنٹ ‘ ایف آئی اے سمیت ہر ادارے پر الزامات کی بوچھاڑ کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اصل میں بابائے آف شور عمران خان خود ہی ہیں ‘اس وقت آف شور کمپنی بنائے جب لوگوں کو آف شور کمپنیز کا پتہ ہیں تھا ۔

انہوں نے کہا ک ہم پوچھتے ہیں کہ عمران خان کس منہ سے عدالت میں گئے اور کس منہ سے عدالت سے 15دن مانگ رہے تھے ‘ہمیں تو عدالت نے جواب داخل کرانے کے لئے 24گھنٹے دیئے اور ہم نے اس وقت کے اندر جواب داخل کرائے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ مجھے عمران خان نے بنی گالہ کا گھر جو دیا تھا طلاق کے بعد واپس کر رہی ہوں ‘یہ جگہ عمران کی ملکیت ہے تحفہ نہیں ہے ‘عمران خان بتائیں کہ یہ بھی مسلم لیگ ن نے جمائما خان سے لکھوا یا تھا ۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے پارلیمنٹ میں خطاب اور اب تک عدالت میں جمع کرائے گئے شواہد میں کوئی تضاد نہیں ہے ‘اگر کوئی ان دونوں کو توڑ موڑ کر پیش کرے تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں‘ غیر جانبداری سے اگر دیکھیں تو کوئی تضاد نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ سعد نے کہا کہ طاہر القادری میں اب وہ شدت نہیں رہی ‘وہ واپس آرہے ہیں بہت سے حقائق جان چکے ہیں ‘مخالفت کے باوجود بھی ہم ان کا احترام کرتے ہیں ۔
وقت اشاعت : 15/11/2016 - 20:45:33

اپنی رائے کا اظہار کریں