عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر برقرار رہنے ..
تازہ ترین : 1
عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر برقرار ..

عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر برقرار رہنے کا اعلان

جب تک سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے پارلیمنٹ نہیں جائینگے ،ْرائے ونڈ سے دبئی اورقطر کی نئی کہانی سامنے آئی ہے ،ْثابت ہوگیا ہے ایک جھوٹ چھپانے کیلئے کئی جھوٹے بولتے پڑتے ہیں ،ْوزیراعظم خود کو سپریم کورٹ کے سامنے بے قصور ثابت کردیتے ہیں تو ہم اسمبلی میں چلے جائیں گے ،ْمیڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے ترک صدر طیب اردگان کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر برقرار رہنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے پارلیمنٹ نہیں جائینگے ،ْرائے ونڈ سے دبئی اورقطر کی نئی کہانی سامنے آئی ہے ،ْثابت ہوگیا ہے ایک جھوٹ چھپانے کیلئے کئی جھوٹے بولتے پڑتے ہیں ،ْوزیراعظم خود کو سپریم کورٹ کے سامنے بے قصور ثابت کردیتے ہیں تو ہم اسمبلی میں چلے جائیں گے ۔

ذرائع کے مطابق منگل کو عمران خان کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ میں جاری پاناما کیس اور ترک صدر کے دورہ پاکستان اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س سے خطاب کے حوالے سے مختلف امورپر تبادلہ خیال کیا گیا ،ْاس موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلا س سے بائیکاٹ جاری رکھنے کااعلان فیصلہ کیا گیا بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 7ماہ میں حکومت نے بہت سی قلابازیاں کھائی ہیںاور سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت ہونے پر تمام جھوٹ سامنے آجائیں گے۔

انہوںنے کہاکہ رائے ونڈ سے دبئی اورقطر کی نئی کہانی سامنے آئی ہے، ثابت ہوگیا ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔عمران خان نے کہاکہ ترکی سے پاکستان کی سب سے قریبی دوستی ہے، ترک سفیر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی درخواست بھی کی تھی مگر ہم پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ ختم نہیں کرسکتے۔عمران خان نے کہاکہ حکومت نے جو کچھ ہمارے کارکنوں کے ساتھ کیا اس کے بعد پارلیمنٹ نہیں جاسکتے۔

پرویز خٹک اور ان کے قافلے پر ہونے والی پولیس کی شیلنگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے اسے ’غیر جمہوری برتاؤ‘ قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا برتاؤ کوئی دشمنوں سے بھی نہیں کرتا۔انہوںنے کہاکہ عام حالات میں ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ دوست ملک کے صدر کے خطاب کا حصہ نہیں بنا جائے لیکن موجودہ صورتحال میں جب نواز شریف کی کرپشن سامنے آچکی ہے اور حکومت نے ہمارے پرامن کارکنوں کے ساتھ آمرانہ رویہ اپنایا، اس کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا حصہ نہیں بنا جاسکتا۔

عمران خان نے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کا کیس چل رہا ہے تب تک پارلیمنٹ میں نہیں جائیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مجرم ملک کا وزیراعظم نہیں ہوسکتا۔صحافیوں کے سوال پر عمران خان کا کہنا تھا کہ پاناما نے الزامات نہیں ثبوت دئیے تھے ،ْاگر وزیراعظم خود کو سپریم کورٹ کے سامنے بے قصور ثابت کردیتے ہیں تو ہم اسمبلی میں چلے جائیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کہتا ہے کہ وہ کیس کو طول نہیں دینا چاہتے تو یہ بات خوش آئند ہے۔
وقت اشاعت : 15/11/2016 - 18:33:27

اپنی رائے کا اظہار کریں