تحریک انصاف کاترک صدر طیب اردگان کے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ..
تازہ ترین : 1
تحریک انصاف کاترک صدر طیب اردگان کے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس ..

تحریک انصاف کاترک صدر طیب اردگان کے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے کا اعلان

رائے ونڈ سے دبئی اورقطر کی نئی کہانی سامنے آئی ہے، ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت ہونے پر تمام جھوٹ سامنے آجائیں گے۔عمران خان کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو

ا سلام آباد(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 نومبر۔2016ء) پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے ترک صدر طیب اردگان کے پاکستانی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بائیکاٹ کے فیصلے پر برقرار رہنے کا اعلان کردیا ہے۔ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا حصہ نہیں بنیں گے۔

عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 7ماہ میں حکومت نے بہت سی قلابازیاں کھائی ہیں، اور سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کیس کی سماعت ہونے پر تمام جھوٹ سامنے آجائیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ رائے ونڈ سے دبئی اورقطر کی نئی کہانی سامنے آئی ہے، ثابت ہوگیا ہے کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے کئی جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔

چیئرمین تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ ترکی سے پاکستان کی سب سے قریبی دوستی ہے، ترک سفیر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی درخواست بھی کی تھی مگر ہم پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ ختم نہیں کرسکتے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو کچھ ہمارے کارکنوں کے ساتھ کیا اس کے بعد پارلیمنٹ نہیں جاسکتے۔پرویز خٹک اور ان کے قافلے پر ہونے والی پولیس کی شیلنگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے اسے ’غیر جمہوری برتاو‘ قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا برتاو کوئی دشمنوں سے بھی نہیں کرتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عام حالات میں ایسا سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ دوست ملک کے صدر کے خطاب کا حصہ نہیں بنا جائے لیکن موجودہ صورتحال میں کہ جب نواز شریف کی کرپشن سامنے آچکی ہے اور حکومت نے ہمارے پرامن کارکنوں کے ساتھ آمرانہ رویہ اپنایا، اس کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا حصہ نہیں بنا جاسکتا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کا کیس چل رہا ہے تب تک پارلیمنٹ میں نہیں جائیں گے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مجرم ملک کا وزیراعظم نہیں ہوسکتا۔

صحافیوں کے سوال پر عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاناما نے الزامات نہیں ثبوت دیے تھے، اگر وزیراعظم خود کو سپریم کورٹ کے سامنے بے قصور ثابت کردیتے ہیں تو ہم اسمبلی میں چلے جائیں گے۔عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ کہتا ہے کہ وہ کیس کو طول نہیں دینا چاہتے تو یہ بات خوش آئند ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 15/11/2016 - 17:18:53

اپنی رائے کا اظہار کریں