یورپی یونین کا ایک بار پھر ایران کے متنازع میزائل پروگرام پر گہری تشویش کا اظہار
تازہ ترین : 1

یورپی یونین کا ایک بار پھر ایران کے متنازع میزائل پروگرام پر گہری تشویش کا اظہار

ایران جوہری پروگرام کے عالمی معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کرنے میں ناکام یو رپی یونین کا بیلسٹک میزائلوں کے تجربات روکنے کا مطالبہ کر دیا

برسلز (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء)یورپی یونین نے ایک بار پھر ایران کے متنازع میزائل پروگرام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تہران سے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات روکنے کا مطالبہ کیا ہے، ایران متنازع جوہری پروگرام پر طے پائے عالمی معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہو گیا ، ایران کے بیلسٹک میزائل مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی یونین کے 28 ممالک کے وزراء خارجہ کے برسلز میں ہونے والے اجلاس کے دوران ایران پر جوہری اسلحہ اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری پر پابندی کے عالمی معاہدوں کی پاسداری پر زور دتے ہوئے یورپی یونین کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایران اپنے متنازع جوہری پروگرام پر طے پائے عالمی معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد میں ناکام رہا ہے۔

اس کے بیلسٹک میزائل مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔یوری یونین کی طرف سے ایران سے بیلسٹک میزائل تجربات روکنے کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب ایران اور یورپ کے مابین تعلقات بہتر بنانے کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔درایں اثناء ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے عسکری مشیر اور سابق آرمی چیف جنرل حسن فیروز آبادی نے کہا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور ان کے تجربات براہ راست سپریم لیڈر کے حکم پر کیے جا رہے ہیں۔

ایک انٹرویو میں جنرل فیروز آبادی کا کہنا ہے کہ جب تک مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کسی میزائل تجربے کی اجازت نہ دیں اس وقت تک کوئی میزائل خلا میں تجربے کے لیے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں بیلسٹک میزائلوں کے تمام تجربات سپریم لیڈر کے حکم پر کیے جاتے ہیں۔انہوں نے انکشاف کیاکہ ایران نے رواں سال جنوری میں ’’عماد‘‘ نامی ایک میزائل کا تجربہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہدایت پر کیا تھا۔

اس میزائل تجربے پر امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ایران میں بیلسٹک میزائلوں کی بحث اور یورپی یونین کی طرف سے پابندی کا مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف ایران کے ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ملک شام اور عراق میں بھی میزائل تیار کررہا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ کے مشیر حسین شیخ الاسلام نے حال ہی میں ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ شام کے حلب شہر اور عراق میں ایران کے کئی میزائل کارخانے کام کررہے ہیں
وقت اشاعت : 15/11/2016 - 14:18:06

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں