افغان فورسز کو طالبان جنگجوؤں کی جانب سے اہم علاقوں میں شدید مزاحمت کا سامنا
تازہ ترین : 1

افغان فورسز کو طالبان جنگجوؤں کی جانب سے اہم علاقوں میں شدید مزاحمت کا سامنا

ْ افغان صدرکا اقوام متحدہ سے طالبان امیر سمیت دیگر شدت پسندوں کے نام پر پابندی کا مطالبہ

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) افغان صدر اشرف غنی نے ملک میں امن کے قیام کو نقصان سے بچانے کیلئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان سربراہ مولوی ہیبت اللہ سمیت دیگر شدت پسندوں کے نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیں،فغان فورسز کو ملک میں طالبان جنگجوؤں کی جانب سے متعدد اہم علاقوں میں شدید مزاہمت کا سامنا ہے ۔برطانوی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے دارالحکومت کابل میں اقوام متحدہ کی پابندی کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی جس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ 'ہم چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ اپنی پابندیوں کی فہرست میں دہشت گردوں کے نام شامل کرے جس میں طالبان سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ کا نام بھی شامل کیا جائی'۔

افغان صدر کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب افغان فورسز کو ملک میں طالبان جنگجوؤں کی جانب سے متعدد اہم علاقوں میں شدید مزاہمت کا سامنا ہے۔اس کے علاوہ گذشتہ ہفتے میں بگرام کے نیٹو ائیر بیس جبکہ مزار شریف میں جرمن قونصلیٹ پر دو تباہ کن خود کش حملوں کی ذمہ داری بھی مذکورہ گروپ کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔دوسری جانب طالبان کی جانب سے امن مذاکرات میں شمولیت کیلئے پیش کی گئی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کے سینئر کمانڈروں کے نام اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست سے نکالے جائیں، جس کی وجہ سے ان رہنماؤں کے اثاثے منجمد ہیں اور سفر پر پابندی عائد ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں رواں سال مئی میں امریکی ڈرون حملے میں ملا محمد منصور کی ہلاکت کے بعد طالبان نے مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو اپنا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔جس کے ساتھ ہی طالبان نے افغان امن مذاکراتی عمل سے اس وقت تک علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا کہ جب تک افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجوں کو نکال اور طالبان رہنماؤں پر موجود پابندیوں کو اٹھا نہیں لیا جاتا۔واضح رہے کہ یہ شرائط افغان طالبان کی جانب سے امن مذاکراتی عمل کا حصہ بننے کیلئے پیش کی جانے والی متعدد شرائط کا حصہ ہیں۔جس کی وجہ سے ان میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔امن مذاکراتی عمل میں افغانستان اور پاکستان کے علاوہ امریکا اور چین بھی شامل ہیں۔
وقت اشاعت : 15/11/2016 - 14:16:51

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں