اقتصادی راہداری منصوبہ حقیقت بن چکا ہے ، چینی اخبار
تازہ ترین : 1

اقتصادی راہداری منصوبہ حقیقت بن چکا ہے ، چینی اخبار

پاک چین تجارتی اور کاروباری تعلقات مزید مضبوط ہو جائیں گے‘پاکستان محل وقوع کے باعث بڑی دفاعی اور تجارتی اہمیت رکھتا ہے‘ پاکستان جنوبی ایشیاء کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے،’’ گلوبل ٹائمز ‘‘

بیجنگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء)پاکستانی بندر گاہ گوادر سے تجارتی آپریشن شروع ہونے سے پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی اور کاروباری تعلقات مزید مضبوط ہو جائیں گے ، چین کے شمال مغربی خود علاقے سنکیانگ یغور اور پاکستان کی جنوب مغربی گوادر بندرگاہ کو ملانے والا اقتصادی راہداری منصوبہ پہلے کنٹینر قافلے کی روانگی کے بعد ایک حقیقت بن چکا ہے ، پاکستان جنوبی مغربی ایشیاء ، چین اور سینٹرل ایشیاء میں اپنے جغرافیائی محل وقوع کے حوالے سے بڑی دفاعی اور تجارتی اہمیت رکھتا ہے اور اس میں ترقی کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

یہ بات چین کے معروف اخبار گلوبل ٹائمز کی تازہ ترین اشاعت میں کہی گئی ہے ۔اخبار اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ چین پاکستان تعاون کا اگلا ہدف اس صلاحیت کو اجاگر کر کے مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے ، نئی تعمیر شدہ گوادر پورٹ چین پاکستان صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے میں مدد گار ثابت ہو گی کہ اس سے تجارتی سامان مغربی ایشیاء اور افریقہ کو برآمد کیا جا سکے گا تاہم بعض لو گ پر امید ہیں اور انہوں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے باعث پاکستان علاقے کی معاشی سرگرمیوں کا عظیم مرکز بن جائے گا ۔

پاکستان کو چین کے ساتھ تعاون سے کیا حاصل ہو گا ، اس کے بارے میں اخبار لکھتا ہے کہ چین کے ساتھ تعاون پاکستان کو چینی سرمایہ کاری کے بے شمار فائدے حاصل ہو ں گے ، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں دوطرفہ اعتماد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ، اس کا اظہار وزیر اعظم محمد نواز شریف کے اس بیان سے بھی ہوتا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے ، پاکستان میں سرمایہ کاری کی وجہ سے بھارت کی طرح کئی ممالک چینی سرمایہ کاری کے بارے میں سیاسی کشمکش کا شکار ہیں اور ابھی تک بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شرکت سے ہچکچا رہے ہیں ۔

اخبار کے مطابق چین دوسرے ممالک کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ رروٹ کے حوالے سے کام کررہا ہے جس کا مقصد بنیادی ڈھانچے کی سہولتوں کی فراہمی ،شاہراہوں کا جال بچھانا اور بجلی کے منصوبوں میں تعاون کرنا ہے جو کہ اس منصوبے کے لئے مثالی حیثیت رکھتے ہیں ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبوں نے مقامی معیشتوں کی ترقی اور اضافے میں موثر کردار ادا کیا ہے ، یہ منصوبہ گیم چینجر ہے اگر بھارت چین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے سے انکار کرتا رہا تو پاکستان جنوبی ایشیاء کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ بھارت کا رویہ ایسا ہی رہے اگر علاقائی طورپر نئی دہلی پر کوئی دبائو آیا تو وہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے اور چینی سرمایہ کاری کے بارے میں دوبارہ غور کر سکتا ہے ، چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے پر واقع ممالک کے ساتھ کام کرنے کے بارے میں میں مثبت اور کھلا رویہ رکھتا ہے ۔

بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان کئی شعبوں بالخصوص ریلوے کے نظام کی بہتری اور اپ گریڈنگ میں تعاون کے بڑے وسیع مواقع موجود ہیں ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گوادر کی بندرگاہ چین پاکستان اقتصادی راہداری میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے جس سے پاکستان تجارت ، کاروبار ، مینوفیکچرنگ اور ون بیلٹ ون رو ڈ منصوبے کو سہولت فراہم کرنے میں علاقے کا بڑا مرکز بن جائے گا ۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ چونکہ اس منصوبے کے مقاصد بڑے اعلیٰ ہیں اس لئے بعض غیر ملکی طاقتوں کی اس روٹ پر گہری نظر ہے ، ا س لئے ہمیں کسی معاہدے پر دستخط نہ ہونے کی پروا نہیں کرنی چاہئے بلکہ معاہدوں پر بروقت عمل کرنا چاہئے جو اس منصوبے کے روٹ پر سلامتی کی ضمانت دے سکیں ۔
وقت اشاعت : 15/11/2016 - 13:54:53

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں