وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کی جانب سے پانامہ لیکس کیس میں اپنا جواب جمع کرا دیا ..
تازہ ترین : 1
وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کی جانب سے پانامہ لیکس کیس میں اپنا جواب ..

وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کی جانب سے پانامہ لیکس کیس میں اپنا جواب جمع کرا دیا

سپریم کورٹ نے فریق مقدمہ بننے کی مختلف درخواستیں مسترد کردیں مزید سماعت پرسوںجمعرات 17 نومبر تک ملتوی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بچوں کی جانب سے پانامہ لیکس کیس میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے جبکہ فریق مقدمہ بننے کی مختلف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے مزید سماعت جمعرات 17 نومبر تک ملتوی کردی‘فاضل بنچ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے‘ ایک درخواست میں 1947 سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے‘ 700 صفحات ایک طرف سے جبکہ دوسری جانب سے 1600 صفحات جمع کرائے گئے ہیں‘ ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں‘نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں ‘ ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ‘ بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں‘ دستاویزات آ گئیں اگلا مرحلہ کمیشن کی تشکیل ہے‘ عمران خان کی درخواست چار فلیٹس تک محدود ہے اس لیے پہلے سنیں گے‘اخبارات کے تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا، پی ٹی آئی کی دستاویزات کا کیس سے تعلق ہی نہیں‘ اخبارایک دن خبر ہوتا ہے اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتے ہیں‘ اگر اخبارمیں خبر آجائے کہ اللہ دتہ نے اللہ رکھا کو قتل کردیا ہے تو کیا ہم اللہ دتہ کو پھانسی دے دیں گے۔

منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید ‘جسٹس جواد ایس خواجہ‘ امیر ہانی مسلم‘جسٹس آصف سعید کھوسہ ‘جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل 5 رکنی بنچ نے پامانا لیکس کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم کے بچوں حسین، حسن اور مریم نواز نے اپنا وکیل تبدیل کرلیا ہے۔ اب سلمان بٹ کی جگہ اکرم شیخ عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

سماعت کے آغاز پر طارق اسد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کی گزشتہ سماعت کا حکم پڑھا۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ آف شور کمپنیوں کے مالک تمام ارکان پارلیمنٹ کے خلاف تحقیقات کی جائے، یہ بہت اہم کیس ہے ، مقدمہ تیزرفتاری سے چلانے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا لگتا ہے آپ درخواست گزار نہیں نواز شریف کے وکیل ہیں، آپ کے جواب سے لگتا ہے کہ آپ مقدمے کا فیصلہ نہیں چاہتے، یہ ہمارا کام ہے ، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، اگر 800 افراد کی تحقیقات شروع کی تو 20 سال لگ جائیں گے، پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے، ایک درخواست میں 1947 سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے، 700 صفحات ایک طرف سے جب کہ دوسری جانب سے 1600 صفحات جمع کرائے گئے ہیں۔

ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں ، ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے ، بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں، دستاویزات آ گئی ہیں، اگلا مرحلہ کمیشن کی تشکیل ہے، عمران خان کی درخواست چار فلیٹس تک محدود ہے اس لیے پہلے سنیں گے۔

جسٹس عظمت سعید نے تحریک انصاف کے وکیل حامد خان سے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے سچ کو خود ہی دفن کردیا ہے، پی ٹی آئی کی دستاویزات میں اخباری تراشے بھی شامل ہیں حالانکہ اخبارات کے تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا، پی ٹی آئی کی ان دستاویزات کا کیس سے تعلق ہی نہیں، اخبارایک دن خبر ہوتا ہے اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتے ہیں۔ اگر اخبارمیں خبر آجائے کہ اللہ دتہ نے اللہ رکھا کو قتل کردیا ہے تو کیا ہم اللہ دتہ کو پھانسی دے دیں گے۔

وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ حسن اور حسین نواز پاکستان میں مقیم نہیں، مریم نواز کی جانب سے دستاویزات جمع کروا دی ہیں، وہ اپنے موکلین کی ایک دستاویز کے علاوہ تمام دستاویزات جمع کرارہے ہیں۔ اکرم شیخ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ پاکستان سے کوئی پیسہ باہر نہیں گیا ، میاں شریف کی70کی دہائی میں صنعتی 6 یونٹ تھے، جن میں سے 5 یونٹ قومیالیے گئے ، گلف اسٹیل دبئی کے امیر راشد المکتوم کی مدد سے لگائی گئی، 1980 میں پہلے 75 فیصد پھر 25 فیصد حصص بیچے گئے۔

اکرم شیخ نے استدعا کی کہ وہ قطر کے سربراہ کی دستاویز عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں، اس لیے بعض دستاویزات صرف عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اس دستاویز کی حساسیت کا پتا ہے، جو دستاویزات آپ نے دی ہیں وہ وزیراعظم کے پارلیمنٹ میں بیان کے برعکس ہیں، وزیر اعظم کے عوامی موقف میں اور آپ کے بیان میں فرق ہے، وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں کہا تھا جو بچا کچا سرمایہ تھا اس سے دبئی میں مل لگائی، دبئی والی مل فروخت کرکے عزیزیہ میں مل لگائی گئی، کیا قطر کے سابق وزیراعظم گواہی کیلئے عدالت آئیں گے۔

اگر یہ جمع کرائی گئیں تودوسرا فریق چاہے گا کہ وہ بھی اس کا مطالعہ کرے۔ اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ آپ کے پاس اس کے علاوہ بتانے کوکچھ نہیں۔اکرم شیخ نے کہا کہ میں وزیر اعظم کے بچوں کا وکیل ہوں وزیر اعظم کا نہیں ، میں نتائج کی پرواہ کیے بغیر عدالت کی معاونت کروں گا۔وزیر اعظم کا جواب ان کے وکیل دیں گے۔سماعت کے دوران شیخ رشید نے موقف اختیار کیا کہ پورا ملک انصاف کے لیے آپ کی طرف دیکھ رہا ہے ، آج قطر سے دستاویزات آئیں کل گاندھی کی طرف سے آجائے جسکی تصدیق مودی نے کی ہو۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لائر ہیں یا لائیر ہیں ۔تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ جمع کرائی گئیں دستاویزات کے مطالعے کے لیے انہیں 48 گھنٹوں کا وقت دیا جائے۔ عدالت نے فریق مقدمہ بننے کی مختلف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے مزید سماعتجمعرات تک ملتوی کردی
وقت اشاعت : 15/11/2016 - 12:24:40

اپنی رائے کا اظہار کریں