پانامالیکس:وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے دستاویزات سپریم کورٹ میں ..
تازہ ترین : 1
پانامالیکس:وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے دستاویزات سپریم ..

پانامالیکس:وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروادی گئیں۔ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے اور نا ہی بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام ہے۔تحریک انصاف کی جانب سے پیش کردہ شواہدمسترد

ا سلام آباد(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 نومبر۔2016ء)سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔

آج ہونے والی سماعت کے دوران وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے 400 صفحات سے زائد پر مشتمل دستاویزات عدالت عظمیٰ میں جمع کرائیں۔دستاویزات میں وزیراعظم نواز شریف کے ٹیکس ادائیگی سمیت زمین اور فیکٹریوں سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔دوسری جانب زمینوں کے انتقال نامے بھی دستاویزات میں شامل کیے گئے ہیں۔بعدازاں کیس کی سماعت جمعرات 17 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے اور نا ہی بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام ہے۔ سماعت کے آغاز پر درخواست گزار طارق اسد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کی گزشتہ سماعت کا حکم پڑھا۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ آف شور کمپنیوں کے مالک تمام ارکان پارلیمنٹ کے خلاف تحقیقات کی جائے، یہ بہت اہم کیس ہے ، مقدمہ تیزرفتاری سے چلانے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا لگتا ہے آپ درخواست گزار نہیں نواز شریف کے وکیل ہیں، آپ کے جواب سے لگتا ہے کہ آپ مقدمے کا فیصلہ نہیں چاہتے، یہ ہمارا کام ہے ، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، اگر 800 افراد کی تحقیقات شروع کی تو 20 سال لگ جائیں گے، پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے، ایک درخواست میں 1947 سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے، 700 صفحات ایک طرف سے جب کہ دوسری جانب سے 1600 صفحات جمع کرائے گئے ہیں۔

ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں ، ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے ، بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں، دستاویزات آ گئی ہیں، اگلا مرحلہ کمیشن کی تشکیل ہے، عمران خان کی درخواست چار فلیٹس تک محدود ہے اس لیے پہلے سنیں گے۔

جسٹس عظمت سعید نے تحریک انصاف کے وکیل حامد خان سے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے سچ کو خود ہی دفن کردیا ہے-پی ٹی آئی کی دستاویزات میں اخباری تراشے بھی شامل ہیں حالانکہ اخبارات کے تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا- پی ٹی آئی کی ان دستاویزات کا کیس سے تعلق ہی نہیںاخبارایک دن خبر ہوتا ہے اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتےہیں۔ اگر اخبارمیں خبر آجائے کہ اللہ دتہ نے اللہ رکھا کو قتل کردیا ہے تو کیا ہم اللہ دتہ کو پھانسی دے دیں گے۔

وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ حسن اور حسین نواز پاکستان میں مقیم نہیں، مریم نواز کی جانب سے دستاویزات جمع کروا دی ہیں، وہ اپنے موکلین کی ایک دستاویز کے علاوہ تمام دستاویزات جمع کرارہے ہیں۔ اکرم شیخ نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ پاکستان سے کوئی پیسہ باہر نہیں گیا ، میاں شریف کے70کی دہائی میں صنعتی 6 یونٹ تھے، جن میں سے 5 یونٹ قومیالیے گئے ، گلف اسٹیل دبئی کے امیر راشد المکتوم کی مدد سے لگائی گئی، 1980 میں پہلے 75 فیصد پھر 25 فیصد حصص بیچے گئے۔

اکرم شیخ نے استدعا کی کہ وہ قطر کے سربراہ کی دستاویز عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں، اس لیے بعض دستاویزات صرف عدالت کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اکرم شیخ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اس دستاویز کی حساسیت کا پتا ہے، جو دستاویزات آپ نے دی ہیں وہ وزیراعظم کے پارلیمنٹ میں بیان کے برعکس ہیں، وزیر اعظم کے عوامی موقف میں اور آپ کے بیان میں فرق ہے، وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں کہا تھا جو بچا کچا سرمایہ تھا اس سے دبئی میں مل لگائی-دبئی والی مل فروخت کرکے عزیزیہ میں مل لگائی گئی، پہلے موقف آیا کہ جدہ اسٹیل مل بیچ کر لندن جائیدادیں خریدی گئیں، کیا قطر کے سابق وزیراعظم گواہی کے لیے عدالت آئیں گے۔

اگر یہ جمع کرائی گئیں تودوسرا فریق چاہے گا کہ وہ بھی اس کا مطالعہ کرے۔ اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ آپ کے پاس اس کے علاوہ بتانے کوکچھ نہیں۔اکرم شیخ نے کہا کہ میں وزیر اعظم کے بچوں کا وکیل ہوں وزیر اعظم کا نہیں ، میں نتائج کی پرواہ کیے بغیر عدالت کی معاونت کروں گا۔وزیر اعظم کا جواب ان کے وکیل سلمان اسلم بٹ دیں گے۔سماعت کے دوران شیخ رشید نے موقف اختیار کیا کہ پورا ملک انصاف کے لیے آپ کی طرف دیکھ رہا ہے ، آج قطر سے دستاویزات آئیں کل گاندھی کی طرف سے آجائے جس کی تصدیق مودی نے کی ہو۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لائر ہیں یا لائیر ہیں؟۔ آپ سیاست کے بجائے وکالت اختیار کرتے تو کامیاب رہتے۔تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ جمع کرائی گئیں دستاویزات کے مطالعے کے لیے انہیں 48 گھنٹوں کا وقت دیا جائے۔ عدالت نے مقدمے میں مزید فریق بننے کی مختلف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے مزید سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔

سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ 17 نومبرکو اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جانا چاہیئے یا نہیں۔شیخ رشید نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ انھیں سپریم کورٹ میں معزز جج کی جانب سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سیاست چھوڑ کر وکالت اختیار کرلیں۔

وقت اشاعت : 15/11/2016 - 12:12:32

اپنی رائے کا اظہار کریں