حکومت 2018 تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے وعدے پر قائم ہے، آئندہ سال کوئلے سے چلنے ..
تازہ ترین : 1

حکومت 2018 تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے وعدے پر قائم ہے، آئندہ سال کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ چالو ہونے کے ساتھ ہی بجلی کو سستی کرنے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا، وزیر مملکت عابد شیر علی

فیصل آباد ۔14 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2016ء)حکومت 2018 تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے وعدے پر قائم ہے جبکہ اگلے سال 2017 تک کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ چالو ہونے کے ساتھ ہی بجلی کو سستی کرنے کا عمل بھی شروع ہو جائے گا ۔ یہ بات پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں تاجروں اور صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

انہوں نے بتایا کہ لوڈ شیڈنگ کے خاتمے پر قابو پانے کیلئے ان کی حکومت بجلی کی پیداوار کو ساڑھے تیرہ ہزار سے بڑھا کے 17 ہزار تک لے گئی ہے ۔جبکہ اکتوبر2018 تک مزید 8 سے دس ہزار کلو واٹ بجلی سسٹم میں آئے گی جس سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہو سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے آنے سے قبل ملک میں 14 سے 16 گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی تھی جبکہ ملک کا ہر طبقہ سڑکوں پر احتجاج کر رہا تھا ۔

انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومتوں نے بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی ٹرانسمیشن پربھی ایک پائی خرچ نہیں کی جبکہ اب اربوں روپے کی لاگت سے مٹیاری سے لاہور تک نئی ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی ۔ اس سلسلہ میں بڈنگ کے ساتھ ہی لائنیں بچھانے کا کام شروع ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے دوسرے مرحلے میں مٹیاری سے فیصل آباد تک ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے سال مئی جون تک ساہیوال کا کوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ مکمل ہو جائے گا ۔ اس طرح تھر کول پاور پلانٹ پر بھی کام جاری ہے ۔جس سے لوگوں کو سستی بجلی مہیا کی جا سکے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ درآمدی آر ایل این جی سے بلو کی ،بھکی اور حویلی بہادر شاہ میں آٹھ آٹھ سو میگا واٹ کے پاور پلانٹ لگائے جا رہے ہیں۔ بھکی کا پاور پلانٹ اپریل مئی میں مکمل ہو جائے گا جس کے دو دو مہینے بعد باقی دو پاور پلانٹ بھی آپریشنل ہو جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت پر کرپشن کا ایک بھی الزام نہیں لگایا جا سکا جبکہ صرف ان تین پاور پلانٹس سے سو ارب روپے کی بچت ہو گی ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تربیلا فور کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے جس سے 1300 میگا واٹ بجلی ملے گی ۔ انہوں نے چیمبر کے ممبران کو ان منصوبوں کے دور ے کی بھی دعوت دی اور کہا کہ ان کو دیکھ کر انہیں معلوم ہو گا کہ حکومت لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے کتنی سنجیدہ ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ فیصل آباد سمیت دیگر دس تقسیم کار کمپنیوں میں فل لوڈ پر سسٹم کو چلایا گیا فیصل آباد میں اس سلسلہ میں کوئی دقت پیش نہیں آتی جبکہ باقی کمپنیوں میں پیش آنے والے مسائل کو بتدریج حل کیا جا رہا ہے ۔ عابد شیر علی نے بتایا کہ فیصل آباد واپڈا انجینئرنگ اکیڈمی کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ ہو گیا ہے ۔

جبکہ اسلام آباد میں بھی واپڈا یونیورسٹی کیلئے زمین حاصل کی جار ہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں صدر ممنون حسین سے ان کا سنگ بنیاد رکھنے کیلئے وقت مانگا ہے اور توقع ہے کہ بہت جلد ان پر کام بھی شروع ہو جائے گا ۔ گیس سمیت شہر کے دیگر مسئلوں کے بارے میں وزیر مملکت نے کہا کہ صنعتکار اپنے مسائل کامشترکہ ایجنڈا بنا لیں تاکہ وہ ان کی متعلقہ وفاقی وزراء سے ملاقات کا بندوبست کر سکیں ۔

انہوں نے پنجاب میڈیکل کالج کو بھی یونیورسٹی کا درجہ دینے کے مطالبے کی حمایت کی اور بتایا کہ وزیر اعظم نواز شریف اپنے دورہ فیصل آباد کے دوران پنڈی بھٹیاں وزیر آباد موٹر وے اور ریلوے لائن کو ڈبل کرنے سمیت شہر کے دیگر اہم ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں خود اعلان کریں گے ۔اس موقع پر انہوں نے فیصل آبادمیں ہائی کورٹ بنچ کے قیام کی قرار داد پیش کی جس کی پورے ہائوس نے ہاتھ کھڑے کر کے تائید کی۔

فیسکو کے چیف ایگزیکٹو رشید احمد اسلم نے بتایا کہ وزیر مملکت نے کینال روڈ کی تیز رفتار ترقی کے حوالے سے بجلی کی اضافی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے سٹیم پاور اسٹیشن اور عبداللہ پور میں گیس Insulated گرڈ اسٹیشنوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے ۔ جن کی وجہ سے فل لوڈ پر چلنے والے گرڈ اسٹیشنوں پر دبائو کم ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ 2018 میں انہیں 3 ہزار میگا واٹ کا لوڈ بھی ملا تو وہ سسٹم کو کامیابی سے چلا سکیں گے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 35 پرانے ٹرانسفارمر تبدیل کئے جا چکے ہیں جبکہ 20 اگلے دس دنوں میں تبدیل کر دیئے جائیں گے ۔ اس سے قبل خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر انجینئر محمد سعید شیخ نے صنعتوں کیلئے بجلی کی لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم کرنے اور گھریلو صارفین کیلئے لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ کو نصف کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت جس محنت اور جذبے سے بجلی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے اس سے توقع ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ بہت جلد مکمل طور پر ختم ہو جائے گی ۔

تاہم انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے اور اس کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ ہمیں بھی دوسرے ملکوں کی طرح سستی بجلی مل سکے اس سے یقینا ہماری صنعتوں کی پیداواری لاگت میں خاطر خواہ کمی ہو گی ۔ انجینئر محمد سعید شیخ نے سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گیس کی بندش کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ پہلے ہمیں سسٹم سے 15 نومبر سے گیس کی بندش کے خط جاری کئے گئے ۔

اب فیصلے پر ایک ہفتے تک عملدرآمد رو ک دیا گیا ہے اور ہمیں کہا جا رہا ہے کہ ہم مہنگی درآمدی آر ایل این جی استعمال کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال بھی گیس بند کرنے کے بعد ان سمیت دیگر تمام ارکان اسمبلی کی کوششوں سے صنعتوں کیلئے کم از کم لائف سیونگ کوٹہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اس سال بھی ایسا کیا جا سکتا ہے اور ہماری درخواست ہے کہ آپ اس سلسلہ میں وفاقی وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل سے بات کریں تاکہ ہمیں سسٹم سے ہی کم از کم 50 فیصد گیس مہیا کی جا سکے ۔

اس طرح گھریلو صارفین کو اضافی گیس ملنے کے ساتھ ساتھ صنعتوں کا پہیہ بھی چلتا رہے گا ۔ سوال و جواب کی نشست میں میاں جاوید اقبال ، رانا محمد سکندر اعظم خاں ، سید ضیا ء علمدارحسین ، خواجہ امجد سعید ، چوہدری محمد نواز ، چوہدری بوٹا ، شکیل انصاری ، جواد اصغر ، مرزا شفیق او رثناء اللہ نیازی نے حصہ لیا جبکہ انجینئر محمد سعید شیخ نے وزیر مملکت عابد شیر علی کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔
وقت اشاعت : 14/11/2016 - 22:57:03

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں