معاشرے میں کتب بینی کارواج ختم ہورہاہے،سرشام ٹی وی چینلوں پر جھوٹ کابازارسج جاتاہے، ..
تازہ ترین : 1

معاشرے میں کتب بینی کارواج ختم ہورہاہے،سرشام ٹی وی چینلوں پر جھوٹ کابازارسج جاتاہے، عرفان صدیقی

کراچی اہل علم ودانش سے محبت کرنے والوں کا شہرہے، الطاف حسن قریشی… حکومت یوم اِقبال کی چھٹی بحال کرے، مجیب الرحمٰن شامی فاران کلب میں ’ملاقاتیں کیاکیا‘کی تقریب پذیرائی سے مجیب الرحمٰن شامی، معراج الہٰدی صدیقی، سجادمیر، ندیم اِقبال ودیگرکاخطاب

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2016ء) وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ معاشرے میں کتب بینی کارُجحان کم ہوتاجارہاہے۔ سرشام پاکستانی ٹی وی چینلوں پر جھوٹ کابازار سج جاتاہے ۔ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ہم کس طرف جارہے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں علم کاایسا فقدان کیوں ہے۔ اِ ن خیالات کا اِظہار اُنہوں نے ہفتہ کی شب سینئر صحافی الطاف حسن قریشی کی کتاب"ملاقاتیں کیاکیا" کی تقریب پذیرائی سے فاران کلب میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اِس موقع پرمجیب الرحمٰن شامی ، معراج الہٰدی صدیقی ، سجادمیر، فاطمہ حسن ، انیق احمد، اِرشاد کلیمی، رئوف طاہر ، ندیم اِقبال اوردیگرنے بھی خطاب کیا۔ عرفان صدیقی نے کہاکہ ہمارے ملک میں توانائی بحران سے زیادہ ذہنی ، علمی اورفکری بحران بڑاہے جوسنگین ہوتا جارہا ہے۔ معاشرے میں برداشت اوررواداری ختم ہوگئی ہے اورگفتگو کے سلیقے کو فراموش کردیاہے۔

اُنہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان بنایااور آپریشن ضربِ عضب شروع کیا اورآپریشن کی وجہ سے دہشت گردی ختم ہورہی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ الطاف حسن قریشی نے اِنٹرویوز کوتخلیقی ادب کا حصہ بنادیاہے۔ اِ ن کے کئے گئے اِنٹرویوز میں ادب لطیف کی تمام اصناف کامکمل عکس ملتاہے۔ اُنہوں نے کہاکہ میڈیاکواپنی سمت دُرست کرنے کی ضرورت ہے ۔

صحافت میں آنے والے نوجوانوں کی تربیت کے لئے اکیڈمی قائم ہونی چاہئے۔"ملاقاتیں کیاکیا" کے مصنف الطاف حسن قریشی نے کہاکہ کراچی ہمیشہ سے اہل علم ودانش سے محبت کرنے والوں کا شہر رہاہے۔ اُنہوں نے کہاکہ میں ندیم اِقبال، فاران کلب کی اِنتظامیہ ، کراچی کے صحافیوں اور عوام کا شکریہ اداکرتاہوں کہ اُنہوں نے بڑی محنت اورمحبت سے اِس تقریب کا اِنعقاد کیا اوران صحافیوں کا بھی شکریہ جن افرادنے اس کتاب پرکالم اور تبصرے کئے۔

مجیب الرحمٰن شامی نے کہاکہ یوم اِقبال کی تعطیل کو بحال کرنا چاہئے تھا۔چھٹی بحال کرنے کے معاملے پر مریم نواز کے کہاتھا کہ ہم نے چھٹی بحال کردی ہے لیکن نہیں ہوئی ۔ وزیر داخلہ نے بتایاکہ چھٹی میں نے ختم کرائی ہے تاکہ تعلیمی اِداروں میں طلبہ علامہ اِقبال کے فلسفے کو جان سکیں۔ اُنہوں نے کہاکہ اُمیدہے کہ آئندہ سال یوم اِقبال کی چھٹی بحال ہوگی۔

ورنہ چھٹی توسب کی ہوسکتی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ آئین اورمنتخب حکومت کوکسی بھی صورت فوجی طاقت کے ذریعے ختم نہیں ہوناچاہیے۔ باربارمارشل لاء نہ لگتاتوآج ملک میں دہشت گردی اورفرقہ واریت نہ ہوتی۔ ملک کا نظام دستور کے تحت چلناچاہیے۔ خبرلیکس سے اِتنا نقصان نہیں ہواہے جتنا اِس کے بعد کئے گئے پروپگینڈے سے ہواہے۔ ڈاکٹرمعراج الہٰدی صدیقی نے کہاکہ فاران کلب کراچی کاایک علمی، ادبی اورسماجی اِدارہ ہے۔

اِس نے سینئر صحافی الطاف حسن قریشی کی کتاب"ملاقاتیں کیاکیا" کی تقریب پذیرائی کی میزبانی کرکے ایک اورعلمی باب کااِضافہ کیاہے۔ سینئر صحافی الطاف حسن قریشی صرف ایک صحافی اورقلم کارکانام نہیں ہے بلکہ الطاف حسن قریشی ایک اِدارہ کانام ہے۔ پوری پاکستانی ملت کوان کو فخر ہے ۔میں ندیم اِقبال کومبارکباد پیش کرتاہوں جنہوں نے بھرپورمحنت کرکے لوگوں کی شرکت کویقینی بنایااورشہر کراچی کی علمی روشنی کوبحال کیا۔

سجاد میر نے کہاکہ الطاف حسن قریشی ہماری صحافت کے داتا گنج ہجویری ہیں۔ اگرالطاف حسن قریشی نہ ہوتے تو ہم میں سے کوئی بھی نہ ہوتا۔ یہ جو صحافیوں کی انجمن یہاں نظرآرہی ہے اِن میں سے بیشتر کا صحافتی تعلق کسی نہ کسی صورت میں الطاف حسن قریشی سے رہاہے۔ رئوف طاہر نے کہاکہ پاکستان میں ایک ایوب خان کی آمریت تھی اوردوسری جمہوری آمر ذوالفقار علی بھٹو کادورتھا۔

جب حق بات کرنا اور حق بات شائع کرنا جرم تصورکیاجاتاتھا اس وقت الطاف حسن قریشی نے تحریر کی جرات کااِظہارکیااوراس جرم میں پابند سلاسل بھی ہوئے ۔ الطاف حسن قریشی کی بات ہوتو مجھے یادہے کہ میں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اس وقت اسکول لائبریری میں اُردو ڈائجسٹ ہاتھ لگایاتو آج تک نہیں چھوٹا۔ ایوب خان کی آمریت میں الطاف حسن قریشی تازہ ہواکاایک جھونکاتھے۔

اُس وقت کی عدلیہ کی آزادی ہویا آئین کی بالادستی اس میں الطاف حسن قریشی کا بہت بڑاکردارہے۔ وفاقی سیکریٹری اِرشادکلیمی نے کہاکہ الطاف حسن قریشی کی کتاب "ملاقاتیں کیاکیا" صرف ایک کتاب نہیں ہے بلکہ جیتے جاگتے اِنٹرویوں کاخزانہ ہے ۔ اس کا جب بھی مطالعہ کیاجائے تو ایسامحسوس ہوتاہے کہ آپ اس مقام اوراس فرد کے ساتھ شریک گفتگو ہیں۔

انیق احمد نے کہاکہ اُردوڈائجسٹ کامطالعہ دورِ طالب علمی سے رہا مگر الطاف حسن قریشی کی کتاب "ملاقاتیں کیاکیا" کی خاص خوبی 23جیتے جاگتے اِنٹرویوں اوراِنٹرویوں کو لینے والی شخصیت بھی لاکھوں میں ایک ، جس کی آنکھ نے پاکستان کی تاریخ کوبنتے بگڑتے دیکھاہو۔جنرل سیکریٹری فاران کلب ندیم اِقبال نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیااورساتھ ہی بتایاکہ فاران کلب اورمعاشرے میں کتاب کا اِقدار کو بحال کرنا فاران کلب کی ایک مہم ہے۔ یہ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ فاران کلب کی لائبریری اس وقت کراچی کی بہترین لائبریریوں میں سے ایک ہے۔
وقت اشاعت : 14/11/2016 - 22:45:08

اپنی رائے کا اظہار کریں