سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں، ..
تازہ ترین : 1

سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں، پونے دو سال میں 20 ہزار انٹیلی جنس آپریشن کئے گئے، ہزاروں واقعات کو ہونے سے روکا، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے حالات بہتر ہوئے، ہمیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا، اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں پوائنٹ سکورنگ کی، پاکستان اور بھارت کے مابین مسائل کا مذاکرات کے سوا کوئی حل نہیں، بھارت کے پاس کوئی اور حل ہے تو بتا دے، بھارتی وزیر داخلہ کی آمد پر مہذب احتجاج ہوا، کسی کا منہ کالا نہیں کیا گیا، پاکستان کی تضحیک پر خاموش نہیں رہوں گا آئندہ بھی جواب دوں گا، شناختی کارڈز کی تصدیق کے عمل میں اب تک 3 کروڑ 12 لاکھ کارڈز کی تصدیق کی جا چکی ہے

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ 12 اگست (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سیکورٹی اداروں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں، پونے دو سال میں 20 ہزار انٹیلی جنس آپریشن کئے گئے، ہزاروں واقعات کو ہونے سے روکا، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے حالات بہتر ہوئے، ہمیں یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، دہشت گردوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو میڈیا پر مذاکرے، ریٹائرڈ ججز پر مشتمل کمیشن یا سپریم کورٹ میں معاملہ لے جانے کا چیلنج دیتا ہوں، میرے خلاف بیان دینے والے ذاتیات پر اتر آئے ہیں، ان کی سطح پر نہیں جانا چاہتا، ورنہ بہت کچھ کہہ سکتا ہوں، اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں پوائنٹ سکورنگ کی، پاکستان اور بھارت کے مابین مسائل کا مذاکرات کے سوا کوئی حل نہیں، بھارت کے پاس کوئی اور حل ہے تو بتا دے، بھارتی وزیر داخلہ کی آمد پر مہذب احتجاج ہوا، کسی کا منہ کالا نہیں کیا گیا، پاکستان کی تضحیک پر خاموش نہیں رہوں گا آئندہ بھی جواب دوں گا، شناختی کارڈز کی تصدیق کے عمل میں اب تک 3 کروڑ 12 لاکھ کارڈز کی تصدیق کی جا چکی۔

جمعہ کو پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ جنہوں نے نیشنل ایکشن پلان دیکھا ہی نہیں وہ بھی اس پر تبصرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی شہری میتھیو 2011ء میں یہاں سے ڈی پورٹ ہوا تھا، سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ اسے ڈی پورٹ کیا جائے، اس پر جاسوسی کا الزام ثابت نہیں ہوا تھا، وہ ایک خاص سیکورٹی علاقہ میں پایا گیا تھا جہاں سیکورٹی ایجنسی نے اس کو پکڑا تھا، اب پانچ سال بعد اس نے ہیوسٹن سے ویزہ کیلئے اپلائی کیا اور بلیک لسٹ ہونے کے باوجود 24 گھنٹے میں اسے ویزہ مل گیا۔

مجھے بتایا گیا کہ کمپیوٹر میں غلطی تھی جس کی وجہ سے اس کے بلیک لسٹ ہونے کا پتہ نہ چل سکا، وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام پر زور دے کر اس کا ہاتھ سے پر کیا گیا فارم منگوایا گیا جس میں اس نے کئی جگہ جواب نہیں دیا اور ایک جگہ ہاں اور ناں دونوں میں جواب دیا، اس نے معلومات چھپائیں، یہاں ایف آئی اے کے متعلقہ افسر نے بھی اپنے دفاع میں یہی کہا کہ کمپیوٹر کی غلطی کی وجہ سے نشاندہی نہیں ہو سکی، اس آفیسر کو گرفتار کرکے اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا رہی ہے، کل اس کی ضمانت ہوئی ہے، قانون کے تحت اس کے خلاف سخت کارروائی ہو گی، اس سینئر افسر نے امریکی شہری کے بلیک لسٹ ہونے کی نشاندہی کی جس پر اسے تعریفی سند اور ایک لاکھ روپے کے انعام سے نوازا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ایک سینیٹر اعظم سواتی نے بھی اس افسر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کیلئے ایک لاکھ روپے کا انعام بھجوایا ہے جو میں ان کے شکریہ کے ساتھ انہیں واپس بھجوا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ کسی بھی پارٹی سے ہوں وہ قابل تحسین ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جے آئی ٹی میں واضح ہوا ہے کہ یہ شخص جاسوس نہیں تھا، اس حوالہ سے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے لیکن قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث ہے، اس جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اسے ڈی پورٹ کیا جائے گا، ایف آئی اے سے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے رپورٹ ایک ہفتہ میں طلب کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گرفتار امریکی شہری جیل میں ہے، اس معاملہ پر میری ہدایت پر جے آئی ٹی بنائی گئی تھی جس کی رپورٹ آج مل گئی ہے اور وعدہ کے مطابق انہوں نے میڈیا کو اس حوالہ سے آگاہ کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ قومی شناختی کارڈز کی تصدیق کو ایک ناممکن کام قرار دیا جا رہا تھا لیکن میڈیا اور عوام نے اس معاملہ میں بے حد ساتھ دیا، چند ایک کے سوا میڈیا کے اکثر لوگوں نے اس معاملہ پر تعاون کیا، دو انگریزی اخبارات نے میرے خلاف اداریئے لکھے، ایک اخبار نے جس کا مجھے بے حد احترام ہے بار بار مجھ پر ذاتی طور پر تنقید کی، انہیں تنقید کا حق ہے لیکن حقائق کو مدنظر رکھنا چاہئے۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ ڈیڑھ ماہ سے بھی کم عرصہ میں 3 کروڑ 12 لاکھ شناختی کارڈز کی تصدیق کی جا چکی ہے، نادرا کی طرف سے اس سلسلہ میں 38 لاکھ 16 ہزار پیغامات ارسال کئے گئے جبکہ عوام کی طرف سے ازخود 33 لاکھ 47 ہزار پیغامات تصدیق کیلئے نادرا کو موصول ہوئے، اس کے نتیجہ میں 30 ہزار غیر متعلقہ افراد کی نشاندہی ہوئی، جن کے کارڈز بلاک کئے گئے ہیں انہیں تصدیق کے بعد بحال کر دیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک ماہ 10 دن میں ہیلپ لائن پر 58 ہزار کالیں موصول ہوئیں جس کے نتیجہ میں 5 ہزار شناختی کارڈز بلاک کئے گئے جبکہ 14 غیر ملکیوں نے اپنے کارڈز اور پاسپورٹس ازخود واپس کئے۔ انہوں نے کہا کہ مہلت سے فائدہ نہ اٹھانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ان کی گرفتاریوں کے علاوہ ملک بدر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈز کی تصدیق کی مہم کے انتہائی حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں۔

وزیر داخلہ نے عوام اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس عمل میں تعاون جاری رکھیں اور فون یا ایس ایم ایس کے ذریعے ایسے غیر ملکیوں کی نشاندہی کریں جنہوں نے جعلسازی سے پاکستان کی شہریت حاصل کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑی قومی خدمت ہو گی، جنہوں نے تنقید کرنی ہے وہ تنقید جاری رکھیں، ہم اپنا اچھا کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ہونے والے سارک کے اجلاس کے حوالہ سے یہ تاثر دیا گیا کہ لنچ میری طرف سے تھا اور میں اس میں شریک نہیں ہوا یہ تاثر درست نہیں، میری طرف سے عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تھا، ورکنگ لنچ کا اہتمام تو تینوں دن تھا جس کا میں ذاتی طور پر میزبان نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے ایک میزبان ملک کے طور پر سارک اجلاس کی میزبانی کے تمام تقاضے اور آداب ملحوظ خاطر رکھے، مہمانوں کیلئے ہیلی کاپٹر کا بھی بندوبست کیا گیا، ہاں اگر بھارتی وزیر داخلہ نے مہمان کے طور پر آداب کا خیال نہیں رکھا تو میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے افسوس سے یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ اگر کوئی گھر آئے اور تضحیک کر جائے تو گھگو بن کر نہیں بیٹھا جا سکتا، مہمان کی عزت افزائی کرنا فرض ہے لیکن پاکستان کی تضحیک پر جواب دینا بھی میرا فرض ہے، آئندہ بھی اگر پاکستان کی تضحیک کی گئی تو ایسا ہی جواب دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کی آمد سے پہلے ہی اُدھر سے باتیں شروع ہو گئی تھیں، پہلا بیان آیا کہ بھارتی وزیر داخلہ پاکستانی ہم منصب سے ملاقات نہیں کریں گے جس پر مجھے کہنا پڑا کہ ہمیں بھی کوئی بے تابی نہیں ہے حالانکہ بھارتی حکام کی طرف سے یہ بات خاموشی سے بھی پہنچائی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر کی آمد پر احتجاج پر بھی واویلا کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جمہوری ملک ہے، یہاں احتجاج تو کیا دھرنے بھی ہوتے ہیں، پاکستان میں بھارتی وزیر کی آمد اور کشمیر کی صورتحال پر جو احتجاج ہوا وہ ایک مہذب احتجاج تھا، کسی کا منہ کالا نہیں کیا گیا جبکہ غلام علی، شہریار خان، نجم سیٹھی، راحت فتح علی خان سمیت ہمارے موسیقی اور سپورٹس کے شعبوں سے وابستہ شخصیات اور فنکاروں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا؟، ہمارے سابق وزیر خارجہ کا منہ کالا کرکے انہیں بٹھایا گیا جبکہ یہاں جو احتجاج ہوا وہ مہذب تھا، یہاں کسی کا منہ کالا نہیں کیا گیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارتی وزیر کی آمد سے پہلے 15 منٹ کی پریذنٹیشن کا وقت مانگا گیا، یہ روایت نہیں تھی پھر بھی میں نے اس کی اجازت دی اور جیسے ہی وہ شروع ہوئے اور جو باتیں کیں تو پھر جواب دینا مجھ پر لازم تھا، ایسی کانفرنسوں کا وطیرہ ہوتا ہے کہ ایک ملک بات کرے تو دوسرے کو جواب کا حق حاصل ہوتا ہے، اس لئے میں نے صدارت چھوڑ کر جواب دیا، بھارتی وزیر داخلہ میری تقریر کے جواب میں جوابی تقریر کر سکتے تھے لیکن انہوں نے جواب دینے کی بجائے اپنے ملک جا کر بات کی، اگر وہ میری بات کا جواب یہاں دے کر جاتے تو یہ عمل مکمل ہو جاتا۔

انہوں نے راجیہ سبھا میں کہا کہ پاکستان سبق سیکھنے کیلئے تیار نہیں، کاش وہ وضاحت کرتے کہ کونسا سبق۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کئے، اگر ہندوستان ہمیں اپنی اجارہ داری اور مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کا سبق دینا چاہتا ہے تو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ قوم کسی کے تسلط میں رہ سکتی ہے نہ کشمیر میں جاری ظلم و تسلط قابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر کو اپنے اس وزیراعظم کا بھی ذکر کرنا چاہئے جس نے 65ء میں پاکستان پر حملہ کیا اور اس وزیراعظم کا بھی ذکر کرنا چاہئے جس نے 71ء میں پاکستان کو دولخت کیا اور اس کا بھی ذکر کرنا چاہئے جو آج وزیراعظم ہے اور پاکستان کو دولخت کرنے کا کریڈٹ لیتا ہے اور 1947ء اور 1948ء میں کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے اپنے وزیراعظم کا بھی ذکر کریں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بھی کرتا ہے، دھمکیاں بھی دیتا ہے اور مذاکرات کے دروازے بھی بند کرتا ہے، اگر پاکستان اور بھارت کے مابین مسائل کا مذاکرات کے سوا کوئی حل ہے تو بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والے کچھ آرٹیکلز میں کہا گیا کہ مجھے بھارتی وزیر کو جواب نہیں دینا چاہئے تھا لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایسے آرٹیکلز لکھنے والے جن کے رابطے کہیں اور ہیں، کی رائے کا میں احترام نہیں کرتا اور آئندہ بھی پاکستان کی تضحیک پر ایسا ہی جواب دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک کے سوا تمام سیاسی جماعتوں نے میرے طرز عمل کو سراہا، ایک سیاسی جماعت کو سانپ سونگھ گیا، یہ وہ سیاسی جماعت ہے جس نے کشمیر کے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی اور مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے، کہتی رہی اور جس کے لیڈر لکھی ہوئی تقریریں کرتے ہیں ان کی طرف سے کوئی بیان نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں میری جو تقریر ہوئی وہ شیڈول کے مطابق تھی، کوئٹہ کی صورتحال اور نیپ کے حوالہ سے دو دن اسمبلی میں بحث ہوئی جسے میں نے سمیٹنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل صبح سیکورٹی کے حوالہ سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا تھا جیسے ہی یہ اجلاس شروع ہوا تو اس میں کسی نے اسمبلی میں ہونے والی تقاریر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جس پر میں نے کہا کہ اس کا جواب فوج کی طرف سے نہیں آنا چاہئے بلکہ اس کا جواب حکومت دے گی، طے ہوا تھا کہ میں جواب دوں گا، میں اسمبلی میں تقریر کیلئے تیار تھا کہ وزیراعظم کا پیغام آیا کہ پہلے مجھے تقریر کرنے دیں، میں نے کہا کہ پہلے میں بات کر لوں پھر آپ بات کر لیں جس پر وزیراعظم کا پھر جواب آیا کہ وہ بات کریں گے جس پر میں نے کہا کہ ٹھیک ہے کہ پہلے وزیراعظم بات کر لیں پھر میں بحث سمیٹوں گا، میں نے اپنی تقریر میں ان نکات کا جواب دیا جو اٹھائے گئے تھے، اگر میں نے تقریر میں یہ کہا کہ میں نے زرداری کی ایک بار تعریف کی ہے تو ان کے ڈھنڈورچی کھڑے ہو گئے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ زرداری کو میری تعریف کی ضرورت ہے لیکن ان ڈھندورچیوں کو پتہ نہیں ہے، جب آصف زرداری نے سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیا تو کہا کہ چوہدری نثار نے میری جو تعریف کی ہے وہ نکال کر لاؤ۔ انہوں نے میری طرف سے کی گئی تعریف سنبھال کر رکھی ہوئی ہے کیونکہ انہیں اس کی ضرورت ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ میں نے اپنی تقریر میں اگر ان کی اور اپنے دور کی کارکردگی کا موازانہ کیا اور ان کے دور اور اپنے عرصہ میں ہونے والے دھماکوں میں فرق واضح کیا تو کیا غلط کیا، اپوزیشن کا مقصد وزیراعظم کے سامنے ایک ڈرامہ رچانا، پوائنٹ سکورنگ کرنا اور تماشا لگانا تھا سو انہوں نے لگایا۔

انہوں نے کہا کہ دو اشخاص نے دھرنے کے دوران میرے ساتھ بدترین بدتمیزی کی تھی، وزیراعظم نے مجھے روکا تھا ، اپنی زندگی میں پہلی بار وزیراعظم کے کہنے پر درگزر کیا تھا لیکن ان کی طرف سے یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں وزارت داخلہ کے حوالہ سے چار نکات ہیں اور سب سے زیادہ پیشرفت ان چار نکات پر ہی ہوئی ہے، 10 نکات صوبوں کے بارے میں اور دیگر مختلف وزارتوں اور گورنر کے پی کے کے حوالہ سے ہیں، میرا کام کوآرڈینیٹ کرنا ہے، نیپ کے پانچ، چھ نکات پر پیشرفت سست ہے، یہ ایک تصور ہے کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے جس سے سب کچھ ایک دم ٹھیک ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ 15 سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو رہی ہے لیکن جو اقدامات اب ہم نے شروع کئے ہیں یہ پہلے نہیں کئے گئے، یہ سب میل جول کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی میں قابل ذکر حد تک کمی آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی گٹھ جوڑ کی بات کریں تو آگ لگ جاتی ہے، سیکورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تو ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کا کام انٹیلی جنس شیئرنگ کرنا ہے، پونے دو سال میں 20 ہزار انٹیلی جنس آپریشن کئے گئے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں واقعات کو ہونے سے روکا گیا، یہ پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور تمام سیکورٹی اداروں نے مل کر کیا ہے، کسی واقعہ کے بعد ہمیں اکٹھے ہو کر اتحاد و یکجہتی کا پیغام دینا چاہئے اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی دوسرے صوبوں کو دہشت گردی کے واقعات پر تنقید کا نشانہ نہیں بنایا، ہمیں تقسیم نہیں پیدا کرنی چاہئے، ایک ٹولہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو ہر چیز کا الزام مجھ پر لگاتا ہے حالانکہ صوبوں کی پولیس میرے ماتحت نہیں ہے، اگر صوبوں کی پولیس میرے ماتحت ہو تو مجھے ذمہ دار ٹھہرایا جائے، ہم جو انٹیلی جنس رپورٹ دیتے ہیں اس کی پرواہ نہیں کی جاتی اور نوٹیفکیشنز جاری نہیں کئے جاتے اور تنقید کی جاتی ہے۔

ایک پارٹی نے مجھے ٹارگٹ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے، قائد حزب اختلاف حکومت کے خلاف ہوتا ہے لیکن وہ میرے خلاف ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کو سیکورٹی ایجنسیز کے حوالہ سے میری بات ناگوار گزرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کو بلاجواز تنقید سے بچانا اور جواب دینا میری ذمہ داری ہے، فوج بھی داخلی سیکورٹی میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کرپشن کے خلاف ہوں اس لئے ان کو تکلیف ہے، ایک گٹھ جوڑ بن گیا ہے، ہر روز میرے خلاف بیان آتا ہے، میں ان کی سطح پر نہیں جانا چاہتا ورنہ بہت کچھ کہہ سکتا ہوں، وہ ذاتیات پر اتر آئے ہیں، میں نے کبھی نہیں کہا کہ کوئی میٹر ریڈر سے یہاں تک کیسے پہنچا اور ایل پی جی کا کوٹہ بے نظیر سے لے کر کس کے نام کیا گیا اور کیسے ریگولرائز کیا گیا، میں نہیں کہنا چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ ون شاہراہ دستور پر بڑے بڑے لوگوں نے فلیٹ لئے ہوئے ہیں، میں نے چیف جسٹس سے اپیل کی تھی کہ اس کا نوٹس لیں، کئی لوگوں نے مفت فلیٹ لئے ہیں، ٹینڈر کسی اور کمپنی کے نام کا نکلا جس نے اپلائی ہی نہیں کیا، ٹھیکہ اس کو دیدیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عمران خان کو مشورہ دیا تھا کہ بلاول کو کنٹینر پر کھڑا کرنے سے قبل پوچھ لیں کہ دبئی کے تین محلات جن میں سے ایک میں وہ اور ان کے والد صاحب رہتے ہیں، کہاں سے آئے اور سرے محل جس کی ملکیت سے وہ انکار کرتے رہے وہ کس کا ہے، 60 ملین ڈالر کس کے اکاؤنٹ میں گئے اس کا جواب دیں، ہیروں کے ہار کا کیا بنا وہ کس کے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں الزامات نہیں لگاتا لیکن منافقت اختیار نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نیپ کے حوالہ سے پارلیمان میں چار مرتبہ بریفنگ دے چکا ہوں جسے سب نے سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپ پر عملدرآمد سے ہی حالات بہتر ہوئے ہیں، ہمیں اس پر یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اس حوالہ سے جس توسیع کی ضرورت ہے وہ ہونی چاہئے، دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے الزامات کے حوالہ سے میڈیا پر مذاکرے، ریٹائرڈ ججز پر مشتمل کمیشن یا سپریم کورٹ میں معاملہ لے جانے کا چیلنج دیتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ مجیب الرحمن شامی، کامران خان، نسیم زہرہ، طلعت حسین، ہارون الرشید، سلیم صافی، حامد میر، سہیل وڑائچ اور کلاسرا جیسے صحافیوں پر مشتمل جیوری کے سامنے میڈیا پر آ کر مذاکرہ کریں یا جسٹس (ر) وجیہہ الدین اور جسٹس (ر) طارق محمود اور اس پائے کے دو تین ججوں کا کمیشن بنا لیں یا سپریم کورٹ میں یہ معاملہ لے کر جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا فوکس آپس کے جھگڑوں کی بجائے قومی ایشوز ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر آدمی ہمارے پاس آئے اور کہا کہ ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کے کیس میں رعایتیں فراہم کرنے کی شرط پر پیپلز پارٹی اور حکومت کی صلح ہو سکتی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بڑی تعداد میں کرنسی باہر لے جانے کی کوشش کرنے والی 21، 22 سالہ لڑکی کا کیس وہ وکیل بغیر فیس کے لڑ رہے ہیں جو غریب آدمی کی کھلڑی اتار دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میرے خلاف روز بیان دینے والے بتائیں کہ پیپلز پارٹی کا ایان علی سے کیا تعلق ہے۔ ڈاکٹر عاصم کے کیس میں پیشکش کی گئی کہ پراسیکیوٹر جنرل ضمانت ہونے پر اعتراض نہ کریں جس پر میں نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ میں خامیاں ہیں لیکن میں مسلمان اور محب وطن ہوں، میرے لئے وزارت اہم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ساری توجہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر مرکوز کرنی چاہئے، ہم نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے اس لئے اس معاملہ پر سیاست نہیں ہونی چاہئے، ہمیں اپنی توانائیاں ملک و قوم کیلئے وقف کرنی چاہئیں، سیکورٹی اداروں کیلئے بولنا میری اور ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے، ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کرنا رینجرز کا مینڈیٹ نہیں تھا وہ اب نیب کے پاس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکن کی رینجرز کے ہاتھوں ہلاکت کے حوالہ سے اپنی ذمہ داری پوری کی، جہاں کہیں غلطی ہو گی وہاں روگردانی نہیں کی جائے گی، ہمیں ایک دوسرے کے سامنے اپنی غلطیوں کی نشاندہی کرنی چاہئے لیکن دنیا کے سامنے سیکورٹی اداروں کی تضحیک کرنا الگ چیز ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ روز پریس کانفرنس کرنے کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہماری پارٹی میں کوئی گروپ نہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کے نمائندوں کی سیکورٹی کلیئرنس نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے ہم سے اجازت مانگی تھی اور نہ ہی سارک میں وزراء کی تقاریر کی روایت موجود ہے، جب بھارتی وزیر کی تصاویر ان کے میڈیا منیجر کے ذریعے سامنے آئیں تو ہمارے میڈیا منیجرز نے بھی جواب دیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احتساب کرنا میرا نہیں نیب کا کام ہے، ایف آئی اے کے کیسز میں کوئی کمپرو مائز نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایان علی اور بلاول کے ایئر ٹکٹس کیلئے ادائیگی ایک ہی اکاؤنٹ سے کی جاتی تھی۔ خانانی اینڈ کالیا کے حوالہ سے یہ اپنے دور میں ریکارڈز ضائع کرکے چلے گئے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی زیر صدارت گذشتہ روز اجلاس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، وزراء اعلیٰ کو بھی اجلاس میں مدعو کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دشمن سرحد پار چلے گئے ہیں ختم نہیں ہوئے۔ وزیر داخلہ نے سانحہ کوئٹہ کی تحقیقات کے حوالہ سے سوال کے جواب میں بتایا کہ دو روز قبل اہم گرفتاریاں ہوئی ہیں، میڈیا صبر و تحمل کا مظاہرہ کرے، اس واقعہ کی تہہ تک جائیں گے اور اس میں ملوث لوگوں کی نشاندہی بھی کریں گے اور ان کا خاتمہ بھی کریں گے۔

وقت اشاعت : 12/08/2016 - 22:46:46

اپنی رائے کا اظہار کریں