پورے ملک سے سودکی لعنت کو ختم کیاجائے،خیبر پختونخوااسمبلی میں قرارداد میں وفاقی ..
تازہ ترین : 1

پورے ملک سے سودکی لعنت کو ختم کیاجائے،خیبر پختونخوااسمبلی میں قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ

صوبائی اسمبلی میں نجی سودکی حالت امتناعی پر پابندی سمیت آٹھ بل پیش

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء) خیبر پختونخوااسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے ملک کے اندر سودکی لعنت کو ختم کیاجائے جبکہ اسمبلی میں نجی سودکی حالت امتناعی پر پابندی سمیت آٹھ بل پیش کئے گئے ،جمعہ کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کے دوران 8بلوں میں سے خیبرپختونخوالمیٹیشن بل 2016ء کو متفقہ طور پر پاس کیاگیا سینئرصوبائی وزیرعنایت اﷲ نے لمیٹیشن بل کے پاس ہونے کے بعد ایوان کوبتایاکہ سپریم کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے مخالفت کے بعد 1908ء کے لمیٹیشن بل میں ترمیم کرتے ہوئے ان کی دوشقوں کو ختم کردیاگیاہے ماضی میں اگرکسی کی جائیدادیاکوئی اورچیز اجارے پر کسی شخص کے پاس ساٹھ سال تک تو وہ خودبخوداسکامالک بن جاتااس شق کو اسلامی نظریاتی کونسل اورسپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دیاجسکے بعد قانون سازی کے ذریعے اس کو ختم کردیاگیاہے ۔

پرائیویٹ ممبردن کی حیثیت سے پیپلزپارٹی کے فخراعظم وزیر،تحریک انصاف کے محمودجان ،قومی وطن پارٹی کے سلطان محمداورجماعت اسلامی کے اعزازالملک نے نجی سودکی حالت امتناعی پرپابندی کے حوالے سے بل کو پیش کیا جس کو بعدازاں اسمبلی سے منظورکیاجائے گا اس بل کے تحت کوئی بھی شخص یا گروپ سودکی بنیاد پرکسی کوقرض نہیں دے سکتا اگرکوئی اس طرح کرتاہے تواس کو تین سے دس سال تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اسی طرح جن لوگوں نے سود پرقرضہ دینے میں معاونت کی وہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔

سود پر قرضے کی عدم وصولی پراگرکسی کیساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے تو اس کو پانچ سال تک قیدکی سزادی جائے گی۔اسی طرح اس حوالے سے کوئی شکایت کرتاہے تو تین دنوں کے اندر ایک کمیشن بناکر پولیس کو رپورٹ کی جائے گی اوراس حوالے سے کیسزکی شنوائی جوڈیشل مجسٹریٹ سے کم کی عدالت میں نہیں ہوگی ۔مذکورہ قانون کی رو سے اگرپولیس کسی کو گرفتارکرتی ہے تو کوئی بھی عدالت سودمیں ملوث افرادکوضمانت پررہا نہیں کرسکتااسی طرح عدالت کسی بھی راضی نامے کو قبول نہیں کریگی۔

بل کے تحت اگرکسی نے اگرکسی نے مجموعی رقم کی سودکی ادائیگی اس رقم کی حد تک کی ہے تو وہ مزید ادائیگی اب نہیں کریگابل کے مطابق اگرکسی شخص نے سودپر قرضہ لیاہواہے اور اب وہ ادائیگی نہیں کرسکتاتوعدالتی احکامات کی روشنی میں اس کے اثاثے اورگھرسمیت کاروبار کو نیلام کرکے ادائیگی کرسکتاہے۔عدالت اس طرح کے کیسوں پر تیس دنوں میں فیصلہ سنائے گی مذکورہ قانون کے پاس ہونے کی صورت میں اس حوالے سے موجود2007ء کاایکٹ منسوخ ہوجائے گاصوبائی اسمبلی میں سودکی لعنت سے چھٹکاراپانے کیلئے جماعت اسلامی کے سعیدگل کی پیش کردہ قراردا کومتفقہ طورپر منظورکرلیاگیا۔

قراردادکے متن کے مطابق قرآنی احکامات اوراحادیث نبویﷺ نے سود کو ہرلحاظ سے حرام وناجائز اور اسے اﷲ تعالیٰ اور اسکے رسول ﷺکے ساتھ جنگ قراردیاہے اس لئے صوبائی حکومت واقی حکومت سے سفارش کرتی ہے کہ وہ پورے ملک کے اندر سودکی لعنت ختم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے۔قراردادکے بعد سودکی حالت امتناعی پرپابندی کے حوالے سے اراکین صوبائی اسمبلی مولانالطف الرحمن،فخراعظم وزیر،محمودجان،عنایت اﷲ ،سلطان محمد ،اعزازالملک افکاری اور دیگراراکین نے تفصیلی بحث کی اور اس بل کو ایک اچھی کاوش قرار دیدیا۔

اس موقع پر سپیکر نے اپنے ریمارکس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کے کردار کو سراہا اور ایوان کویقین دہانی کرائی کہ وہ بل پاس ہونے کے بعد آئی جی خیبرپختونخواسے ملاقات کرکے سودکی لعنت میں ملوث گروپوں کیخلاف ہرطرح کی کارروائی پر زور دیاجائے گا۔صوبائی اسمبلی میں ہائرایجوکیشن اکیڈیمی،ریسرچ اینڈٹریننگ کے قیام ،طب وہیومیتھک ملازمین کی تعیناتی،صوبائی محتسب سے متعلق ترمیمی بل،پیرامیڈیکل اور اس سے متعلقہ ہیلتھ سائنسزبل ،زمین کی خریداری،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ملازمین کی مستقلی سمیت بل پیش کئے گئے۔

اجلاس کے دوران ایک اور قراردادکے ذریعے وفاقی حکومت مطالبہ کیاہے کہ اسلامی ہستیوں اور مقامات مقدسہ کو پورے نام کے ساتھ لکھااورپڑھاجائے اسی طرح صوبائی حکومت خودبھی اپنے طور پر سفارش کرے کہ مذکورہ اصطلاحات کی تصحیح کرکے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے اور نصاب میں انگریزی اصطلاح میں بھی Mosque کے بجائے مسجد ,مکہ شریف Meccaکو Makkahاور نبی آخرالزماںﷺMuhammadکوMohdکے بجائے پورااسم محمدلکھااورپڑھاجائے۔

قرار داد کو ن لیگ کی آمنہ سردارنے پیش کیا جس کو ایوان نے متفقہ طو رپر منظورکیا قراردادمیں صوبائی اسمبلی نے وفاق سے سفارش کی ہے کہ اسلامی ہستیوں اور مقامات مقدسہ کو پورے نام کے ساتھ لکھااورپڑھاجائے اسی طرح صوبائی حکومت خودبھی اپنے طور پر سفارش کرے کہ مذکورہ اصطلاحات کی تصحیح کرکے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ اسلام کے بارے میں نوجوان نسل کی صحیح رہنمائی ہوسکے۔

قراردادکے متن کے مطابق بعض اوقات ترجمہ کرنے کی صورت اور انگریزی اصطلاح کے استعمال سے مقدس ہستیوں اور مقامات مقدسہ کی تضحیک ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اسلامی نکتہ نظر سے ان انگریزی اور عربی زبان میں انکے معنی اور مطلب مختلف ہوجاتے ہیں اس لئے تعلیمی اداروں اورنصاب میں یہ اصطلاحات لاگوکی جائیں۔قراردادکی منظوری کے بعد آمنہ سردارنے کہاکہ محمدﷺ کی پورے نام کولکھنے کے بجائے جبMohdلکھاجاتاہے تو اس کے معنی غلط ہوجاتے ہیں اس موقع پر سینئروزیرعنایت اﷲ نے کہاکہ بہت سارے ایسے نام اور اصطلاحات ہیں جوترجمہ کی صورت میں انکے معنی بدل جاتے ہیں اس لئے انکوحقیقی نام میں لکھااورپڑھاجاناچاہیے ۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 12/08/2016 - 22:42:13

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں