تقاریر کرنے،اشعاراورنظمیں پڑھنے سے حالات نہیں بدل سکتے ، ہمیں محنت،عزم اورجذبے ..
تازہ ترین : 1

تقاریر کرنے،اشعاراورنظمیں پڑھنے سے حالات نہیں بدل سکتے ، ہمیں محنت،عزم اورجذبے کیساتھ کام کرنا ہوگا‘شہبازشریف

یوم آزادی کے موقع پر ملک کو قائدؒ اوراقبالؒ کے تصورات وافکار کے مطابق فلاحی ریاست بنانے کیلئے ملکر کام کرنے کا عہد کرنا ہوگا کسی نے پاکستان کے عوام کے مسیحا کا روپ دھار کرملک کا چہرہ بگاڑا، چاروں فوجی ادوار نے پاکستان کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں دیا انشاء اﷲ پاکستان ترقی اورخوشحالی کی منزل ضرور حاصل کرے گااوردنیا کے نقشے پر ایک عظیم ملک بن کر ابھرے گا‘وزیراعلیٰ پنجاب کایوم آزادی کے حوالے سے ’’میری شان پاکستان ‘‘سیمینارسے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء )وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں پاکستان کے 70ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک کو قائدؒ اوراقبالؒ کے تصورات وافکار کے مطابق فلاحی ریاست بنانے کیلئے ملکر کام کرنے کا عہد کرنا ہوگا، ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے اور آئندہ کیلئے ایسا لائحہ عمل طے کرنا ہے کہ ان غلطیوں کا اعادہ نہ ہو،اگر آج پوری قوم یکجان دوقالب ہوکرماضی کے نقصانات کی تلافی کا فیصلہ کرلے توپاکستان بین الاقوامی برادری میں باوقار مقام اور خودکفالت کی منزل حاصل کرسکتا ہے ،سفر طویل اورمشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ،محنت ،امانت ،دیانت اور عزم کیساتھ کامیابی کا سفر طے کرنا ہے ،چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور اﷲ تعالیٰ کاپاکستان کے عوام کے لئے ایک بڑا انعام ہے اورچینی قیادت کی طرف سے 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پیکیج پاکستان کی موجودہ قیادت اوراس کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے،سی پیک پاکستان کیلئے ایک گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے،اس کی مخالفت درحقیقت پاکستان اوراس کے عوام کی ترقی و خوشحالی کی مخالفت ہے ،دشمن چاہتا ہے کہ پاکستان ترقی نہ کرے اور اپنے پاؤں پرکبھی کھڑا نہ ہولیکن چاروں صوبوں کے عوام کو ملکر دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ہے اور سی پیک کے منصوبوں کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے،پاکستان میں چار مارشل لاء آئے، کسی نے اسلام کے نام پر پاکستان پرقبضہ کیا، تو کسی نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاکر قوم کو دھوکا دیااورکسی نے پاکستان کے عوام کے مسیحا کا روپ دھار کرملک کا چہرہ بگاڑا۔

ان چاروں فوجی ادوار نے پاکستان کو مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں دیا۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کااظہارمقامی ہوٹل میں یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار ’’میری شان پاکستان‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزراء ذکیہ شاہنواز،عائشہ غوث پاشا،اراکین قومی و صوبائی اسمبلی،دانشوروں اورصحافیوں کی بڑی تعداد نے سیمینار میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کی یہ محفل یوم آزادی کے حوالے سے منعقد کی گئی ہے۔قوم اس سال یوم آزادی اس وقت منارہی جب تین روز قبل کوئٹہ میں انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں 70سے زائد افراد شہید اورسینکڑوں زخمی ہوئے۔اس افسوسناک واقعہ نے پوری قوم کو ایک بار پھر اشکبار کردیا ہے ۔1947ء میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں ایک علیحدہ وطن کے حصول کیلئے تاریخی تحریک چلائی گئی جس میں برصغیر کے کونے کونے سے لاکھوں مسلمانوں نے حصہ لیا اورلازوال قربانیاں اورآگ اور خون کے دریا عبور کرنے کے بعد پاکستان معرض وجود میں آیا۔

ان عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم آزاد فضاء میں سانس لے رہے ہیں ،ہمیں ہندو اورسامراج کی غلامی سے نجات ملی ہے۔یہ قربانیاں ایک ایسے وطن کے حصول کے لئے دی گئی تھیں جہاں محنت ،امانت ،دیانت سکہ رائج الوقت ہو اورسب کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقعے حاصل ہوں،اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنے آزادی کے 70سالہ سفر میں شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے،اس لئے دشمن کو ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں۔جہاں ہمیں کامیابیاں ملی ہیں وہاں ہم سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں جن کا ہم سب کو خلوص نیت سے جائزہ لینا ہے اور ان غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے ۔دنیا کی تاریخ میں ایسی قوموں کی بے شمار مثالیں موجود ہیں جنہوں نے شکست کے باوجودترقی کی منازل طے کیں۔جاپان اور جرمنی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

جنہوں نے ویژن ،عزم ،جذبے اورانتھک کاوشوں کے ذریعے ترقی کی منازل تیزی سے طے کیں اورآج ان کا دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے ۔جرمنی کی مضبوط معیشت کے باعث ہی دیوار برلن گری اورجرمن قوم نے دوبارہ دنیا میں عظیم مقام حاصل کیا ۔ہمیں بھی انصاف کی بنیاد پر اپنے 70سالہ سفر کا تجزیہ اور احتساب کرنا ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کا احاطہ کریں اورایسانظام بنائیں کہ دوبارہ یہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں ۔

قیام پاکستان کے بعد سے اپنا احتساب کرنا ہوگااگر ہم سب نے اپنااحتساب نہ کیاتو اپنی خامیاں دورنہیں کرسکیں گے۔ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔تقریریں کرنے،اشعاراورنظمیں پڑھنے سے حالات نہیں بدل سکتے اس کیلئے ہمیں محنت،عزم اورجذبے کیساتھ کام کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے کاوشوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کوانتہاء پسندی اور عدم برداشت کے رویوں سے پاک کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ 60کی دہائی میں پاکستان ترقی پسند،تحمل و برداشت پر مبنی معاشرہ تھا۔ کیمونزم کے خلاف نام نہاد جنگ سے معاشرے میں عدم برداشت بڑھا اگر ہم اس جنگ سے دور رہتے تو پاکستان آج بھی پرامن ،بردبار اور تحمل میں مبنی معاشرہ ہوتا اورملک ترقی اورخوشحالی کے منازل تیزی سے طے کررہا ہوتالیکن بدقسمتی سے بدامنی کی آگ نے ملک کے ترقی کے سفر کو روکا ،وہ قومیں جو ہم سے پیچھے تھیں وہ آگے نکل گئیں۔

انہوں نے کہا کہ مایوسی کفر ہے اوراس کی کوئی گنجائش نہیں ۔اسی طرح سب اچھا کہنے سے بھی بہتری نہیں آسکتی۔ہمیں ماضی سے سبق سیکھ کر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی تلافی کر کے آگے بڑھنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ پر2008ء کو کام شروع ہوا،آج 11سال گزرنے کے باوجودبھی ابھی تک 900میگاواٹ کے اس منصوبے پر کام جاری ہے جبکہ ساہیوال کا 1320میگاواٹ کا کول پاور پلانٹ 23ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہونے جارہا ہے ۔

دنیا کی تاریخ میں اتنی گنجائش کے کول پاور پلانٹ کے منصوبے کی اس تیزرفتاری سے تکمیل کی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہاکہ میں بلاخوف وتردید کہہ رہا ہوں کہ سی پیک کے منصوبے انتہائی شفاف انداز میں تیزرفتاری سے مکمل کیے جارہے ہیں اوریہ پنجاب ’’سپیڈ نہیں ‘‘بلکہ ’’پاکستان سپیڈ ‘‘ہے ۔انہوں نے کہا کہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور ہماری اس سے بڑی خوش نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے کہ چین نے پاکستان کو 46ارب ڈالر کا تاریخی سرمایہ کاری پیکیج دیا ہے جس کے تحت لگنے والے منصوبوں سے ملک کے اندھیر دور ہوں گے۔

صنعتیں ترقی کریں گی،روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اورملک میں ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔سی پیک کی مخالفت کرنے والوں کو ملک وقوم کی ترقی عزیز نہیں ،سرمایہ کاری کے اس پیکیج کی مخالفت دراصل پاکستان کی خوشحالی کی مخالفت ہے،جسے قوم کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم صدق دل سے اورامیدواثق سے ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے مل جل کر کام کرنے کا فیصلہ کرلیں تو انشاء اﷲ پاکستان ترقی اورخوشحالی کی منزل حاصل کرلے گااوردنیا کے نقشے پر ایک عظیم ملک بن کر ابھرے گا۔

ہیپی لیگس کے سی ای اوخواجہ شاہد نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قائداعظم کے اصولوں پر عمل پیرا ہوکر پاکستان ترقی و خوشحالی کی منزل حاصل کرسکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ شہبازشریف نے صوبے کے عوام کی بہت خدمت کی ہے اورانہوں نے پنجاب میں سڑکوں کا جال بچھادیا ہے ۔موجودہ قیادت پاکستان کو ترقی کی راہ پر لیجارہی ہے لیکن کچھ لوگ ترقی کے سفر میں روڑے اٹکارہے ہیں ۔

پوری قوم ترقی کے سفر میں موجودہ قیادت کے ساتھ ہے۔معروف کرکٹر عبدالقادر،فلساز سید نور،عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی،بشپ الیگزینڈرجان ملک،ممتاز صحافی عارف نظامی اورمعروف قانون دان ایس ایم ظفرنے بھی سیمینار سے خطاب کیااوریوم آزادی کی اہمیت اورتحریک پاکستان پرروشنی ڈالی۔وزیراعلیٰ نے تقریب کے اختتام پر شرکاء میں یادگاری شیلڈز تقسیم کیں۔

وقت اشاعت : 12/08/2016 - 20:38:43

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں