ایک ٹولہ ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈالتا ہے ٗچوہدری نثار علی خان کی تحقیقات کیلئے ..

ایک ٹولہ ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈالتا ہے ٗچوہدری نثار علی خان کی تحقیقات کیلئے کمیشن ٗ صحافیوں پر مشتمل جیوی بنانے کی پیشکش

کرپشن کے خلاف تحقیقات میں کوئی سنجیدہ نہیں ٗ صرف مخالفین کے خلاف استعمال کیا جانے والا ہتھیار ہے ٗعمران خان بلاول کو کنٹینر پر چڑھانے سے پہلے دبئی کے محلات کا پوچھ لیں ٗ پیپلز پارٹی نے ساتھ دینے کیلئے ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کیس ختم کرنے کی شرائط رکھیں ٗ ہرطرح کے تعاون کیلئے تیار ہوں ٗ کرپشن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا گرفتار امریکی شہری میتھیو بیرٹ جاسوس ثابت نہیں ہوا ٗآئندہ چند روز میں پاکستان سے ڈی پورٹ کردیا جائیگا ٗ روایت سے ہٹ کر بھارتی وزیر داخلہ کو خصوصی پریزنٹیشن کی اجازت دی ٗپاکستان کی تضحیک کا جواب دینا میراض فرض ہے ٗمقبوضہ کشمیر میں جاری آپریشن کسی صورت قبول نہیں ٗ چند ہفتے قبل کشمیریوں کو بے وقوف بنانے والی سیاسی جماعت بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر کوئی رد عمل نہیں دیا ٗقوم سے منافقت اور زیادتی نہ کی جائے ٗ سکیورٹی فورسز کو بلا جواز تنقید سے بچانا میری ذمہ داری ہے ٗکچھ لوگوں کو بھارت کے مفادات سے زیادہ ہمدردی ہے ٗوزیر داخلہ کی پریس کانفرنس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء)وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے خود پر الزامات لگانے والوں کو مناظرے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس وجیہہ الدین اور جسٹس طارق پر مشتمل کمیشن ٗ صحافیوں پر مشتمل جیوری بنائی جائے جو الزامات کی تحقیقات کر کے قوم کو سچ بتائے ٗ ایک ٹولہ ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈالتا ہے ٗ دو اشخاص نے دھرنے کے دور ان بدترین بد تمیزی کی ٗ پریس کانفرنس کرنا چاہی تو وزیر اعظم آڑے آگئے ٗکچھ لوگ ذاتیات پر اتر آتے ہیں ٗ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ حکومت کے بجائے میرے خلاف ہیں ٗکبھی نہیں کہا فلاں شخص میٹر ریڈر سے اس مقام پر کیسے پہنچ گیا ؟مجھے پتہ ہے ٹینڈر کسی اور کمپنی کے نام نکلا ٗ جس نے اپلائی ہی نہیں کیا اسے ٹھیکا دیدیا گیا ٗ کرپشن کے خلاف تحقیقات میں کوئی سنجیدہ نہیں ٗ صرف مخالفین کے خلاف استعمال کیا جانے والا ہتھیار ہے ٗعمران خان بلاول کو کنٹینر پر چڑھانے سے پہلے دبئی کے محلات کا پوچھ لیں ٗ پیپلز پارٹی نے ساتھ دینے کیلئے ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کیس ختم کرنے کی شرائط رکھیں ٗ ہرطرح کے تعاون کیلئے تیار ہوں تاہم کرپشن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ٗبلاول بھٹو زرداری اور ایان علی کے ایئر ٹکٹس ایک ہی اکاؤنٹس سے خریدے جاتے ہیں ٗ ایف آئی اے تحقیقات کررہا ہے ٗ گرفتار امریکی شہری میتھیو بیرٹ جاسوس ثابت نہیں ہوا ٗآئندہ چند روز میں پاکستان سے ڈی پورٹ کردیا جائیگا ٗ روایت سے ہٹ کر بھارتی وزیر داخلہ کو خصوصی پریزنٹیشن کی اجازت دی ٗپاکستان کی تضحیک کا جواب دینا میراض فرض ہے ٗمقبوضہ کشمیر میں جاری آپریشن کسی صورت قبول نہیں ٗ چند ہفتے قبل کشمیریوں کو بے وقوف بنانے والی سیاسی جماعت بھارتی وزیر داخلہ کے بیان پر کوئی رد عمل نہیں دیا ٗقوم سے منافقت اور زیادتی نہ کی جائے ٗ سکیورٹی فورسز کو بلا جواز تنقید سے بچانا میری ذمہ داری ہے ٗکچھ لوگوں کو بھارت کے مفادات سے زیادہ ہمدردی ہے ۔

جمعہ کو یہاں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہشناختی کارڈ کی تصدیق کسی ایک شخص کا کام نہیں تھا ٗ میڈیا اور عوام نے بھرپور ساتھ دیا جس کے باعث یہ کام ممکن ہوپایا۔انہوں نے کہا کہ ایک ماہ اور 10 دن میں 3 کروڑ 12 شناختی کارڈز کی تصدیق ہوچکی ہے ٗ غیر متعلقہ افراد کے شناختی کارڈز بلاک کردیئے ہیں ٗ14 غیر ملکیوں نے خود فون کرکے اپنے شناختی کارڈز اور پاسپورٹ واپس کیے ٗاندھیر نگری انشااﷲ ختم ہوجائے گی ۔

انہوں نے کہا کہ امریکی شہری پر 2011ء میں گرفتاری کے وقت جاسوسی کے الزامات نہیں تھے لیکن یہ اس وقت حساس علاقے میں پایا گیا تھا،امریکی شہری کو 2011ء میں ڈی پورٹ کیا گیا تھا،ہیوسٹن اور اسلام آباد، دونوں جگہ آفیشلز نے بتایا کہ کمپیوٹر خراب تھاجس نے امریکی شہری کو چھوڑا وہ گرفتار ہے، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی ٗغلطی کی نشاندہی کرنے والے کو وزارت داخلہ نے ایک لاکھ روپے انعام دیا ٗسینیٹر اعظم سواتی نے بھی متعلقہ افسر کیلئے بطور انعام ایک لاکھ روپیہ بھجوایا تاہم وہ واپس کر دیئے گئے کیونکہ وزرت داخلہ نے انعام دیدیا ہے ٗ بلیک لسٹ امریکی شہری کے معاملے میں جس افسر نے غلطی کی نشاندہی کی اس افسر کو تعریفی اسناد دی گئی ہیں انہوں نے بتایا کہ امریکی شخص جاسوس نہیں تھا، کم از کم کوئی ایسے شواہد سامنے نہیں آئے لیکن قابل اعتراض سرگرمیوں میں ضرور تھا ٗ جے آئی ٹی ر پورٹ اور عدالتی حکم کی روشنی میں اس امریکی شہری کو ڈی پورٹ کیا جائیگا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ یہ تاثر غلط ہے کہ سارک میٹنگ میں میری طرف سے ظہرانہ تھا اور میں وہاں نہیں تھا ٗحکومت پاکستان نے میزبان ملک کی پوری عزت افزائی کی ٗہم نے تو مہمان وزراء کیلئے ہیلی کاپٹر کی سروس بھی دی ٗآپ کے گھر میں کوئی آئے اور آپ کی تضحیک کرکے چلا جائے اور آپ گھگو بن کر بیٹھے رہیں یہ کہاں کا احترام ہے ؟مجھ پر لازم ہے کہ میں اپنے مہمان کی عزت کروں لیکن پاکستان کی تضحیک پر جواب دینا بھی میرا فرض ہے ٗغلام علی، شہر یار خان،نجم سیٹھی اور راحت فتح علی خان نے بھار ت کا کیا قصور کیا تھا؟انہوں نے کہا کہ روایت سے ہٹ کر بھارتی وزیر داخلہ کو خصوصی پریزنٹیشن کی اجازت دی،لیکن ان کی تقریر میں جو باتیں آئیں تو مجھ پر لازم تھا کہ میں ان کا جواب دیتا ٗاگر میں نے غلط کہا تھا تو بھارتی وزیر داخلہ اسی ایوان میں جواب دے سکتے تھے ٗبھارتی وزیر نے راجیہ سبھا میں جو کہا وہ یہاں کہتے تو میں ان کا جواب دیتا،امن بھائی چارے کے لیے اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہے کہ ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے ۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ کو کہوں گا کہ یہ قوم نہ کسی کے تسلط میں رہ سکتی ہے نہ مقبوضہ کشمیر میں جاری آپریشن قابل قبول ہے، مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، آپ کے پاس کوئی اور حل ہے تو ہمیں بتائیں، چوہدری نثارعلی خان نے کہاکہ حملے بھی آپ کرتے ہیں، کشمیریوں کا قتل عام بھی کرتے ہیں، دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور مذاکرات کے دروازے بھی بند کرتے ہیں ٗدنیا دیکھے اور بھارتی میڈیا دیکھے کہ غلطی پر کون ہے، سارک کانفرنس میں جو کچھ کہا اور کیا وہ ملک کے مفاد میں کیا ٗ آئندہ بھی کروں گا۔

وزیر داخلہ نے کہاکہ ایک سیاسی جماعت کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا، یہ وہی جماعت ہے جو چند ہفتے پہلے کشمیری عوام کو بے وقوف بناتی رہی،یہ وہ منافقت ہے جو اس وقت ہماری سیاست پر چھائی ہوئی ہے،پرسوں جو میری تقریر ہوئی، وہ شیڈول کے مطابق تھی، اب ہر چیز چھپی چھپائی نہیں ہونی چاہیے، ولن یہاں ہیرو نہ بنیں ٗ میٹنگ میں کسی نے اسمبلی کی تقریر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، میں نے کہا کہ اس کا جواب ملٹری کی طرف سے نہیں آنا چاہیے اس کا جواب حکومت دیگی ٗ ملٹری حکومت کا حصہ ہوتی ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ مجھے وزیراعظم کی طرف سے پیغام آیا کہ پہلے انہیں تقریر کرنے دیں ٗوزیراعظم کی تقریر پہلے ہوگئی ان کا ایک اسٹیٹمنٹ تھا ٗ میں نے تو ہر چیز میں تعریف سب کی کی ہے ٗیہ بھی کہاکہ پہلی بار زرداری صاحب کی تعریف کی ہے ٗان کے ڈھنڈورچی کھڑے ہوگئے اور کہاکہ آصف زرداری کو کوئی ضرورت نہیں ہے ٗ اگر آصف زرداری کو ضرورت نہیں ہے تو انہوں نے میرا تعریفی خط کیوں سنبھال کر رکھا ہے؟ آصف زرداری کو میری تعریف کی ضرورت ہے لیکن ان ڈھنڈورچیوں کو کیا پتہ۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ میرا قصور ہے کہ 2009ء اور 2010ء میں 2ہزار واقعات ہوئے، مگر کیوں کہ ایک ڈرامہ وزیراعظم کے سامنے رچانا تھا؟ پوائنٹ اسکورنگ ہونی تھی اور ایک تماشا لگانا تھا سو وہ تماشالگایا گیا ٗانہی دو اشخاص نے دھرنے کے دوران بد ترین بدتمیزی کی، میں نے پریس کانفرنس کرنی چاہی لیکن وزیراعظم آڑے آگئے۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان کے چار نقاط پر سب سے زیادہ تیزی سے کام ہوا، دس نکات صوبوں کے بارے میں اور باقی دیگر وزارتوں کے بارے میں ہیں ٗیہ سب میل جول کا نتیجہ ہے کہ دہشت گردی ایک چوتھائی سے بھی نیچے آگئی ہے ٗدہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ ایک ماڈل کے طورپر تصور ہوتی ہے، بارڈر کے باہر دشمنوں کی ایک لائن لگی ہے جو وہاں سے پلان کرتے ہیں ٗکبھی غیر ملکی گٹھ جوڑ کی بات کریں تو ہمارے اپنوں کو آگ لگ جاتی ہے ٗجب سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں دے رہے ہوں تو آپ کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ٗمیرا کام ہے انٹیلی جنس شیئرنگ کرنا، دو سال میں 20ہزار انٹیلی جنس آپریشن کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ٹولہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈالتا ہے ٗ سول آرمڈ فورسز جو ہم دیتے ہیں اس پر بھی کہتے ہیں کہ آپ یہ بھی نہیں کرسکتے، آپ بلاشرکت غیرے اقتدار کے مالک ہیں، یہ لڑائی جھگڑا ختم ہونا چاہیے، لیکن ایک پارٹی نے تہیہ کرلیا ہے کہ اس نے مجھے ٹارگٹ کرنا ہے، اپوزیشن لیڈر حکومت کے خلاف ہوتے ہیں لیکن وہ میرے خلاف ہیں، میری ذمہ داری ہے کہ میں سیکیورٹی فورسز کو بلاجواز تنقید سے بچاؤں، کچھ ایسے لوگ چھپے ہوئے ہیں جنہیں بھارت کے مفادات سے زیادہ ہمدردی ہے ٗمیری ذمہ داری ہے کہ جہاں جہاں کرپشن ہوئی ہے میں ان کا آلہ کار نہ بنوں، سو ان کو یہ تکلیف ہے، ہر روز بیان میرے خلاف آتاہے، میں نہیں چاہتا کہ جواب دوں اور ان کے لیول پر جاؤں ٗوہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں، میں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ میٹر ریڈر تھا اس مقام تک کیسے پہنچ گیا؟ جو بہت بڑے بنتے ہیں ٗمجھے پتہ ہے کہ ایل پی جی کا ٹھیکہ کس طرح ریگولرائز کیا گیا ہے، میں نے تو کبھی نام نہیں لیا، ٹینڈر کسی اور کمپنی کے نام نکلا اور جس نے اپلائی ہی نہیں کیا اسے ٹھیکا دے دیا گیا۔

چوہدری نثار نے کہا کہ عمران سے کہاکہ بلاول کو کنٹینر پر چڑھانے سے پہلے دبئی کے محلات کا پوچھ لینا،پاناما لیکس پر تو وزیراعظم نے کہا ہے کہ تحقیق کرلو، آپ سے تو میں صرف جواب مانگ رہا ہوں کہ سرے محل آپ کا ہے یا نہیں ٗوہ جو ڈائمنڈ نیکلس ہے، اس کا کیا بنا، کس کے پاس ہے قوم سے منافقت اور زیادتی نہ کی جائے، اگر کوئی ہمارے ساتھ ہے تو کرپٹ ترین، دوسری طرف ہے تو بے قصور، جن قوانین پر ایکسٹینشن کی ضرورت ہے وہ ہونی چاہیے اور دہشت گردوں کے خلاف گھیرا تنگ ہونا چاہیے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان میں وزارت داخلہ سے متعلق 4 پوائنٹس تھے جن میں سے وزارت نے اپنے حصے کا بیشتر کام کرلیا ہے، سیکیورٹی کے حوالے سے کسی صوبے کو کبھی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا، لیکن صوبے انٹیلی جنس رپورٹ کی پرواہ نہیں کرتے۔وزیر داخلہ نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے حکومت کا ساتھ دینے کیلئے ایان علی کا کیس واپس لینے اور ڈاکٹر عاصم حسین کو ضمانت پر رہا کرنے کی شرائط رکھی تھیں۔

کہا گیا کہ اگر ایسا ہو جائے تو پیپلز پارٹی کی آپ سے صلح ہو جائیگی۔ میں نے اس کے جواب میں کہا کہ ڈاکٹر عاصم کا کیس نیب کے پاس اور پراسیکیوٹر آپ کے دور کا لگا ہوا ہے ٗ ماڈل ایان علی 5 کروڑ بیرون ملک لے جاتے ہوئے پکڑی گئی ٗ غریبوں کی کھال اتارنے والے ایان علی کا کیس مفت میں لڑ رہے ہیں ٗبلاول بھٹو زرداری اور ایان علی کے ایئر ٹکٹس ایک ہی اکاؤنٹس سے خریدے جاتے ہیں ٗجواب دیا جائے کہ ایان علی کا آصف زرداری سے کیا تعلق ہے؟چوہدری نثار علی خان نے نام لیے بغیر کہا کہ اس لڑکی کا دفاع کون کر رہے ہیں جو سب سے زیادہ میرے خلاف بولتے ہیں ٗایان علی پانچ کروڑ لے جاتے ہوئے پکڑی گئی اور زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے گئے ۔

اپوزیشن کے الزامات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف منہ ماری نہ کریں اور بیٹھ کر معاملات حل کریں۔ وزیر داخلہ نے اپوزیشن کو پیشکش کی کہ الزامات کی تحقیقات کیلئے ایک جیوری بنا لیتے ہیں جو فیصلہ کر ے گی کہ کون درست اور کون غلط ہے ٗ معاملات کے حل کے لیے تین آپشنز ہیں ،پہلا میڈ یا ،دوسرا جوڈیشل کمیشن اور تیسرا سپریم کورٹ کا فورم ہے ۔چوہدری نثار نے کہا کہ اپوزیشن کے رہنماء آئیں صحافیوں پر مشتمل جیوری بنا لیتے ہیں تاکہ پتہ چل سکے کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹ بول رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جیوری میں مجیب الرحمان شامی، حامد میر اورطلعت حسین ٗ حسن نثار ٗ کامران خان سمیت مزید صحافیوں کو شامل کیا جائیگا ۔

وقت اشاعت : 12/08/2016 - 20:37:13

اپنی رائے کا اظہار کریں