امریکا، سعودی نوجوان دہشت گردی کی فنڈنگ کے مقدمہ میں بری
تازہ ترین : 1
امریکا، سعودی نوجوان دہشت گردی کی فنڈنگ کے مقدمہ میں بری

امریکا، سعودی نوجوان دہشت گردی کی فنڈنگ کے مقدمہ میں بری

سعودی شہری کے خلاف جھوٹا دعویٰ کرنے والے صحافی پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرلیاگیا

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء)مریکا کی ایک وفاقی عدالت نے سعودی شہری کو دہشت گردی کے لیے فنڈنگ کے الزام سے بری کردیا ۔ساتھ ہی سعودی نوجوان کو اس کیس میں جعلی طور الجھانے کے الزام میں ایک مقامی صحافی کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا گیا ۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی ریاست بوسٹن میں قائم وفاقی عدالت کی خاتون جج پیٹی ساریس نے جاری کردہ 61 صفحات کو محیط فیصلے میں قرار دیا کہ 15 اپریل سنہ 2013ء کو امریکا میں ہونے والے ایک بم دھماکے سے سعودی نوجوان عبدالرحمان الحربی کا کوئی تعلق نہیں۔

الحربی پر ان دھماکوں کے لیے فنڈز مہیا کرنے کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے۔خیال رہے کہ 15 اپریل سنہ2013ء کو ہونے والے دھماکوں میں تین فراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ سنہ 2015ء میں امریکا کی ایک عدالت نے ان دھماکوں میں دو چیچن باشندوں تیمولنک اور جوہر سارنیف کو قصور وار قرار دیتے ہوئے انہیں سزائے موت سنائی تھی۔امریکا کی وفاقی عدالت نے صحافی گلین بیک کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی رپورٹ میں اس خفیہ ذریعے کو سامنے لائے جس کی بنیاد پر اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سنہ 2013ء کے دھماکوں میں سعودی نوجوان الحربی نے فنڈز فراہم کئے تھے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ صحافی کو سعودی نوجوان کے خلاف عائد الزامات کا ٹھوس ثبوت مہیا کرنے کے لیے یہ بتانا ہوگا کہ آیا اس نے اپنی ریڈیو رپورٹ میں کس ذریعے سے یہ کہا تھا کہ عبدالرحمان الحربی نے دھماکوں کے لیے فنڈز مہیا کیے تھے۔

وقت اشاعت : 12/08/2016 - 12:41:15

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں