ساہیوال،قتل کے مقدمہ کا بوگس ریکارڈ بنانے دو پولیس افسر سپریم کورٹ سے ضمانت منسوخ ..
تازہ ترین : 1

ساہیوال،قتل کے مقدمہ کا بوگس ریکارڈ بنانے دو پولیس افسر سپریم کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے پر گرفتار

ساہیوال(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)قتل کے مقدمہ کا بوگس ریکارڈ بنانے کے مقدمہ کے دوملزم پولیس افسرسابق ایس ایچ او پولیس انسپکٹر سعید احمد لودھی اورتھا نہ بہادرشاہ کے سابق ایس ایچ او ماجد اشفاق کو سپریم کورٹ سے آج عبوری ضمانت منسوخ ہونے کے بعد گرفتار کر لیا گیا جبکہ تیسرا ملزم اشتہاری قرار دے دیا گیا اورپولیس انسپکٹر سعید احمد لودھی اس وقت سیکورٹی انسپکٹر ڈی پی او آفس ساہیوال کی ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا۔

اس سے قبل سپیشل جج اینٹی کرپشن ساہیوال جمیل احمد چوہدری کی عدالت سے 4اپریل کو تھانہ اینٹی کرپشن کے اس مقدمہ میں تینوں پولیس افسروں سعید احمد لودھی ، ماجد اشفاق اور محمد امین کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ ہونے کے بعد فرار ہو گئے تھے ۔ تھانہ اینٹی کرپشن کی ایف آئی آر کے مطابق ایک سیاسی کارکن نور محمدسیال کو 17اپریل کو 2014کو قتل ہونے والے ایک زمیندار شاہد کے قتل میں پھنسا دیا تھا اور تمام بوگس ریکارڈ مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کے ایماء پر کیا تھا جس پر جب ہائی کورٹ کے حکم پر غیر جانبدار تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی تو نا صرف نور محمد سیال سیاسی کارکن بے گناہ پایا گیا بلکہ دیگر ملزم بھی بے گناہ نکلے جس پر تینوں پولیس افسروں کے خلاف جعل سازی اور بوگس ریکارڈ بناکر بے گناہ افراد کو قتل جیسے سنگین جرم میں پھنسانے کا مرتکب قرار دیکر تینوں پولیس افسروں کے خلاف مقدمہ بجرم -471-420ت پ اور 5-2-47پی سی اے کے تحت 2اپریل 2015کو درج کر لیا تھا جس میں تینوں پولیس افسروں سعید احمد لودھی ، ماجد اشفاق اور محمد امین کو اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا تھا جس کے بعد تینوں ملزموں نے سپیشل جج اینٹی کرپشن ساہیوال کی عدالت سے عبور ی ضمانت قبل از گرفتاری کرا ئی تھی جو کہ 4اپریل کو عدالت نے منسوخ کر دی تو تینوں پولیس افسر عدالت سے فرار ہو گئے تھے جس کے بعد ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کرالی جو عدالت نے منسوخ کر دی لیکن تینوں ملزم احاطہ ہائی کورٹ سے بھی فرار ہو گئے تھے بعد میں پولیس انسپکٹر سعید احمد لودھی اور سب انسپکٹر ماجد اشفاق نے سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت قبل از گرفتاری کرالی جسے آج سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا اور دونوں ملزموں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ تیسرے ملزم محمد امین سب انسپکٹر کو اشتہاری مجرم قرار دے دیا گیا ہے اور جوابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/08/2016 - 19:24:59

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں