کوئٹہ کی قانونی برادری کو لاحق خطرات کا ازالہ کیا جائے، تحفظ کو یقینی بنایا جائے ..
تازہ ترین : 1

کوئٹہ کی قانونی برادری کو لاحق خطرات کا ازالہ کیا جائے، تحفظ کو یقینی بنایا جائے ‘ایچ آر سی پی

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء) پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے جمعرات کو کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جس میں وفاقی شرعی عدالت کے ایک جج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ کمیشن نے ججوں اور وکلاء کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیاہے۔ایک بیان میں کمیشن نے کہاکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئٹہ میں ہونے والا دھماکا، جس میں وفاقی شرعی عدالت کے جج ظہور شاہوانی کو نشانہ بنایا گیا، کوئٹہ کی قانونی برادری کو نشانہ بنائے جانے کا ہی تسلسل تھا’’خوش قسمتی سے وفاقی شرعی عدالت کے جج اس حملے میں محفوظ رہے لیکن دھماکے میں ایک پولیس اہلکار اور عام شہریوں سمیت درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

اس دھماکے سے محض چند روز پہلے کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں 70سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت وکلاء کی تھی۔ جمعرات کو ہونے والا دھماکا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کوئٹہ کی شعبہ قانون سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی غیرمحفوظ ہے۔بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت میں جج اور وکلاء تشدد کے بڑھتے ہوئے خوف میں اپنے فرائض آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر انجام نہیں دے سکتے اور حتیٰ کہ وہ آزادانہ طور پر نقل و حرکت بھی نہیں کرسکتے۔

ہم پر امید ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ پیر کا تباہ کن حملہ جوکہ پاکستان میں وکلاء پر ہونے والا سب سے جان لیوا حملہ ثابت ہوا ہے، نہ صرف کوئٹہ میں امن عامہ کی موجودہ صورتحال پر توجہ دلائے گا بلکہ بار اور بینچ کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت کو بھی اجاگر کرے گا جوکہ خود مختار قانونی شعبے کی فعالیت اور قانون کی حکمرانی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔

اس وقت سکیورٹی کی نازک صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو جسٹس شاہوانی پر ہونے والاحملہ انتہائی تشویشناک ہے۔ایچ آر سی پی کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ رواں ہفتے کوئٹہ میں قانونی برادری سے تعلق رکھنے والی کمیونٹی پر ہونے والے حملوں کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کرے جس کا مقصد مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو۔ وکلاء اور عدالتی افسران کو تحفظ دیے بغیر یہ توقع کرنا انتہائی مشکل ہے کہ وہ اپنے فرائض آزادانہ طور پر اور بغیر کسی دباؤ کے سرانجام دے سکیں گے۔

سب سے آخر میں یہ کہ ہمارا نہیں خیال کہ تشدد کی موجودہ لہر کوئٹہ میں وکلاء اور ججوں تک محدود رہے گی۔ کسے علم کے اگلا ہدف کون ہے؟ ہمیں امید ہے کہ سکیورٹی اور نظم ونسق سے متعلقہ تمام ادارے بشمول حزب اختلاف، الزام تراشی کے کھیل کا حصہ بننے سے گریز کریں گے اور شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/08/2016 - 18:46:57

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں