ترکی نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے 27 ہزار سے زائد ملازمین کو برطرف کردیا
تازہ ترین : 1

ترکی نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے 27 ہزار سے زائد ملازمین کو برطرف کردیا

استنبول(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء) ترکی نے ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے 27 ہزار سے زائد ملازمین کو برطرف کردیا اور ان کے ملازمت کے اجازت نامے بھی منسوخ کردیے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک حکام نے ان تمام افراد کو 15 جولائی کو فوج کے ایک دھڑے کی جانب سے ہونے والی بغاوت کی ناکام کوشش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرکے برطرف کیا اور اب انہیں کسی بھی سرکاری یا نجی تعلیمی ادارے میں نوکری نہیں ملے گی۔

ترک وزیر تعلیم عصمت یلماز نے بتایا کہ یہ تمام افراد ان تعلیمی اداروں اور اسکولز میں ملازمت کرتے تھے جنہیں حکومت متوازی ریاستی اسٹرکچر سمجھتی ہے۔ترکی نے بغاوت کی کوشش کا ذمہ دار امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اﷲ گولن کو ٹھہرایا تھا اور گولن سے وابستہ تنظیموں اور تعلیمی اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔

ترک حکام اب تک عدلیہ، سیکیورٹی فورسز اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ 60 ہزار کے قریب افراد کو معطل، گرفتار یا برطرف کرچکے ہیں اور ان پر بغاوت کی کوشش میں شامل ہونے اور گولن کے حامی ہونے کے الزمات عائد کیے گئے ہیں۔ترک حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ فتح اﷲ گولن کے حامی ہر ریاستی ادارے میں متوازی ڈھانچہ قائم کرچکے ہیں جنہیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ترکی نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گولن کی تنظیم مبینہ طور پر سے وابستہ پاک ترک اسکولز کو بند کرے۔ترکی کی جانب سے امریکا کو بھی درخواست دی گئی ہے کہ وہ فتح اﷲ گولن کو ترکی کے حوالے کرے تاہم گولن کا اصرار ہے کہ ان کا بغاوت کی کوشش میں کوئی کردار نہیں تھا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/08/2016 - 18:33:14

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں