کوئٹہ دھماکے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ..
تازہ ترین : 1

کوئٹہ دھماکے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ٗ پاکستان

پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کا عملہ بالکل محفوظ ہے ٗ کشمیر میں قتل و غارت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ہر فورم پر مذمت کرتے ہیں ٗپاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے کسی کے بھی خلاف استعمال نہ ہونے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے ٗ بلیک لسٹ امریکی شہری کی امیگریشن کا معاملہ باعث تشویش ہے ٗ سعودی عرب میں پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے ٗساری صورتحال کی ذمہ دار سعودی کمپنیاں ہیں ٗ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے ٗترجمان نفیس ذکریا کی ہفتہ وار بریفنگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء) دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا ہے کہ کوئٹہ دھماکے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ٗ کل بھوشن یادو کا اعترافی بیان ریکارڈ پر موجود ہے ٗ پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کا عملہ بالکل محفوظ ہے ٗ کشمیر میں قتل و غارت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ہر فورم پر مذمت کرتے ہیں ٗپاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کیلئے کسی کے بھی خلاف استعمال نہ ہونے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے ٗ بلیک لسٹ امریکی شہری کی امیگریشن کا معاملہ باعث تشویش ہے ٗ سعودی عرب میں پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے ٗساری صورتحال کی ذمہ دار سعودی کمپنیاں ہیں ٗ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔

جمعرات کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کا آغاز سانحہ کوئٹہ میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے فاتحہ خوانی سے ہوا جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ کوئٹہ میں 8 اگست کو ہونے والے ہولناک دھماکے پر پورا پاکستان غمزدہ ہے جس کے نتیجے میں 70 سے زائد معصوم شہری جاں بحق ہوئے۔انہوں نے کہاکہ کوئٹہ سانحے میں بھارت کی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ٗجو کراچی اور کوئٹہ میں بھی امن مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے ٗبلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسرکلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بھارتکے مظالم پر افسوس ہے اور ہم کشمیر میں قتل و غارت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ہر فورم پر مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس صورتحال کا سختی سے نوٹس لے کر معصوم کشمیریوں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کیا ہے جبکہ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان نے چھرہ گن (پیلیٹ گن) سے زخمی ہونے والے افراد کے علاج کا بھی اعلان کیا ہے ٗعالمی تنظیموں سے بھی علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔بھارت کی جانب سے پاکستان پر سرحد پار دراندازی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے کسی کے بھی خلاف استعمال نہ ہونے کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے کتنا نقصان اٹھایا ہے۔بلیک امریکی شہری میتھیو کریگ بیرٹ کی اسلام آباد ایئرپورٹ سے گرفتاری کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ امریکی شہری کے معاملے پر تحقیقات جاری ہیں اور ہیوسٹن کی ویزا قونصلر سے بھی تحقیقات کی جارہی ہیں۔نفیس ذکریا نے کہا کہ امریکی شہری کی امیگریشن کا معاملہ باعث تشویش ہے، وزارت داخلہ ہمارے ساتھ رابطے میں ہے اور امیگریشن دینے والے افسران کا تعین کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں پھنسے پاکستانی ملازمین کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد کی جا رہی ہے، اس ساری صورتحال کی ذمہ دار سعودی کمپنیاں ہیں، سعودی حکومت کا اس صورتحال سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، اس کے باوجود سعودی حکومت نے بہت زیادہ تعاون کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ جن ورکرز کے پاس ویزا ہے ان کو ملازمت تلاش کرنے کی اجازت مل گئی ہے، تمام متاثرہ پاکستانیوں کو خوراک اور ادویات کی فراہمی ممکن بنا دی گئی ہے، ورکرز کو خوراک کی مد میں 200 ریال ماہانہ دیئے جا رہے ہیں ٗ متاثرین کے اہلخانہ کو 50 ہزار روپے فی کس فراہمی جلد شروع ہو جائے گی اور اس حوالے سے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ہم خود دہشت گردی سے متاثر ہیں ہم ہمسایوں بالخصوص افغانستان سے اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے اور حال ہی میں افغان مہاجرین کے پاکستان میں قیام کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نے کہاکہ افغان حکومت نے بالآخر پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کے یرغمالی عملے کے بارے میں معلومات فراہم کردی ہیں اور عملہ بالکل محفوظ ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہیلی کاپٹر کے یرغمالی عملے کے محفوظ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ افغان حکومت نے بالآخر اس حوالے سے معلومات فراہم کردی ہیں۔نفیس ذکریا کے مطابق افغانستان نے عملے کی بازیابی کے لیے کوششوں کے حوالے سے یقین دہانی کروائی ہے۔

وقت اشاعت : 11/08/2016 - 17:14:56

اپنی رائے کا اظہار کریں