ہمارے عزم پہاڑ کی طرح مضبوط ہیں اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ‘وزیر ..
تازہ ترین : 1

ہمارے عزم پہاڑ کی طرح مضبوط ہیں اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ‘وزیر اعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہاہے کہ ہمارے عزم پہاڑ کی طرح مضبوط ہیں اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ہم ڈرنے والے نہیں پہلے بھی ملک کیلئے قربانیاں دیں اور آئندہ بھی دیں گے ‘ دشمنوں کے مکروہ عزائم کامیاب نہیں ہونگے ‘ سی پیک ضرور بنائیں گے جبکہ وزیراعلیٰ نے قوموں پر برے حالات آتے ہیں وہ قربانیاں دیتی ہیں اور انہیں کامیابی ملتی ہے ۔

سانحہ 8اگست کے شہداء کے لواحقین کیلئے ایک ایک کروڑ روپے دینے ہر شہید کے گھر کے ایک ایک فرد کو اہلیت کے مطابق نوکری دینے ، شہداء کے کم سن بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے اور جونےئر وکلاء کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے لیگل فرٹیلٹی اکیڈمک ایکسیلنس پلان کا اعلان کیا ہے یہ اعلانات انہوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کئے جس کی قیادت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید علی ظفر کررہے تھے جبکہ وفد میں ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے علاوہ چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے وکلاء بھی شامل تھے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی ، چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ اور حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ بھی ملاقات میں موجودتھے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے وزیراعلیٰ بلوچستان کے عزم کو سراہتے ہوئے شہداء کے ورثاء کیلئے خطیر امدادی پیکج کے اعلان پر وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی ظفر نے کہا کہ پورے پاکستان سے وکلاء کے نمائندہ وفد کے دورہ کوئٹہ کا مقصد شہداء کے لواحقین سے ہمدردی اور بلوچستان کے عوام سے یک جہتی کا اظہار ہے جس طرح وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہماری گذارشات کو سنا اور جس مثبت رد عمل کا اظہار کیا وہ پورے ملک کے وکلاء کیلئے باعث تقویت ہے اور ان کی حقیقی لیڈر شپ کی عکاسی کرتا ہے جبکہ اس سے پورے ملک کیلئے بلوچستان کے حوالے سے ایک مثبت پیغام گیا ہے کہ بلوچستان کی قیادت اور عوام دہشت گردی سے خوفزدہ نہیں بلکہ دہشت گردی کی اس جنگ میں قربانیاں دینے کے باوجود اس کے خاتمے کیلئے پر عزم ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کی وکلاء برادری کوئٹہ میں وکلاء پر کئے گئے حملے کو پورے ملک کے وکلاء پر حملہ تصور کرتی ہے وکلاء سوسائٹی کا ایک بڑا ستون ہیں جو دہشت گردی سے بالکل خوفزدہ نہیں اور قانون اور آئین کی طاقت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں شریک ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک ملک کی ترقی کیلئے لازمی ہے ہماری کسی سے کوئی سیاسی وابستگی نہیں صرف ریاست اہم ہے انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کومبنگ آپریشن بلوچستان کے ساتھ ساتھ پورے ملک بشمول جنوبی پنجاب میں بھی کیا جائے اور نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔

وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونیو الے میرے بھائی اور بیٹے کی حیثیت رکھتے تھے بزدل لوگوں نے کاری وار کرکے ہم سے ہمارے پیاروں کو جدا کیا اور ایک پڑھے لکھے اور باشعور طبقے کو نشانہ بنایا وزیراعلیٰ نے کہا کہ سانحہ میں کوئٹہ کے سینئر اور قابل وکلاء شہید ہوئے جس سے قانون کے شعبے میں ایک بہت بڑا خلاء پیدا ہوگیا ہے جسے پر کرنے کیلئے حکومت نے جونےئر وکیلوں کی استعداد کار میں اضافے کیلئے منصوبہ بندی کی ہے جس کے تحت انہیں قانون کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ممالک بھیجا جائے گا وزیراعلیٰ نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے یہ ایک انسانی سانحہ ہے جس کو سیاسی رنگ دینے سے منفی نتائج برآمد ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ دشمن سی پیک کے خلاف ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان اس منصوبے کے ذریعے ترقی کرے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم ایک متحارب خطے میں رہتے ہیں افغانستان کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے شاید صوبے سے باہر کے لوگوں کو اندازہ نہیں کہ ہم یہاں کن حالات میں رہ کر پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن ہمارے عزم پہاڑ کی طرح مضبوط ہیں اور دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ہم ڈرنے والے نہیں پہلے بھی ملک کیلئے قربانیاں دیں اور آئندہ بھی دیں گے جو عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ہتھکنڈوں سے ملک کی ترقی رک جائے گی ان کیلئے واضح پیغام ہے کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے اور سی پیک ضرور بنائیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ قوموں پر برے حالات آتے ہیں وہ قربانیاں دیتی ہیں اور انہیں کامیابی ملتی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان حکومت اور سیکورٹی اداروں نے صوبے کے حالات میں بہتری لانے کیلئے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور صورتحال میں95فیصد بہتری آئی ہے ہم دہشت گردوں کے پیچھے ہیں ، بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیاگیا جس کی نشاندہی پر بہت سے دہشت گردوں کو پکڑا گیا اس کے علاوہ بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں اور گرفتار کئے جانے والے دہشتگردوں نے غیر ملکی فنڈنگ کا اعتراف کیا ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہماری جنگ ایک نظریہ کے خلاف ہے جو انسانیت دشمنی پر مبنی ہے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر ضرب عضب 8سال پہلے شروع ہوتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی تاہم اب بھی ملک اور صوبے میں امن کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے حوصلے بلند ہیں اور دہشتگردی کی جنگ کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے بلکہ اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ گذشتہ تین سال میں بلوچستان میں دہشت گردی کی جتنی کارروائیاں ہوئی ہیں ان کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے اور سانحہ کوئٹہ کے ذمہ داروں کو بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔ چیف سیکرٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ نے وفد کو بتایا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایات کی روشنی میں صوبے کے تعلیمی اداروں کی سیکورٹی کو یقینی بنایا گیا ہے اور اب ہسپتالوں عدالتوں اور دیگر حساس مقامات پر بھی فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/08/2016 - 15:35:29

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں