قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا
تازہ ترین : 1

قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)قومی اسمبلی نے سائبر کرائم بل 2015 متفقہ طور پر کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ جمعرات کو بل وفاقی بل وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے ایوان میں پیش کیاقومی اسمبلی سے منظوری کے بعد اب اس بل کو صدر مملکت ممنون حسین کے پاس بھیجا جائیگا جن کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل میں نافذ العمل ہوجائے گا۔

سائبر کرائم کی تحقیقات کیلئے ہائیکورٹ کی مشاورت سے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی، جن کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں ہائیکورٹ میں اپیل ہوسکے گی ‘بل کے متن کے مطابق سائبر دہشت گردی پر 14سال قید اور 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا ‘نفرت انگیز تقریر، فرقہ واریت پھیلانے اور مذہبی منافرت پر 7 سال سزا ہوگی ‘دھوکہ دہی پر 3سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا ‘بچوں کی غیر اخلاقی تصاویر شائع کرنے یا اپ لوڈ کرنے پر 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا ‘انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے پر 7 سال سزا ہوگی۔

بل میں کہاگیا کہ انٹرنیٹ ڈیٹا کے غلط استعمال پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔بل میں کہاگیاکہ موبائل فون کی ٹیمپرنگ پر 3 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔موبائل فون سموں کی غیر قانونی فروخت پر 5 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔ بل کے مطابق انٹرنیٹ مہیا کرنے والوں کا ڈیٹا عدالتی حکم کے بغیر شیئر نہیں کیا جائے گا ‘سائبرکرائم قانون کا اطلاق پاکستان سے باہر کسی بھی دوسرے ملک میں بیٹھ کر خلاف ورزی کے مرتکب افراد پر بھی ہوگا ‘پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے لائسنس ہولڈر کے خلاف کارروائی پی ٹی اے قانون کے مطابق ہوگی ‘سائبر کرائم قانون کا اطلاق پرنٹ اورالیکٹرانک میڈیا پر نہیں ہوگا، جبکہ پیمرا لائسنس کے حامل ٹی وی اور ریڈیو چینلز اس بل کے دائرہ کار میں نہیں آئیں گے ‘عالمی سطح پرمعلومات کے تبادلے کے لیے عدالت سے اجازت لی جائی گی اور دوسرے ممالک سے تعاون بھی طلب کیا جاسکے گا۔

بل میں کہاگیا کہ سیکیورٹی ایجنسیز کی مداخلت کی روک تھام کے حوالے سے بھی اقدامات کیے جائیں گے ‘بل میں 21 جرائم کی وضاحت کی گئی ہے، جن پر پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی 30 دفعات لاگو ہوسکیں گی۔ بل کے مطابق متعلقہ حکام اس بل پر عملدرآمد کے حوالے سے سال میں 2 مرتبہ پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کریں گے۔یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نے اپریل 2015 میں انسداد الیکٹرونک کرائم ایکٹ 2015 کی منظوری دے کر بل کو جون 2015 میں قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔بعدازاں رواں برس 13 اپریل کو قومی اسمبلی نے مذکورہ بل منظور کیاتاہم بل کو قانونی شکل دینے کے لیے سینیٹ سے اس کی منظوری ضروری تھی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/08/2016 - 15:34:45

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں