لٹل ماسٹر محمد حنیف کے دل کی دھڑکن بحال ہو گئی
تازہ ترین : 1
لٹل ماسٹر محمد حنیف کے دل کی دھڑکن بحال ہو گئی

لٹل ماسٹر محمد حنیف کے دل کی دھڑکن بحال ہو گئی

حنیف محمد سرطان کے مرض میں مبتلا ہیں اور 2013 میں ان کا لندن میں آپریشن ہوا تھا‘ پی ٹی وی اور نجی میڈیا نے ان کے انتقال کی خبریں نشر کیں‘چند منٹ دل کی دھڑکنیں بندہونے کے چند منٹ بعد ان کے دل کی دھڑکنیں بحال ہورہی ہیں:صاحبزادے شعیب محمد کی گفتگو

کراچی(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 11 اگست۔2016ء)کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج کرکٹ کے عالمی شہرت یافتہ پاکستانی بلے باز اور سابق کپتان محمد حنیف کے صاحبزادے شعیب ملک کے مطابق ان کے دل کی دھڑکن بحال ہو گئی ہے۔حنیف محمد سرطان کے مرض میں مبتلا ہیں اور 2013 میں ان کا لندن میں آپریشن ہوا تھا۔جمعرات کی دوپہر پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن اور نجی میڈیا نے ان کے انتقال کی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں لیکن ان کے صاحبزادے شعیب محمد نے پی ٹی وی کو بتایا کہ وہ کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں زیرِ علاج ہی اور ان کے دل کی دھڑکن بحال ہو گئی ہے۔

ایوانِ وزیرِ اعظم کی جانب سے اس سلسلے میں تعزیتی بیان جاری ہوا تھا جسے واپس لے لیا گیا ہے۔محمد حنیف کی سب سے بڑی وجہ شہرت ان کی وہ طولانی اننگز ہے جو انھوں نے برج ٹاون میں 58-1957 کی سیریز میں کھیلی تھی۔990 منٹ پر محیط اس اننگز کا ریکارڈ آج بھی ٹیسٹ کرکٹ کی طویل ترین اننگز کے طور پر قائم ہے جس کے دوران انھوں نے 337 رنز بنائے تھے۔ اس کے علاوہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 499 رنز کا ریکارڈ ایک عرصے تک قائم رہا جسے برائن لارا نے توڑا۔

محمد حنیف 21 دسمبر 1934 کو انڈین ریاست جوناگڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ صادق محمد کے علاوہ ان کے بھائی وزیر محمد، صادق محمد، رئیس محمد اور ان کے بیٹے شعیب محمد بھی ٹیسٹ کرکٹر ہیں۔حنیف محمد ان کھلاڑیوں میں شامل ہیں جنھیں پاکستانی کرکٹ کا اولین سپر سٹار کہا جا سکتا ہے۔ اپنی بے عیب تکنیک اور ہر قسم کے حالات میں وکٹ پر لمبے عرصے تک ٹھہرے رہنے کی صلاحیت وہ خوبیاں ہیں جنھوں نے لاکھوں لوگوں کو حنیف کا گرویدہ بنا دیا۔

یہی وجہ ہے کہ آج بھی اگر پاکستان کی آل ٹائم گریٹ ٹیسٹ ٹیم بنائی جائے تو اس میں حنیف بطور اوپنر ضرور شامل ہوں گے۔حنیف محمد نے 55 ٹیسٹ میچوں کی 97 اننگز میں 43.98 کی اوسط سے 3915 رنز بنائے، جن میں 12 سینچریاں اور 15 نصف سینچریاں شامل ہیں۔ 2013 میں لندن میں ان کی سرجری ہوئی تھی تاہم تین ہفتے قبل طبیعت بگڑنے پر انہیں کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا جہاں طبیعت مزید خراب ہونے پر انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا۔

حنیف محمد کے صاحبزادے شعیب محمد نے بتایا کہ حنیف محمد کو تین ہفتے قبل آغاخان ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا تھا۔حنیف محمد 21 دسمبر 1934 کو جوناگڑھ میں پیدا ہوئے اور بعدازاں پاکستان ہجرت کی، 1952 سے 1969 کے دوران 55 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 12 سنچریوں کی مدد سے 43.98 کی اوسط سے رنز بنائے۔ہندوستان کے خلاف دہلی میں 16 اکتوبر 1952 کو ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کیا اور پہلی ہی اننگز میں بحیثیت اوپنر 51 رنز بنائے تاہم اس میچ میں میزبان ہندوستان نے 70 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

دائیں ہاتھ کے بلے باز پاکستان کے ان اولین کھلاڑیوں سے میں سے تھے جنہوں نے قومی ٹیم کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔پاکستان کرکٹ ٹیم کو اس وقت ٹیسٹ اسٹیٹس سے نوازا گیا جب قومی ٹیم نے حنیف محمد کے قیمتی 64 رنز کی بدولت کراچی جیم خانہ کرکٹ گراونڈ میں میریلیبون کرکٹ کلب کے خلاف 288 رنز کا ہدف حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔حنیف محمد کو ان کے دور کے بڑے کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا تھا، وہ دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے باولنگ کرتے تھے جبکہ کئی مواقعوں پر وکٹ کیپر کے فرائض بھی انجام دیے۔

پاکستان کی بیٹنگ ناکام ہوتی تھی تو حنیف محمد مرد آہن کی صورت کھڑے ہوتے اور اپنی لاجواب تکنیک کی بدولت آندھیوں سے ٹکرا جاتے تھے۔ویسٹ انڈیز کے خلاف ان کے ہوم گراونڈ برج ٹاون پر 16 گھنٹے کی طویل اننگز میں پاکستان کو شکست سے بچایا تھا جو تاریخ کے اوراق پر سنہری حروف میں زندہ رہے گی، ان کی یہ اننگز ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی سب سے طویل اننگز ہے جبکہ 40 سال گزرنے کے باوجود فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی بڑی اننگز ہے۔

حنیف محمد کو ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں ٹرپل سنچری کا اعزاز حاصل تھا جس کو نیوزی لینڈ کے سابق کپتان برینڈن مک کولم نے 2014 میں ہندوستان کے خلاف دوسری اننگز میں ٹرپل سنچری بنا کر اپنے نام کیا۔انھوں نے 55 ٹیسٹ میچوں میں 15 نصف سنچریوں اور 12 سنچریوں کی بدولت 3ہزار 915 رنز بنائے جبکہ ایک وکٹ بھی حاصل کی۔عظیم بلے باز نے آخری ٹیسٹ میچ 24 اکتوبر سے 27 اکتوبر 1969 تک نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے ہوم گراونڈ کراچی میں کھیلا، اپنے آخری ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں انھوں نے 22 رنز بنائے اور دوسری اننگز میں 35 رنز بنا سکے اور یہ میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوا۔

1958-59 میں حنیف محمد نے سر ڈان بریڈ مین کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے بڑی اننگز کھیلنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کیا، حنیف محمد نے 499 رنز بنا کر رن آوٹ ہوئے اور صرف ایک رن کی کمی سے 500 رنز مکمل نہیں کرپائے تھے، 35 سال بعد ویسٹ انڈیز کے برائن لارا نے 1994 میں اس ریکارڈ کو توڑ دیا۔حنیف محمد نے 238 فرسٹ کلاس میچوں 52.32 کی بڑی اوسط کے ساتھ مجموعی طور پر 55 سنچریاں بنائیں اور 66 نصف سنچریوں کی مدد سے 17 ہزار 59 رنز بنائے۔

انہوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 53 وکٹیں بھی حاصل کیں۔حنیف محمد کو 1968 میں وزڈن کا سال کا بہترین کرکٹر بھی قرار دیا گیا اور 2009 میں انہیں پاکستان کے دو سابق عظیم کھلاڑیوں عمران خان اور جاوید میانداد کے ساتھ آئی سی سی کے ہال آف فیم میں شامل ہونے والے 55 کھلاڑیوں کی پہلی فہرست میں شامل کیا گیا۔

وقت اشاعت : 11/08/2016 - 13:42:56

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں