روس کا حلب میں روزانہ تین گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا اعلان
تازہ ترین : 1

روس کا حلب میں روزانہ تین گھنٹے کے لیے جنگ بندی کا اعلان

ماسکو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)روس کی وزارت دفاع نے شام کے جنگ زدہ شمالی شہر حلب میں روزانہ تین گھنٹے کے لیے زمینی اور فضائی حملے روکنے کا اعلان کیا ہے تاکہ محصور شہریوں کو انسانی امداد بہم پہنچائی جاسکے۔میڈیارپورٹس کے مطابق روسی آرمی کے جنرل اسٹاف کے لیفٹیننٹ جنرل سرگئی روڈسکوئے نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حلب کی جانب جانے والے امدادی قافلوں کی مکمل سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے دوپہر ایک بجے تک محفوظ راستہ دیا جائے گا۔

اس دوران تمام فوجی کارروائیاں ،فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری روک دی جائے گی۔انھوں نے کہا کہ لڑائی میں اس وقفے کا آغاز جمعرات سے ہوگیاہے تاہم روسی جنرل نے یہ نہیں بتایا کہ تین گھنٹے کے لیے یہ جنگ بندی کتنے روز تک جاری رہے گی۔جنرل روڈسکوئے نے صحافیوں کو بتایا کہ گذشتہ چار روز کے دوران حلب کے جنوب مغرب میں ایک ہزار سے زیادہ باغی جنگجو لڑائی میں مارے گئے ہیں اور قریباً دو ہزار زخمی ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ حلب کے شمالی نواحی علاقے سے کاستیلو شاپنگ سنٹر تک ایک سڑک بنا دی گئی ہے تاکہ وہاں سے شہر کے مغربی اور مشرقی حصے میں چوبیس گھنٹے خوراک ،پانی ، ایندھن، ادویہ اور دوسری اشیائے ضروریہ کو محفوظ اور منظم انداز میں پہنچانے کا سلسلہ جاری رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کاستیلو روڈ کے ساتھ حلب کی آبادی کو انسانی امداد پہنچانے کے لیے ایک مشترکہ کنٹرول سے متعلق اقوام متحدہ کی تجاویز کی حمایت کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ روز حلب میں فوری طور پر انسانی بنیاد پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس شہر میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران باغیوں اور اسدی فوج کے درمیان شدید لڑائی کے نتیجے میں شہری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے جس سے بیس لاکھ مکینوں کو پانی کی قلّت کا سامنا ہے اور برقی رو بھی معطل ہے۔اسدی فورسز کی لڑائی میں اس ہزیمت کے بعد حزب اللہ اور دوسری علاقائی شیعہ ملیشیاوٴں کے سیکڑوں جنگجو باغیوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے کے لیے حلب پہنچ گئے ہیں جبکہ باغی گروپوں کی کمک کے طور پر بھی سیکڑوں جنگجو اس محاذ جنگ کی جانب آرہے ہیں جس کے پیش نظر آیندہ دنوں میں طرفین کے درمیان گھمسان کی جنگ چھڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کے مسائل دوچند ہوسکتے ہیں۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 11/08/2016 - 11:52:56

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں