قومی اسمبلی میں سائبر کرائم بل پیش ، اپوزیشن نے مخالفت کردی ، شدید احتجاج
تازہ ترین : 1

قومی اسمبلی میں سائبر کرائم بل پیش ، اپوزیشن نے مخالفت کردی ، شدید احتجاج

اپوزیشن جماعتوں کے رہنما ؤں کا موقف ایم کیو ایم کی ویب سائٹ اور ویڈیو چینل بلاک کیا گیا ، سائبر کرائم بل کا اطلاق بھی سب سے پہلے متحدہ پر ہوگا، متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان کااظہار خیال

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء) قومی اسمبلی میں سائبر کرائم بل پیش ہونے پر اپوزیشن جماعتو ں نے شدید مخالفت کردی ،اپوزیشن نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون ڈریکولین قانون بنایا جارہا ہے اور آئین پاکستان کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ اس بل کے ذریعے آزادی اظہار کا بنیادی حق چھینا جار ہاہے ، اس قانون سے پاکستان کے 60 فیصد نوجوانوں پر قدغن لگے گا ، سائبر کرائم بل میں توہین رسالت پر سزا نہیں ڈالی گئی ۔

اس بل میں اس پر بھی سزا کا تعین کیا جائے،مجھ شرم محسوس ہور ہی ہے کہ جمہوری دور میں ڈریکولین قانون کو منظور کیا جائیگا ، سائبر کرائم بل پر اپوزیشن کے تحفظات کو دور کیا جائے، متحدہ قومی موومنٹ نے کہا کہ ایم کیو ایم کی ویب سائٹ اور ویڈیو چینل بلاک کیا گیا ہے اور سائبر کرائم بل کا اطلاق بھی سب سے پہلے ایم کیو ایم پر ہوگا،بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے آئی ٹی انوشہ رحمان کی جانب سے سائبر کرائم بل 2016جب پیش کیا گیاتو اپوزیشن سخت احتجاج کیا ،اس موقعہ پر الیکٹرانک کرائم بل کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر،سید علی رضا عابدی ،علی محمد خان،ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور صاحبزادہ طارق اﷲ نے اظہار خیال کیا الیکٹرانک کرائم بل کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے کہا کہ سائبر کرائم بل مختلف مراحل سے گزار کر یہاں پہنچا اور سیاسی حلقوں اور عوامی حلقوں سمیت انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کرنے والوں کی جانب سے مخالفت کی گئی ۔

یہ قانون ڈریکولین قانون بنایا جارہا ہے اور آئین پاکستان کی صریحاً خلاف ورزی ہے ۔ اس بل کے ذریعے آزادی اظہار کا بنیادی حق چھینا جار ہاہے ۔ تالی بجانے پر بھی سزا دی جاتی ہے اور اب انٹرنیت پر احتجاج کرنے پر بھی 7 سال قید ہے۔ انٹرنیٹ سے کسی بھی چیز کو حاصل کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ملک کے عوام کے بنیادی حقوق کا خیال رکھنا پڑے گا اور کسی صورت بھی یہ قانون قبول نہیں ہے۔

سید علی رضا عابدی نے کہا ہے کہ عوام کو اس بارے علم ہی نہیں کہ قانون کیا ہے اور اس قانون سے پاکستان کے 60 فیصد نوجوانوں پر قدغن لگے گا ۔ موجودہ حکومت نے لیپ ٹاپ بانٹنے اور انٹرنیٹ کے میدان میں تھری جی اور فور جی ٹیکنالوجی لائی، 51 میں سے 7 مشقوں پر اعتراض ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کی ویب سائٹ اور ویڈیو چینل بلاک کیا گیا ہے اور سائبر کرائم بل کا اطلاق بھی سب سے پہلے ایم کیو ایم پر ہوگا۔

علی محمد خان نے کہا کہ سائبر کرائم بل میں توہین رسالت پر سزا نہیں ڈالی گئی ۔ اس بل میں اس پر بھی سزا کا تعین کیا جائے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ایک طرف سول سوسائٹی کو دہشت گرد نشانہ بنا رہے ہیں اور دوسری طرف حکومت سول سوسائٹی اور نوجوانوں کو اس قانون کے ذریعے نشانہ بنایا جائے گا اور میرے لئے شرم کا مقام ہوگا کہ اس پارلیمان کا ممبر ہوتے ہوئے یہ قانون منظور کیا جائیگا اور ایوان سے نکل کر یہ بتاؤں گا کہ مجھے شرم محسوس ہور ہی ہے کہ جمہوری دور میں ڈریکولین قانون کو منظور کیا گیا۔ صاحبزادہ طارق شاہ نے کہا کہ سائبر کرائم بل پر اپوزیشن کے تحفظات کو دور کیا جائے

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 10/08/2016 - 22:18:53

اپنی رائے کا اظہار کریں