تمام اپوزیشن جماعتیں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے حکومت کے ساتھ ہیں‘ ہم قومی سلامتی ..
تازہ ترین : 1

تمام اپوزیشن جماعتیں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے حکومت کے ساتھ ہیں‘ ہم قومی سلامتی اور امن و امان کے ایشو پر کوئی سیاسی نہیں کرنا چاہتے ‘ حکومت پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی قائم کرے اور اداروں کو بریفنگ کیلئے بلائے ، پوچھاجائے دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ دار کیوں پکڑے نہیں جا رہے ‘ ہم حکومت کا ساتھ دیں گے

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کاقومی اسمبلی میں سانحہ کوئٹہ پر نکتہ اعتراض پر اظہار خیال

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے حکومت کے ساتھ ہیں‘ ہم قومی سلامتی اور امن و امان کے ایشو پر کوئی سیاسی نہیں کرنا چاہتے ‘ حکومت پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی قائم کرے اور اداروں کو بریفنگ کیلئے بلائے اور پوچھے کہ دہشت گردی کے واقعات کے ذمہ دار کیوں پکڑے نہیں جا رہے ‘ حکومت کا ساتھ دیں گے ۔

بدھ کو وہ قومی اسمبلی میں سانحہ کوئٹہ پر نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کر رہے تھے۔ سید خورشید شاہ نے کہاکہ 10 اگست 1947ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی معرض وجود میں آئی تھی۔ قائد اعظم نے جو پہلی تقریر کی تھی وہ آج بھی حالات پر منطبق تھی۔ قائد اعظم نے آئین و قانون کی عملدراری ا ور کرپشن کے خاتمہ کی بات کی تھی۔ اپو زیشن نے مسائل کے حل کیلئے ہر قدم پر حکومت کا ساتھ دیا۔

فوجی عدالتوں کیلئے آئین میں ترمیم میں حکومت کا ساتھ دیا۔ بلوچستان کا دہشت گردی کا واقعہ وکلاء برادری پر حملہ تھا کوئی کہہ رہا ہے کہ یہ سی پیک کو رکوانے کے لئے ہے مگر یہ نہیں بتایا جا رہا کہ یہ حملے کیوں کئے جا رہے ہیں۔ ضرب عضب پر آج تک پارلیمنٹ میں کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ حکمران پارلیمنٹ کو اپنی پارلیمنٹ سمجھیں۔ ہم نے بار بار یقین دلایا کہ دہشت گردی پر ہم کوئی سیاست نہیں کریں گے سندھ اور کے پی کے میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث سہولت کار پکڑے گئے۔

پنجاب اور بلوچستان میں ہونے والے واقعات کے سہولت کار کیوں نہیں پکڑے گئے۔ سانحہ کوئٹہ حکومت کیلئے ایک چیلنج ہے۔ پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی بنائی جائے ہم سب ساتھ دیں گے۔ یہ بہت بڑی آفر کر رہا ہوں اس سے حکومت کے دباؤ میں کمی آئے گی۔ سندھ اسمبلی پاکستان کی بانی ہے۔ ہم پاکستان بنانے والے ہیں۔ ہم سب کو مل کر کرپشن اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ جن تنظیموں پر پابندی ہے ان پر سختی سے مانیٹرنگ کی جائے۔ دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرنے کیلئے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی استعمال کی جائے۔ پارلیمنٹ میں بلائیں ہم پوچھیں گے ورنہ حکومت پوچھے کہ دہشت گردوں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 10/08/2016 - 18:22:10

اپنی رائے کا اظہار کریں