ھنگو میں دو غیر سرکاری تنظیموں کی بے قاعدگیوں کا مسئلہ سنگین
تازہ ترین : 1

ھنگو میں دو غیر سرکاری تنظیموں کی بے قاعدگیوں کا مسئلہ سنگین

اورکزئی میں’ سی ای آر ڈی‘ این جی او کی سرگرمیوں پر پابندی عائد

ھنگو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔10 اگست ۔2016ء) ھنگو میں دو غیر سرکاری تنظیموں کی بے قاعدگیوں کا مسئلہ سنگین․ اورکزئی میں” سی ای آر ڈی“ این جی او کی سرگرمیوں پر پابندی عائد۔ جبکہ ضلع ہنگو میں’پیس ‘آرگنائزیشن ڈبلیو ایف پی کی تعاون سے یونیسف کی پارٹنر شپ میں بے قاعدگیوں کے ریکارڈ قائم کر گیا۔ ایم این اے ڈاکٹر غازی گلاب جمال اورکزئی اورعلاقہ عمائدین نے سرگرمیاں بند کرانے کا اشارہ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اورکزئی ایجنسی اور ضلع ہنگو میں صحت کے شعبے میں ورلڈ فوڈ پروگرام ڈبلیو ایف پی اور عالمی ادارہ یونیسف کی تعاون سے سرگرمیوں میں مصروف دو غیر سرکاری تنظیمیں بے قاعدگیوں کے انکشافات کے بعد متنازعہ بن کر علاقائی سطح پر شدید عوامی رد عمل کا نشانہ بن گئے ہیں۔ اورکزئی ایجنسی کے ایم این اے غازی گلاب جمال اورکزئی نے قبائلی اقوام کے عمائدین اور ملکان پر مشتمل ایک قومی گرینڈ جرگہ سے خطاب میں کہا کہ اورکزئی ایجنسی میں بیرونی عالمی اداروں کی تعاون سے کام کرنے والی این جی او” سی ای آر ڈی“ کی جاری پروجیکٹس میں مقامی تعلیمی یافتہ افراد کویکسر نظر انداز کر کے باہر اضلاع کی غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں ہیں اور قبائلی علاقہ اورکزئی کے نوجوانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا جو کہ نا قابل برداشت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزکورہ این جی اوز کو انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے باوجود سرگرمیاں جاری رکھنا قانون کے ساتھ مزاق ہے۔اگر فوری طور پر ”سی ای آر ڈی“ ارگنائزیشن کی اورکزئی ایجنسی میں سرگرمیاں بند نہیں کرائی گئی تو قومی روایات کے مطابق خود نوٹس کیا جائے گا۔ دریں اثنا ڈبلیو ایف پی اور یونیسف کی تعاون سے ہیلتھ نیوٹریشن پروگرام کے تحت ضلع ہنگو میں سرگرم عمل این جی او” پیس “میں بھی بے قاعدگیوں اور بد عنوانیوں کے انکشافات پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

عوامی شکایات کی بھر مار کے مطابق کہ پیس ارگنائزیشن کوفراہم شدہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے فوڈ سپلیمینٹس اوپن مارکیٹ مہنگے داموں فروخت جبکہ ضلع ہنگو میں قائم کردہ چھ نیوٹریشن سنٹرز میں کاغذی کاروائیاں کر کے مریضوں کو طبی سہولیات فراہمی کے بجائے اکثر اوقات مراکز اغیر فعال اور بند رہ کر ہزاروں مریضوں کو ذلیل و خوار کر دیا جاتا ہے۔ پراجیکٹ کوارڈینیٹر سمیت اکثریتی ذمہ دار اہلکاران فرائض سے رپوش ہونے سے ”پیس “ ارگنائزیشن عوام کے لئے درد سر بن کر تجارتی منڈی تبدیل ہو کر ڈبلیو ایف پی، حکومت، ضلعی انتظامیہ اور ضلعی حکومت کے نظروں سے اوجھل ہو کر بغیر این او سی حاصل کئے پوشیدہ سرگرمیوں میں مصروف ہے جس پر علاقہ عمائدین اور عوام کو تحفظات اور خدشات درپیش ہے۔
وقت اشاعت : 10/08/2016 - 16:42:22

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں