چین کی جناتی بس سروس ایک فراڈ تو نہیں۔سرمایہ کاروں نے اپنے پیسے واپس مانگ لیے
تازہ ترین : 1
چین کی جناتی بس سروس ایک فراڈ تو نہیں۔سرمایہ کاروں نے اپنے پیسے واپس ..

چین کی جناتی بس سروس ایک فراڈ تو نہیں۔سرمایہ کاروں نے اپنے پیسے واپس مانگ لیے

گزشتہ دنوں چین میں متعارف کرائی گئی جناتی بس سروس کے کافی چرچے رہے ہیں۔ جب اس بس سروس کے تجربات شروع ہوئے تو بھارتی وزیر اعظم نے روڈ ٹرانسپورٹ منسٹری کو اس منصوبے کی تمام تفصیلات حاصل کرنے کی ہدایت کیں۔ بھارت ہی نہیں برازیل، فرانس اور انڈونیشیا کی حکومتوں نے بھی اس منصوبے میں اپنی دلچسپی ظاہر کی ۔ تاہم اس منصوبے کی مشکلات کا آغاز چینی میڈیا کی اُن رپورٹس سے ہوا، جن میں اسے ایک بہت بڑا فراڈ کہا گیا ہے۔

مزید یہ کہ اس ٹرانزٹ ایلی ویٹڈ بس (ٹی ای بی) کے تجربات بھی موخر ہو گئے ہیں۔
ہوانگ کیلائی ،جو ٹی ای بی کی مالک کمپنی ہے، نے اس منصوبے کے لیے کئی ارب یوان کی پیئر ٹو پیئر سرمایہ کاری حاصل کی تھی۔ تاہم کمپنی صرف 200 ملین یوان سے دو پراجیکٹ شروع کر سکی۔
کمپنی نے اپنے تجربات کی لیے 300 میٹر سٹرک کرائے پر حاصل کی، جس کی کرائے داری کی مدت بھی مہینے کے آخر میں ختم ہو جائے گی۔یہ معلوم نہیں کہ کمپنی اپنے کرائے کےمعاہدے کی تجدید کرے گی یا نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے باعث اس جناتی بس سروس کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والے سرمایہ کاروں نے بھی کمپنی سے اپنا سرمایہ واپس مانگنا شروع کر دیاہے، جو اس منصوبے کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔

اس خبر کا حوالہ

وقت اشاعت : 10/08/2016 - 12:11:22

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں