سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے کلئیرنگ ہاؤسز(لائسنسنگ اور آپریشنز) کی منظوری ..
تازہ ترین : 1

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے کلئیرنگ ہاؤسز(لائسنسنگ اور آپریشنز) کی منظوری دے دی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔9 اگست ۔2016ء)کیپیٹل مارکیٹ میں استحکام لانے اور سکیورٹیز ایکٹ ۵۱۰۲ کے تحت ضمنی قانون سازی کرنے کے طور پر سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان نے کلئیرنگ ہاؤسز کا لائسنس حاصل کرنے اور کاروبار کے طور طریقوں کی صراحت کرنے کے لئے کلئیرنگ ہاؤسز(لائسنسنگ اور آپریشنز) ضوابط ۶۱۰۲ کی منظوری دے دی۔ مذکورہ ضوابط تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد منظور کئے گئے ہیں۔

یہ ضوابط ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر بھی آویزاں کردئے گئے ہیں۔ایکٹ کے تقاضوں کی تعمیل کرتے ہوئے مذکورہ ضوابط کلئیرنگ ہاؤسز کے لئے لائسنس کے اجرا، کم از کم مطلوبہ مالی وسائل، فرائض اور وجوبات، آڈٹ و اکاؤنٹ، ڈائریکٹروں اور انتظامیہ کے تقرر اور طرزِ عمل، ڈائریکٹروں اور انتظامیہ کیلئے اہلیت اور موزونیت کے معیار اور اہم کار ہائے منصبی کو ٹھیکہ پر دئے جانے کے طریقہ کار کی صراحت کرتے ہیں۔

سرمایہ کاروں کے حقوق کے تحفظ اور مارکیٹ پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنے کے لئے، ان ضوابط میں کلئیرنگ ہاؤسز کی جانب سے ایک فنڈ کے قیام کی بھی صراحت کی گئی ہے تاکہ سکیورٹیز ایکسچینج پر ہونے والی تجارت کا تصفیہ خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ ضوابط کے تحت کلئیرنگ ہاؤسز کے کاروبار سے جڑے موجودہ اور ممکنہ خطرات کی بنیاد پر ایک کلئیرنگ ہاؤس کے لئیمالی وسائل کے ابتدائی اور متسلسل تقاضے کی بھی صراحت کی گئی ہے۔

مزید برآں بہتر گوورننس یقینی بنانے کے لئے کلئیرنگ ہاؤسز کی جانب سے حصص داری کے لئے معیارِ اہلیت اور حصص داری کی حد کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کلئیرنگ ہاؤسز کے لئے اب لازم ہو گا کہ وہ اپنے بورڈ پر کم از کم ایک تہائی انڈی پینڈنٹ ڈائریکٹروں کا تقرر کریں۔ اس کے پیش نظر کہ کلئیرنگ ہاؤسزنے بین الاقوامی بہترین طور طریقوں کے مطابق حال ہی میں سینٹرل کاؤنٹر پارٹی کا مقام حاصل کیا ہے، کلیئرنگ ہاؤس پر ضوابط کے ذریعے متعدد نئے مطلوبات کا اطلاق کر دیا گیا ہے تاکہ یہ اس نئے مقام اور اس کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا خیال رکھ سکے اور اپنی جگہ مزید مستحکم کر سکے۔

اس میں ایک مطالبہ ہے کہ غیر جانبدار ڈائریکٹرز، اہم انتظامی عملہ اور صنعتی ماہرین پر مشتمل ایک رسک کمیٹی بنائیتاکہ خطرات کی روک تھام کی پالیسیاں بنائی جا سکیں۔ آئیوسکو کے اصولوں کے مطابق، کلیئرنگ ہاؤس سیگریگیٹڈ رپورٹنگ لائنز کے ساتھ ایک چیف رسک افسر کا بھی تقرّر کرے گا تاکہ خطرات روکنے کی پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔ دنیا بھر میں کلیئرنگ ہاؤسزکیپٹل مارکیٹ کے بنیادی ڈھانچے ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہیکی اس جامع انضباطی ڈھانچے کے نفاذ کے بعد پاکستان میں بھی کلیئرنگ ہاؤس مؤثر کلیئرنگ اور سیٹلمنٹ کی بہتر خدمات کی فراہمی یقینی بنائے گا، جبکہ خطرات میں حتٰی الامکان کمی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ ملے گا۔

وقت اشاعت : 09/08/2016 - 22:13:33

اپنی رائے کا اظہار کریں