پنجاب بھر میں کومبنگ آپریشن کے آغازکا فیصلہ-فوج، رینجرز، سی ٹی ڈی ، پولیس اور ایلیٹ ..
تازہ ترین : 1
پنجاب بھر میں کومبنگ آپریشن کے آغازکا فیصلہ-فوج، رینجرز، سی ٹی ڈی ، ..

پنجاب بھر میں کومبنگ آپریشن کے آغازکا فیصلہ-فوج، رینجرز، سی ٹی ڈی ، پولیس اور ایلیٹ فورس کو خصوصی ٹیمیں آپریشن میں حصہ لیں گی،حساس اداروں کی مرتب کردہ فہرستیں سیکورٹی اداروں کے حوالے

لاہور(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔09 اگست۔2016ء) سانحہ کوئٹہ کے بعد پنجاب بھر میں پولیس اور سیکورٹی اداروں کے مشترکہ کومبنگ آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ریجنل پولیس سربراہان کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق پنجاب کے اہم شہروں میں آج سے ہی کومبنگ آپریشن کا آغاز کیا جارہا ہے اور پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق فورس کو استعمال کریں۔

کومبنگ آپریشن کے لئے فوج، رینجرز، سی ٹی ڈی ، پولیس اور ایلیٹ فورس کو خصوصی ٹیموں میں شامل کیا جارہا ہے اور مشترکہ آپریشن کی رپورٹس وزارت داخلہ کے ذریعے حکومت اور سیکورٹی کے دیگر اداروں کو روزانہ کی بنیاد پر بجھوائی جائیں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سانحہ کوئٹہ کے بعد پنجاب میں سیکورٹی ہائی الرٹ رکھنے کے فیصلے کے بعد کومبنگ آپریشن کی ضرورت محسوس کی گئی جس پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ ہوا ہے۔

ذارئع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے لیے مقامی پولیس کی مدد حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے -آپریشن میں آئی بی اوردیگرحساس اداروں کی جانب سے مرتب کردہ فہرستوں کے مطابق جنوبی پنجاب‘وسطحی پنجاب اور اپرپنجاب میں بیک وقت شروع کیا جائے گا‘انٹیلی جنس بیوروسمیت دیگر حساس اداروں کو 6ماہ پنجاب میں فہرستیں مرتب کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا جوکہ کئی ماہ پہلے مکمل ہوچکا ہے‘ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران جنوبی پنجاب اور پنجاب کے بڑے شہروں میں خصوصی طور پر ٹارگٹڈکاروائیاں کی جائیں گی -ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ لاہور میں کئی مطلوب افراد اور دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی پناہ گاہوں کے بارے میں حساس اداروں نے رپورٹس مختلف اوقات میں اعلی حکام کو ارسال کی تھیں مگر ہربار کچھ اہم حکومتی شخصیات آپریشن کی راہ میں روکاوٹ بنتی رہی ہیں ‘لاہور کے علاوہ فیصل آباد میں بھی ایک بڑا آپریشن شروع کیا گیا ہے جس میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے-ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی اسلحہ کی موجودگی پر بھی اعلی سیکورٹی حکام کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اب اچانک حکومت پنجاب کی جانب سے اسلحہ لائسنس پر عائد پابندی ختم کرنے کو بھی عسکری قیادت کی جانب سے ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھا جارہا ہے کیونکہ حکومت یہ پابندی اہم صوبائی وزراءاور اراکین صوبائی اسمبلی کے دباﺅپرختم کررہی-پابندی کے خاتمے کو بعض عناصرکو کور دینے سے تعبیرکیاجارہا ہے-

وقت اشاعت : 09/08/2016 - 16:32:55

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں