دہشت گرد پاکستانی قوم کے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتے ، ہسپتال میں دہشت گردی بزدلانہ ..
تازہ ترین : 1

دہشت گرد پاکستانی قوم کے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتے ، ہسپتال میں دہشت گردی بزدلانہ کارروائی ہے ، پوری قوم دہشتگردوں کے خلاف متحد ہے ،اتحاد اور یکجہتی سے دہشتگردوں کو عبرتناک شکست دی جائے گی ، حکومت دہشتگردی کے واقعات پر قابو پانے کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر کسی رو رعایت کے بغیر عملدرآمد یقینی بنائے،ہمیں اپنے گھر میں موجود دشمن پر نظر رکھنی ہوگی، اتحادی سپورٹ فنڈ بند کرنے تک حالات درست نہیں ہوسکتے ، کوئٹہ میں بھی اس طرح کے سانحات ہوتے رہیں گے،برصغیر پر پہلے بھی انگریز کی حکومت تھی ، آج بھی انگریز ہم پر حکومت کر رہا ہے ، حکومت عوام کے خون کی خود مجرم بن رہی ہے ، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرایا جائے

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیرعبدالقادر بلوچ ، نوید قمر، مولانامحمد خان شیرانی ، ڈاکٹر عارف علوی ، محسن شاہنواز رانجھا،عبدالوسیم،غلام احمد بلور ایاز سومرو ، خالد مگسی، عبدالستار بچانی اور دیگر کاکوئٹہ واقعہ پر بحث کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء ) قومی اسمبلی کے ارکان نے کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی قوم کے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتے ، ہسپتال میں دہشت گردی بزدلانہ کارروائی ہے ۔ پوری قوم دہشتگردوں کے خلاف متحد ہے اور اتحاد اور یکجہتی سے دہشتگردوں کو عبرت ناک شکست دی جائے گی ، حکومت دہشتگردی کے واقعات پر قابو پانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر کسی رو رعایت کے بغیر عملدرآمد یقینی بنائے ۔

پیر کو قومی اسمبلی میں کوئٹہ سانحے پر بحث کا آغاز پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کیا ۔ قبل ازیں وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے بحث کے لئے قواعد و ضوابط معطل کرنے کی تحریک کی ایوان نے منظوری کرائی جس کے بعد وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کرائی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس دو روز کے وقفہ کے بعد پیر کی شام سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ، نعت رسول مقبولؐ کے بعد سپیکر نے کہا کہ 90 سے زائد افراد کوئٹہ کے سانحہ میں جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے اور میں 100 سے زائد لوگ زخمی ہیں ،ہاؤس بزنس ایڈوائزری میں فیصلہ ہوا ہے کہ ایجنڈے کی معمول کی کارروائی معطل کرکے اسی سانحہ پر بحث کرائی جائے گی۔

وفاقی وزیر زاہد حامد نے تحریک پیش کی کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعہ کو زیر بحث لانے کے لئے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کی جائے ۔ تحریک کی منظوری کے بعد زاہد حامد نے تحریک پیش کی کہ قاعدہ 259 کے تحت ایوان میں سانحہ کوئٹہ کو زیر بحث لایا جائے ۔ تحریک کی منظوری کے بعد سید نوید قمر نے تجویز دی کہ پہلے شہداء کے لئے دعائے مغفرت کرائی جائے ۔

سپیکر کے کہنے پر وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے فاتحہ خوانی کرائی ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے انجینئر بلیغ الرحمن نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پیر کی صبح 8 بج کر 43 منٹ پر بلال کاسی کو گھر سے عدالت جاتے ہوئے راستہ میں میں تین دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کیا جب ان کی میت ہسپتال پہنچائی گئی تو سول ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈز پر 9 بج کر 55 منٹ پر خود کش دھماکہ ہوا جس میں 69 افراد جاں بحق اور 108 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔

سپیکر نے کہا کہ کوئٹہ سانحہ میں میڈیا کے لوگ بھی شہید ہوئے ہیں ۔ اس لئے پارلیمانی رپورٹرز نے سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنا احتجاج رجسٹرڈ کرایا ہے ۔ انہوں نے وفاقی وزیر برجیس طاہر کو ہدایت کی کہ وہ پریس گیلری میں جا کر صحافیوں سے بات چیت کریں ۔ اس دوران سید نوید قمر نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے سانحہ کوئٹہ پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر انسان کی جان بے انتہا قیمتی ہے ۔

آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد ہم نے جو فیصلے کیے تھے ان کو ہمیں مدنظر رکھ کر آگے بڑھنا ہو گا ۔ اس وقت اے پی سی میں جو لائحہ عمل مرتب ہوا تھا حکومت کو بتانا چاہئے کہ ان فیصلوں پر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ساری اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ساتھ ہے ۔ اس لعنت کے خاتمے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ کوئی دہشت گردی کی جرات نہ کر سکے ۔

وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری قوم متحد ہونا چاہیے ۔ جب تک ملک کا ہر شہری دہشت گردوں کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ شرارت کہاں سے ہو رہی ہے ۔ مذہب کا نام استعمال کرکے انتہا پسندی ہو رہی ہے اس کے سدباب کے لئے مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر مذہبی لیڈروں اور جماعتوں کو آگے آنا ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحادو یگانگت پیدا کرنی چاہیے ۔ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کا ساتھ دیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے ۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ کوئٹہ میں جس پیمانے پر دہشت گردی ہو ئی ہے پوری قوم کو گہرا صدمہ پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات پر صرف تعزیت اور مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں اصل بات یہ ہے کہ ہم دہشتگردی کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں ۔

ایسے اقدامات ہونے چاہیے کہ خود کش حملہ آور ایسی کارروائیوں کے لئے پہنچ نہ سکیں ۔ نیشنل ایکشن پلان بن گیا مگر کریمنل جسٹس سسٹم پر کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ جب تک ہر سطح پر دہشتگردی کے خلاف اقدامات نہ اٹھائے گئے ایسے واقعات ہوتے رہیں گے ۔ ریاست کو چاہیے کہ دہشتگردوں کی رسائی معصوم شہریوں تک رسائی کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے ۔ اس کے لئے انٹیلی جنس نظام کو بہتر بنانا ہو گا ۔

جمعیت علماء اسلام کے رکن اسمبلی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ ہمارے دشمن ہمارے گھر کے اندر موجود ہیں ، ہمیں ان پر نظر رکھنی چاہیے ، جب تک کولیشن سپورٹ فنڈ لیا جائے گا تب تک حالات درست نہیں ہو سکتے اور کوئٹہ کی طرح سانحات بھی ہوتے رہینگے ، برصغیر پر انگریز کی حکومت تھی اور آج بھی انگریز ہم پر حکومت کر رہا ہے ، حکومت عوام کے خون کی خود مجرم بن رہی ہے ، جماعت اسلامی پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اﷲ نے کہا کہ حکومت کھل کر پاکستان میں جار ی بھارتی مداخلت کے خلاف بولے ، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرایا جائے ۔

وہ پیر کو قومی اسمبلی میں سانحہ کوئٹہ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اظہار خیال کر رہے تھے ۔ صاحبزادہ طارق اﷲ نے کہا کہ کوئٹہ کے گلیاں اور کوچے لہولہان ہو چکے ہیں ۔ کئی دفعہ دہشتگردی پر اے پی سی بلائی گئی ۔ قوانین بھی بنائے گئے اور کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی ۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک کو محفوظ بنائے ۔ اس ملک کے وزیر اعظم کو اپنی زبان کھولنی چاہیے کہ بھارت اس دہشت گردی میں ملوث ہے ۔

بھارتی ایجنٹ اور انٹیلی جنس ایجنسی پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے ۔ مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ بلوچستان کے چوٹی کے وکلاء کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ہمارا دشمن گھر کے اندر ہے ۔ ہمیں اپنے دشمن پر نظر رکھنی چاہیے ۔ سلامتی کونسل کے فیصلے جب تک درست نہیں ہونگے تب تک دنیا کے خالات درست نہیں ہو سکتے ۔ برصغیر انگریز کی حکومت تھی اور آج بھی ہم پر انگریز حکومت کر رہا ہے ۔

حکومت عوام کے خون کی خود مجرم بن رہی ہے ، کولیشن سپورٹ فنڈ جب تک ہم لینگے تب تک اس مسئلے پر قابو نہیں پایا جائے گا ۔ 9/11 کے بعد امریکی صدر نے کہا تھا کہ اب تہذیبوں کی جنگشروع ہو گی ۔ ٹارگٹ کلنگ میں ہماری اپنی فورسز شامل ہیں ۔ پاکستان میں مسلم تنظیموں کو کیا حکومت کا تعاون حاصل نہیں ۔ ہمارے اپنے ادارے دہشتگردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں ۔

عبدالوسیم نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان اور ضرب عضب بڑے زور شور سے چلا سوال یہ ہے کہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ۔ ہم مسلسل چیخ رہے ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں زور دے رہی ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیا جائے ۔ ایم کیو ایم کے کارکنوں کو کراچی میں ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے کوئی اس پر آواز اٹھانے والا نہیں ہے ۔ حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارا اپنا کیا دھرا ہے ۔

سیاسی فیصلے غیر سیاسی لوگ کرینگے تو حالات ایسے ہی ہونگے ۔ دہلی فتح کرنے کے چکر میں 4 جنگیں لڑیں گئیں جس سے حاصل کچھ نہیں ہوا ۔ ہم پر غداری کے الزامات لگائے گئے مشرقی پاکستان کی بات کی تب بھی ایجنٹ اور افغانستان کی بات تو روسی ایجنٹ کہا گیا ہم پاکستان کی دھرتی کے ایجنٹ ہیں اپنے ہی ملک میں وزیرستان کے عوام مہاجر بنے اگر ہم نے دہشتگردی کو روکنا ہے تو ہمسایوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنا ہونگے ۔

اگر ہم نے درست فیصلے نہیں کیے تو مزید 20 سال میں لگ سکتے ہیں ۔ ایاز سومرو نے کہا کہ آخر پاکستانیوں سے کونسلا ایسا قصور ہوا جس کی ہمیں سزا دی جا رہی ہے ۔ دہشتگرد کا کوئی مذہب نہیں کوئی نام نہیں بلکہ ان کو پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کا کام سونپا گیا ہے ۔ ہمیں منظم و متحد ہو کر اس دہشتگردی کو ختم کرنا ہو گا ۔ اگر حکومت امن و امان فراہم نہیں کر سکتی تو حکومت چھوڑ دے ۔

خالد مگسی نے کہا کہ پاکستانی عوام اور اداروں کو ایک صفحے پر لا کر ان میں شعور اجاگر کرنا ہے ۔ تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کوئٹہ فرقہ واریت کا مرکز ہے اس سے قبل بھی بہت زیادہ دہشت گردی ہو چکی ہے ، دنیا کے اندر دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے ، اس بات کو دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کا ایکبیانیہہے اس کو بدلنا ہے ، دہشت گرد پوری دنیا میں پروپیگنڈا کر کے لوگوں کو دہشت گردبنا رہے ہیں اور مذہب استعمال کیا جا رہا ہے مگر دہشت گردی کی بنیاد نہیں ۔

دہشت گردوں کے خلاف بیانیہ بنایا جائے ۔ محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ کوئٹہ واقعہ کے بعد سانحہ آرمی پبلیک کے زخم ہو گئے ہیں ۔ واقعہ پر جتنا دکھ کیا جائے کم ۔ سوال یہ ہے کہ ہر دفعہ ہم آنسو بہا کر چپ کیوں ہو جاتے ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان صرف وفاقی حکومت کی ذمہ داری نہیں ۔ 18ویں ترمیم کے بعد حکومت صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

خیبرپختونخوا حکومت میں وفاقی حکومت پر تنقید اور سازشوں کے عالوہ مسئلہ کے حل کے لئے کوئی کام نہیں کیا ۔ سندھ حکومت کو رینجرز کی توسیع کے لئے کئی خط لکھنے پڑے ہیں ۔ اچھے اور برے طالبان کی تقسیم ختم کرنے کی بات کی تھی لیکن کبھی اسامہ بن لادن پکڑا جاتا ہے اور کبھی ملا منصور پر حملہ ہو جاتا ہے ۔ ناقص خارجہ پالیسیوں کو بنانے والوں کے لئے سزا اور جزا کا سسٹم ہونا چاہیے ۔

افغانستان میں میڈیا ہاؤسز کو کئی ممالک فنڈنگ کر رہے ہیں تا کہ پاکستان کو بدنام کیا جائے ۔ نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لینا چاہیے کہ کس صوبے نے کتنا کام کیا ہے ۔ آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ آج کا واقعہ بہت ہی سنگین ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ سول سوسائٹی کے تمام شعبوں کے لوگ اس زد میں آئے ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان اس لئے لایا گیا تھا کہ آئندہ دہشت گردی کے واقعات نہ ہوں ۔

جب تک اس مسئلہ پر مکمل توجہ نہیں ہوگی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ سیاسی جماعتوں اور سیکیورٹی فورسز نے اس حوالے سے کردار ادا کرنا ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا۔ واقعہ کی تحقیقات کے بغیر ہی صوبے کے وزیراعلیٰ نے بیان دے دیا کہ اس میں را ملوث ہے ۔ مسئلہ کے حل کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتااور نہ ہی سرمایہ کاری آئے گی ۔

سہولت کاروں کو نہیں پکڑیں گے تو واقعات نہیں رک سکتے ۔ دوسروں کے ملوث ہونے کے بارے میں بیان دینے سے قبل اپنی کوتائیوں اور خامیوں کو دیکھا جائے ۔ افغان مہاجرین کا دسمبر تک وقت ہے حکومت رجسٹریشن کرے اور جانے کے لئے کوئی طریقہ کار طے کرے ۔ ان کی پراپرٹیز اور کاروبار کے معاملات کے حوالے سے طریقہ لگا لیں تاکہ وہ باعزت اور مطمئن ہو کر واپس جاسکیں ۔

پاک افغان تعلقات دوراہے پر ہیں ، پالیسی بنانے والوں کو کام کرنا چاہیے افغانستان کے ساتھ تعلقات نجی ترین سطح پر ہیں۔ پتہ ہی نہیں افغانستان کے ساتھ معاملات کون ڈیل کر رہا ہے۔ دہشت گردی کی زد میں زیادہ پختون ہی آتے ہیں حکومت توجہ دے۔ تحفظات دور کرنے کے بغیروفاق کمزور ہوگا۔ شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ آج کے واقع پر بہت افسوس ہے اور سارا پاکستان غم میں ڈوب گیا ہے۔

اہم اپنی پالیسیوں کو بھگت رہے ہیں۔ ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا ۔ ہمسائیوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے چاہیے۔ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہیے۔ افغان مہاجرین کو عزت کے ساتھ رخصت کرنے کیلئے پالیسی تشکیل دی جائے۔عبدالستار بچانی نے کہا کہ کورج ہی نہیں ہے قرار داد پاس ہونی چاہیے ، کل تک لیٹ ہوجائے گی۔ ڈاکٹر شیریں مزاری ے کہا کہ دہشت گردی کا سنگین واقع ہے اور ارکان پارلیمنٹ غیر سنجیدہ ہے۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 22:25:04

اپنی رائے کا اظہار کریں