کوئٹہ میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ پاکستان اور پاکستان کے پر امن عوام ..
تازہ ترین : 1

کوئٹہ میں دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ پاکستان اور پاکستان کے پر امن عوام پر حملہ ہے

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق،جماعت الدعوۃ کے امیرحافظ محمد سعید و دیگر رہنما ?ں کا منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء )امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور دیگر مذہبی رہنما?ں نے کوئٹہ کے اندر ہونے والے دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ حملہ پاکستان اور پاکستان کے پر امن عوام پر حملہ ہے۔اس بدترین اور اندوہناک واقعہ کے ذمہ داران کو گرفتار کر کے کڑی سزا دی جائے۔یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت سورہی ہے۔

حکومت کا ذاتی ایجنڈا اپنی مدت پوری کرنا ہے عوام مکمل طور پر حالات کے رحم و کرم پر ہیں۔15 اگست کو مظفر آباد سے چکوٹھی تک مارچ کریں گے اور کشمیریوں کو بتائیں گے کہ وہ اپنی جدوجہد میں تنہاء نہیں ہیں۔ وہ پیر کواسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام ’’عالمی دہشت گردی اور پاکستان‘‘کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

سراج الحق نے کہاکہ عوام مکمل طور پر حالات کے رحم و کرم پر ہیں بلوچستان حکومت تمام سٹیک ہولڈز کو جمع کرے اور ملک سے باہر بیٹھے بلوچ رہنما?ں سے بات چیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد بھارتی مداخلت کھل کر سامنے آ گئی ہے آج کے دھماکے میں بھی ’’را‘‘اور ’’خاد‘‘ کا ہاتھ ہے۔پاکستان کے عوام اور سیاسی جماعتوں نے حکومت کو واضح طور پر دہشت گردی ختم کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے حکومت ہمیں بتائے کہ شہری اور کیا کریں۔

کیا ہم اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجیں،اپنے دفاتر میں نہ جائیں اور اپنے کاروبار بند کردیں۔جو حکومت عوام کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی خواہ وہ کسی کی بھی ہو اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ ملک میں جاری مسلح،معاشی اور سیاسی دہشت گردی سب ایک ہی ہیں۔پاکستان کو غریب عوام نے بنایا۔ 68 سالوں سے حکمرانوں نے ملک کو اس کے نظریے سے محروم کر رکھا ہے۔

پاکستان میں تعلیمی نظام کو بھی امیروں اور غریبوں میں تقسیم کر دیاگیا ہے۔جہاں 45 ہزار بچے اولیول اور 42 لاکھ بچے میٹرک کی کلاس میں زیر تعلیم ہیں کیا بچوں کو تقسیم کرنا دہشت گردی نہیں ہے۔ملک کی اندرونی دہشت گردی بیرونی دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے۔حکمرانوں کی غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک دولخت ہوا۔پوری قوم خوف میں مبتلا ہے۔ہم پر کسی نے حملہ نہیں کیا پھر بھی ہمارے 65ہزار معصوم شہری شہید ہو گئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی دہشت گردی ہے کہ 98فیصد وسائل پر 2 فیصد کا قبضہ ہے۔جب تک ہمارا گھر ٹھیک نہیں ہو گا ہم بھارت کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ غریبوں کے دینی جماعتیں ایک بڑی طاقت ہے انہیں اختلافات کو بھلا کر آگے آنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے وزیراعظم نواز شریف نے پانامہ لیکس پر تین دفعہ قوم سے خطاب کیا لیکن مقبوضہ کشمیر کے قتل عام پر حکومت نے عوام کے سامنے حقائق رکھنے کی جرات نہیں کی جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ترجیح اول ہی نہیں ہے۔

15 اگست کو بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر کشمیریوں نے یوم سیاہ کا اعلان کیا ہے۔ہم مظفر آباد سے چکوٹھی تک مارچ کریں گے اور کشمیریوں کو بتائیں گے کہ وہ اپنی جدوجہد میں تنہاء نہیں ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ ترکی میں بغاوت کی ناکامی پر وہاں کے حکمرانوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امریکہ کے سامنے جھکنے کی بجائے ڈٹ جائیں پوری امت ان کے ساتھ ہے۔

حکومت ملک میں بچوں کے اغواء کے واقعات کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر نے کہا کہ آج مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے صرف یوم سیاہ منا کر ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔

حکمران فعال کردار ادا کریں۔عوامی مسلم لیگ کے رہنماء شیخ رشید احمد نے کہا کہ دہشت گردی کیوں ہے اس بات کا فیصلہ علمائے کرام نے کرنا ہے۔پاکستان کی سرحدوں کو کوئی خطرہ نہیں اصل خطرہ اندر سے ہے۔بھارت امریکہ کی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بن چکا ہے۔ہمیں اس پر نظر رکھنی چاہیے۔جماعت الدعوۃ کے امیرحافظ محمد سعید نے کہا کہ عالم کفر نے مسلمانوں کے خلاف مل کر جنگ چھیڑی ہوئی ہے اور اتنا پروپیگنڈہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے دفاعی جنگ لڑنے کی بھی گنجائش نہیں رہی امریکہ دنیاکا سب سے بڑا رسا گیرہے۔

رونے دھونے سے معاملہ حل نہیں ہوگا مسئلہ کشمیر اس وقت حل ہوگا جب مذاکرات کی باتیں چھوڑ کر بھارت کو 1948ء کی پوزیشن پر واپس لایا جائیگا۔بھارت کمزور ہوگا تو پوری دنیا اور جنوبی ایشیاء سے دہشت گردی ختم ہوگی۔مسلم لیگ(ن) کے رہنماء سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبدالقیوم نے کہا کہ عالمی دہشت گردی ریاستی دہشت گردی کا دوسرا نام ہے۔افغانستان پر ریاستی دہشت گردی کی گئی اور انسانوں کا قتل عام کیا گیا۔

ہماری کشمیر پالیسی کی بنیادیں اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور عالمی برادری نے مسئلہ کشمیر پر دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے کنونیئر غلام محمد صفی نے کہا کہ بھارت معصوم کشمیریوں کو ظلم و ستم کانشانہ بنا کر دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔لوگوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل پر قبضہ،ریاستی باشندوں کو بے دخل کرنا،آبادی کے تناسب کوتبدیل کرنا بھی دہشت گردی ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان میں نظریاتی،معاشی سطح پر تقسیم پھیل رہی ہے اور سرحدوں پر خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کی آڑ میں اصل ذمہ دارانہ کو نظر انداز کر کے مدارس ،مساجد،خانقاگاہوں اور امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد نئی لہر پیدا ہوئی ہے۔

پاکستانی قوم کو کشمیریوں کی پشت پر کھڑا ہوناہوگا۔ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر آصف لقمان قاضی نے کہا کہ دہشت گردی کا نشانہ مسلمان ہی بن رہے ہیں اور اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کر کے خون ریزی کے ساتھ جوڑا جارہا ہے۔تنظیم اسلامی کے سربراہ حافظ عاکف سعید نے کہا کہ نائن الیون کا ڈرامہ کر کے افغانستان پر حملہ کیا گیا عالمی دہشت گرد امریکہ اور اس کی حلیف قوتیں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔

علمائے و مشائخ کونسل کے چیئرمین خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کو سنجیدگی سے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔مولانا اسد ا? بھٹو نے کہا کہ مدارس دہشت گردی کے مراکز نہیں بلکہ اس کے خلاف ہیں دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑنا افسوسناک ہے۔تحریک اسلامی کے رہنماء علامہ عارف واحدی نے کہا کہ ہم صرف دہشت گردی کے خلاف صرف رسم بیانات تک محدود ہیں۔

امت کو متحد کرنے کی ضرورت ہے۔فرقہ واریت کو فروغ دینے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔پشاور یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ایاز نے کہا کہ ہمیں امکانات اور مواقع پر بھی غور کرنا چاہیے داعش جیسی تنظیم کو مسلمانوں کی مقبولیت کو بدنام کرنے کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔ملی یکجہتی کونسل خیبرپختونخوا کے صدر پروفیسر ابراہیم خان نے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی کوروکنے کے لیے افغانستان کو پر امن بنانا ہوگا اور شام کے اندر امن کے لیے ترکی اور ایران کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔

ملی یکجہتی کونسل کے رہنماء علامہ امین شہیدی نے کہا کہ عالم اسلام اور عالم کفر کے لیے پوری دنیا میں اہم مسئلہ اسرائیل ہے۔عالم کفر اسرائیل کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے اور اس کے لیے شام میں جنگ چھیڑی گئی ہے۔اس موقع پر کوئٹہ میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید اور زخمیوں کے لیے مغفرت اور جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 22:13:55

اپنی رائے کا اظہار کریں