کراچی کی عوام نے بہت کچھ برداشت کیا ہے کبھی ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں کبھی دہشت گردوں ..
تازہ ترین : 1

کراچی کی عوام نے بہت کچھ برداشت کیا ہے کبھی ٹارگٹ کلرز کے ہاتھوں کبھی دہشت گردوں کے ہاتھوں اور اب جب امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگئی ہے تو صفائی ستھرائی اور کچرے کے ڈھیر کو ٹھکانے لگانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا اجلاس سے خطاب

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء)وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کی عوام نے بہت کچھ برداشت کیا ہے کبھی ٹارگیٹ کلرز کے ہاتھوں کبھی دہشت گردوں کے ہاتھوں اور اب جب امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگئی ہے تو صفائی ستھرائی اور کچرے کے ڈھیر کو ٹھکانے لگانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے،انہوں نے کہا کہ کراچی والے بشمول میرے یہ بہت زیادہ تکلیف دہ ہے،وہ پیر کونیو سیکریٹریٹ میں اجلاس سے خطاب کررہے تھے،اجلاس میں صوبائی وز یر بلدیات جام خان شورو ، چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ترقیات) محمد وسیم ، پرنسپل سیکریٹری نوید کامران بلوچ ، کمشنر کراچی اعجازاحمد، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی لئیق احمد ، سیکریٹری اطلاعات اعجاز میمن تمام ڈی سیز اور ڈی ایم سیز کے ایڈمنسٹریٹرز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت پر ادھر ادھر سے کچرا اٹھانے کے حوالے سے تنقید ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت سنگین صورتحال ہے اور لوگ کے احتجاج کر رہے ہیں اور ان کی شکایات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت انہیں ریلیف دینے کا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر اور ڈی ایم سی ایڈمنسٹریٹرز نے کہا کہ انہیں سوئیپرز کی قلت کا سامنا ہے ۔ لہذا فرنٹ لائن سے صفائی اور کچرا صحیح طریقے سے نہیں اٹھایا جارہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ کے پاس مسلمان سوئیپرز ہیں آپ لوگ (ڈی ایم سی ایڈمنسٹریٹرز) جائیں اور ان سے کہیں وہ کام پر واپس آجائیں جو نہ آئیں انہیں نکال دیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سوئیپرز کی یونیفارم پہننے کی بھی ہدایت کی جائے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ایڈمنسٹریٹرز کو اجازت دی کہ وہ ڈیلی ویجیز کی بنیاد پر سوئیپرز بھرتی کر سکتے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈی ایچ اے ملیر اور قیوم آباد میں کچرا پھینک رہا ہے اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر پر زور دیا کہ وہ ڈی ایچ اے ایڈمنسٹریٹرز سے بات کریں اور اس مسئلے کو حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پتھاروں اور اس قسم کی دیگر تجاوزات کے حوالے سے بھی شکایات ہیں ۔ انہوں نے کے ایم سی اور ڈی ایم سیز کو ہدایت کی کہ وہ بی اوآر کی اینٹی انکروچمنٹ پولیس کی مدد سے ان تجاوزات اور پتھاروں کو ہٹا دیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ڈی ایم سیز کو اہم سڑکوں مثلاً آئی آئی چندریگر روڈ ، مائی کلاچی ، ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، ابو اصفہانی روڈ سفاری پارک سے، یونیورسٹی روڈ ، شاہراہ فیصل ، ضلع وسطی کی مین سڑکوں اور دیگر سے کچرے کا خاتمہ کیا جائے ۔ وہاں موجود کچرے کو لازمی طور پر ہٹایا جائے اور وہاں پر سڑکوں کے ساتھ پودے لگائے جائیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ فرنٹ لائن سے اٹھایا گیا کچرا کھیل کے میدانوں اور پارکوں میں پھینک دیا جاتا ہے ۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پارکوں اور کھیل کے میدانوں کو گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن (جی ٹی ایس) میں تبدیلی کرنا کسی بھی قیمت پرقابل قبول نہیں۔ لہذا مقررہ جی ٹی ایس کی وضاحت کی جائے اور اس کے نام کے بورڈز عوام کی آگاہی کے لئے نصب کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام ڈی ایم سیز ، کے ایم سیز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ناکارہ گاڑیوں اور مشینری کی انوینٹری ان کے پرنسپل سیکریٹری کے دفتر میں جمع کرا دیں ۔

انہوں نے کہا آپ کی انوینٹری کے کالمز میں سڑکوں پر گاڑیوں /مشینری ، آف روڈ اور ضروریات کی تفصیلات درج ہونا چاہیں۔ تاکہ اس حوالے سے ضروری کاروائی عمل میں لائی جاسکے ۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ موصول ہونے والے کوڑے دان سڑکوں کے ساتھ یا خالی گراؤنڈ ز کے ساتھ رکھے جائیں۔ ایک کوڑے دن اسے سی ایل سی کے دفتر نزد گورنر ہاؤس اور چند دیگر علاقوں میں رکھے جا ئیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ گذشتہ کئی سالوں سے پریزینٹیشن اور بریفینگس دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نتائج چاہتا ہوں آپ لوگ سخت محنت کے ساتھ کام کریں۔ آپ کی سخت محنت آپ کی سب سے بڑی سفارش ہے نہیں تو میں کو ئی بھی سفارشات نہیں سنوں گا۔ کراچی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ خصوصی بچوں اور یتیموں کی دیکھ بھال ایک بڑی عبادت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ آپ کی بہترین عبادت ہوگی جب آپ انہیں معاشرے کا کارآمد رکن بنائیں گے۔ انہوں نے یہ بات آج اسپیشل اور یتیم بچوں کے خیابان اطفال و نونہال اور دارلسکون کے دورے کے موقعہ پر کہی جہاں پر انہوں نے یوم آزادی کے پروگرامز میں شرکت کی۔ اس موقعہ پر بچوں نے قومی نغمیں اور ٹیبلوز پیش کئے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقعہ پر بچوں کے ساتھ گھل مل گئے اور انہوں نے ان میں تحائف اور قومی پرچم بھی تقسیم کئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے دارلسکون کی نئی عمارت کی تعمیر کے لئے 100ملین روپے کی امداد دینے کا بھی اعلان کیا تاکہ مزید بچوں کو رہائش کی سہولیات میسر آسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کی خدمات سے متاثر ہوا ہوں اور آپ لوگوں کی مدد کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 21:38:34

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں