سول ہسپتال کوئٹہ کے ایمرجنسی وارڈز پرصبح 9 بج کر 55 منٹ پر خود کش دھماکہ ہوا،اس ..
تازہ ترین : 1

سول ہسپتال کوئٹہ کے ایمرجنسی وارڈز پرصبح 9 بج کر 55 منٹ پر خود کش دھماکہ ہوا،اس میں 69 افراد جاں بحق ، 108 افراد زخمی ہوئے ہیں ، وزیر مملکت داخلہ بلیغ الرحمان کی ایوان کو بریفنگ ، دھماکے میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیرعبدالقادر بلوچ ، نوید قمر اور دیگر کا کوئٹہ واقعہ پر بحث کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء ) قومی اسمبلی کے ارکان نے کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد پاکستانی قوم کے حوصلوں کو شکست نہیں دے سکتے ، ہسپتال میں دہشت گردی بزدلانہ کارروائی ہے ۔ پوری قوم دہشتگردوں کے خلاف متحد ہے اور اتحاد اور یکجہتی سے دہشتگردوں کو عبرت ناک شکست دی جائے گی ، حکومت دہشتگردی کے واقعات پر قابو پانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر کسی رو رعایت کے بغیر عملدرآمد یقینی بنائے ۔

پیر کو قومی اسمبلی میں کوئٹہ سانحے پر بحث کا آغاز پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کیا ۔ قبل ازیں وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے بحث کے لئے قواعد و ضوابط معطل کرنے کی تحریک کی ایوان نے منظوری کرائی جس کے بعد وزیر مملکت بلیغ الرحمن نے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کرائی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس دو روز کے وقفہ کے بعد پیر کی شام سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا ، نعت رسول مقبولؐ کے بعد سپیکر نے کہا کہ 90 سے زائد افراد کوئٹہ کے سانحہ میں جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے اور میں 100 سے زائد لوگ زخمی ہیں ،ہاؤس بزنس ایڈوائزری میں فیصلہ ہوا ہے کہ ایجنڈے کی معمول کی کارروائی معطل کرکے اسی سانحہ پر بحث کرائی جائے گی۔

وفاقی وزیر زاہد حامد نے تحریک پیش کی کوئٹہ میں پیش آنے والے واقعہ کو زیر بحث لانے کے لئے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کی جائے ۔ تحریک کی منظوری کے بعد زاہد حامد نے تحریک پیش کی کہ قاعدہ 259 کے تحت ایوان میں سانحہ کوئٹہ کو زیر بحث لایا جائے ۔ تحریک کی منظوری کے بعد سید نوید قمر نے تجویز دی کہ پہلے شہداء کے لئے دعائے مغفرت کرائی جائے ۔

سپیکر کے کہنے پر وزیر مملکت برائے داخلہ بلیغ الرحمن نے فاتحہ خوانی کرائی ۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے انجینئر بلیغ الرحمن نے بھی بیان دیتے ہوئے کہا کہ پیر کی صبح 8 بج کر 43 منٹ پر بلال کاسی کو گھر سے عدالت جاتے ہوئے راستہ میں میں تین دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کیا جب ان کی میت ہسپتال پہنچائی گئی تو سول ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈز پر 9 بج کر 55 منٹ پر خود کش دھماکہ ہوا جس میں 69 افراد جاں بحق اور 108 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔

سپیکر نے کہا کہ کوئٹہ سانحہ میں میڈیا کے لوگ بھی شہید ہوئے ہیں ۔ اس لئے پارلیمانی رپورٹرز نے سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنا احتجاج رجسٹرڈ کرایا ہے ۔ انہوں نے وفاقی وزیر برجیس طاہر کو ہدایت کی کہ وہ پریس گیلری میں جا کر صحافیوں سے بات چیت کریں ۔ اس دوران سید نوید قمر نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے سانحہ کوئٹہ پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر انسان کی جان بے انتہا قیمتی ہے ۔

آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد ہم نے جو فیصلے کیے تھے ان کو ہمیں مدنظر رکھ کر آگے بڑھنا ہو گا ۔ اس وقت اے پی سی میں جو لائحہ عمل مرتب ہوا تھا حکومت کو بتانا چاہئے کہ ان فیصلوں پر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ساری اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ساتھ ہے ۔ اس لعنت کے خاتمے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ کوئی دہشت گردی کی جرات نہ کر سکے ۔

وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری قوم متحد ہونا چاہیے ۔ جب تک ملک کا ہر شہری دہشت گردوں کے خلاف کھڑا نہیں ہو گا مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ شرارت کہاں سے ہو رہی ہے ۔ مذہب کا نام استعمال کرکے انتہا پسندی ہو رہی ہے اس کے سدباب کے لئے مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر مذہبی لیڈروں اور جماعتوں کو آگے آنا ہو گا ۔

انہوں نے کہا کہ تعصبات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحادو یگانگت پیدا کرنی چاہیے ۔ تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کا ساتھ دیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے ۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ کوئٹہ میں جس پیمانے پر دہشت گردی ہو ئی ہے پوری قوم کو گہرا صدمہ پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات پر صرف تعزیت اور مذمتی بیانات کافی نہیں ہیں اصل بات یہ ہے کہ ہم دہشتگردی کے واقعات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں ۔

ایسے اقدامات ہونے چاہیے کہ خود کش حملہ آور ایسی کارروائیوں کے لئے پہنچ نہ سکیں ۔ نیشنل ایکشن پلان بن گیا مگر کریمنل جسٹس سسٹم پر کام آگے نہیں بڑھ سکا۔ جب تک ہر سطح پر دہشتگردی کے خلاف اقدامات نہ اٹھائے گئے ایسے واقعات ہوتے رہیں گے ۔ ریاست کو چاہیے کہ دہشتگردوں کی رسائی معصوم شہریوں تک رسائی کو روکنے کے لئے اقدامات اٹھائے ۔ اس کے لئے انٹیلی جنس نظام کو بہتر بنانا ہو گا

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 20:23:09

اپنی رائے کا اظہار کریں