سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونیوالے اپنے ساتھی کیمرہ مینوں کی شہادت پر صحافیوں کا قومی ..

سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونیوالے اپنے ساتھی کیمرہ مینوں کی شہادت پر صحافیوں کا قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ

صحافیوں نے حکومتی نمائندوں کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا، مسلسل عدم توجہی پر تحفظات کا اظہار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔8 اگست ۔2016ء) سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے اپنے ساتھی کیمرہ مینوں کی شہادت پر صحافیوں نے پیر کو قومی اسمبلی کی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔ -صحافیوں نے حکومتی نمائندوں کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور حکومت کی مسلسل عدم توجہی پر تحفظات کا اظہار کیا۔کوئیٹہ بم دھماکہ میں دیگر شہریوں کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے اپنے ساتھی کیمرہ مینوں کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کے لئے صحافیوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پریس گیلری سے علامتی واک آوٹ کیا۔

اسپیکر کی ہدایت پروفاقی وزیرچوہدری برجیس طاہر اور عرفان صدیقی پریس لاؤنج میں آئے اور صحافیوں سے بات کی۔ پی آر اے کے صدر صدیق ساجد۔ نائب صدر ارشد وحید چوہدری۔ پریس کلب کے سابق صدر شہریار خان اور پریس کلب کے نائب صدر آصف بھٹی نے حکومتی نمائندوں کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا اور حکومت کی مسلسل عدم توجہی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پولیس اور فوج کے طرح صحافیوں کے لئے بھی خصوصی شہدا? پیکج کا اعلان کریں۔

صحافیوں کے لئے جرنلسٹ ویکٹم فنڈ اور انڈوونمنٹ فنڈ کے قیام کا فوری اعلان کیا جائے۔ پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے صحافی اور ورکرز کے لواحقین کو کم سے کم پچاس لاکھ روپے اور پلاٹ بطور معاوضہ کی ادئیگی کو یعقینی بنایا جائے۔۔ ویج بورڈ کا اطلاق ٹی وی چینلز پر بھی کیا جائے اور ہیلتھ و لائف انشورنس کو بھی یعقینی بنایا جائے۔

جبکہ حا?یوں کے تحفظ کے لئے پارلیمان کی کمیٹی قائم کی جائے۔ صحافیوں نے اپنے واک آوٹ کے دوران بھی ایوان میں کاروائی جاری رکھنے پربھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون تو قرار دیتی ہے مگر صرف زبانی کلامی کبھی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔ مختلف اوقات میں صحافیوں کے واک آوٹ اور احتجاج کے باوجود صحافیوں کی سلامتی۔

معاوضوں کی ادئیگیوں۔اور حکومتی اعلانات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ -صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے تمام شکایات اور سفارشات تحریری طور پر وزیر اعظم تک پہنچاوں گا اور-صحافیوں کا کیس موثرانداز میں وزیر اعظم کے سامنے پیش کروں گا۔ صحافیوں سے کیے گئے وعدہ کی تکمیل کی بھرپور کوشش کروں گا۔-اگر نہ کر سکا تو کم از کم ان کے ساتھ بائیکاٹ میں ضرور شریک ہوں گا۔ وفاقی وزیر چوہدری برجیس طاہر نے کہ جب بھی عرفان صدیقی وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے جائیں گے ساتھ جاوں گا۔ کوشیش کریں گے کی آپ کے مطالبات اچھے انداز سے آگے پیش کریں۔

وقت اشاعت : 08/08/2016 - 20:09:24

اپنی رائے کا اظہار کریں